530

ابھی کہیں کہیں ہڈیوں پر گوشت باقی ہے….محمد اظہارالحق

وفاقی حکومت کے سرکاری مکانوں کے محکمے نے عالم بے بدل، فاضل اجل، صدر مملکت جناب ممنون حسین کی خدمت میں ایک خط پیش کیا ہے۔ اس سرکاری کاغذ پر ان کے نام باتھ آئی لینڈ کراچی کا ایک مکان الاٹ کیا گیا ہے جس میں مکرم ومحترم ریٹائرمنٹ کے بعد بود و باش اختیار کریں گے۔ چونکہ ’’قانون کی رو سے صدر مملکت کو عہدے سے سبکدوش یا ریٹائر ہونے کے بعد یہ استحقاق حاصل ہے کہ انہیں سرکاری مکان الاٹ کیا جائے۔‘‘ اس لیے صدر ممنون حسین کو یہ ’’جھونپڑی‘‘ الاٹ کی گئی ہے۔ اہل کراچی اچھی طرح جانتے ہیں کہ باتھ آئی لینڈ کا علاقہ ’’غریبوں‘‘ کے لیے مخصوص ہے۔ ایسے ’’غریب‘‘ جن پر امیر بھی رشک کریں! عالم بے بدل فاضل اجل صدر ممنون حسین جب ستمبر میں ایوان صدر کو داغ مفارقت دیں گے اور جب ایوان صدر ان کے فراق میں دھاڑیں مار مار کر روئے گا تو انہیں اس مکان کا قبضہ دے دیا جائے گا۔ بے چارے صدر ممنون حسین! جن کے پاس ریٹائرمنٹ کے بعد رہنے کے لیے مکان ہی نہیں۔

وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر رہے۔ اس وقت شاید وہ خیمے میں رہتے تھے۔ ہو سکتا ہے رات کسی مسجد میں فرش پر سو کر گزارتے ہوں۔ اب ایوان صدارت سے نکلیں گے تو تاحیات سرکاری مکان میں رہیں گے۔ ہماری حکومتیں بھی غریب بے گھروں کے لیے کیا کیا خیراتی کام کرتی ہیں۔ ایک بے گھر کو چھت مل جائے گی۔ ایک غریب کو سر چھپانے کی جگہ میسر آجائے گی۔ اس کا خرچ ہم آپ ٹیکس گزار ادا کریں گے۔ اس غریب مفلس سابق صدر کو مفت رہائش مہیا کر کے ہم ٹیکس دھندگان کو یہ اطمینان تو نصیب ہو گا کہ چلو ایک مفلس کی کفالت تو کر رہے ہیں۔ بھارتی صدر عبدالکلام کو ایوان صدر سے نکلنے پرسرکاری مکان الاٹ ہوا تھا اس لیے کہ اس کے پاس بھارت میں اپنا گھر کہیں بھی نہیں تھا۔

دنیا سے رخصت ہوا تو اس کا ترکہ کیا تھا، اڑھائی ہزار کتابیں، کلائی والی گھڑی، چھ قمیضیں، چار پتلونیں، تین سوٹ، جوتوں کا ایک جوڑا۔ گزارا اپنی تصنیف کردہ چار کتابوں کی فروخت پر تھا اور اس پنشن پر جو سرکار سے ملتی تھی۔ دوران صدارت ملنے والے تحائف میں سے اس نے ایک تحفہ بھی اپنے لیے نہ رکھا۔ ہر تحفے کا، چھوٹا تھا یا بڑا، سرکاری کاغذوں پر اندراج ہوتا اور سیدھا ریاستی توشہ خانے میں پہنچا دیا جاتا۔ یہ وہ تحائف تھے جو غیر ملکی مہمان پیش کرتے۔ رہا معاملہ وطن کے اندر کا تو کتاب کے علاوہ وہ کوئی تحفہ وصول ہی نہ کرتا تھا۔ بہت انکسار کے ساتھ معذرت کرتا اور واپس کردیتا۔ جن دنوں ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ وزیراعظم آنکھوں پر محدب عدسہ لگا کر منصب صدارت کے لیے موزوں امیدوار تلاش کررہے تھے۔

انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ سرتاج عزیز کو صدر مقرر کردیں تاکہ کم از کم ایک بار تو ہم بھی بھارت کے سامنے سر اٹھا کر کہہ سکیں کہ دیکھو، ہمارے ہاں کا صدر بھی سکالر، مصنف اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے مگر سرتاج عزیز ساری زندگی لاہور میں گزارنے کے باوجود اشیائے خورد ونوش پکانے اور پیش کرنے کا فن نہ سیکھ سکے۔ دہی بڑے اور حلیم کی سوغاتیں پیش کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ اس سے پہلا انتخاب بھی میاں نوازشریف کا اپنی مثال آپ تھا۔ ایک جج صاحب کو اٹھایا اور تخت صدارت پر براجمان کردیا۔ ایک روایت یہ تھی کہ اباجی کے پسندیدہ وفاداروں میں سے تھے۔ دوسری روایت نسبتاً طویل ہے۔ اس میں بریف کیس کا اور کوئٹہ کا ذکر آتا ہے۔

کیا کسی کو معلوم ہے کہ یہ حضرت اب کہاں قیام پذیر ہیں۔ کیا یہ اپنے گھر میں رہ رہے ہیں یا یہ بھی جناب ممنون حسین کی طرح بے گھر ہیں اور ہمارے آپ کے ٹیکسوں سے سرکاری گھر میں لطیفہ آرا ہیں؟ ریاست پاکستان کا دل بہت بڑا ہے۔ اگرچہ غریب بہت ہے۔ بیرونی قرضوں سے بیچاری کا بال بال اٹا ہے مگر فیاض اتنی کہ جس کا جی چاہے نوچ لے، آکر ماس کھالے، ہڈیاں تک چچوڑ لے، بزنس مین اس مرتبے کے کہ کراچی جیسے شہر کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر، پھر پانچ برس صدارتی ایوان میں مستقل سرکاری مہمان مگر حسرت ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یہی کہ ریاست پاکستان ہی کفالت کرے، استحقاق ذرا سا بھی نہیں چھوڑنا، بروئے کار لانا اور ضرور لانا ہے۔ واہ سبحان اللہ۔ لیاقت علی خان شہید ہوئے تو کرنال کے اس خاندانی نواب کے پاس اپنی چھت نہیں تھی۔ جمشید مارکر نے اپنی تصنیف ’’کور پوائنٹ‘‘ میں تفصیل لکھی ہے۔

چالیس ہزار روپیہ کل اثاثہ تھا۔ ریاست نے ان کی بیوہ کو چھت مہیا کی۔ عبدالکلام کے مقابلے میں ہمارے قومی سائنسدان نے ذرا ’’حقیقت پسندی‘‘ کا مظاہرہ کیا۔ قوم پر احسان کیا مگر مفت نہیں۔ اسلام آباد کے نواح میں ایک صاف شفاف جھیل کے کنارے، جہاں مکان بنانا منع تھا، محل تعمیر کیا۔ ایک غیرقانونی عمل! پھر دیکھتے دیکھتے وہاں پورا غیر قانونی شہر آباد ہو گیا۔ قوم نے ’’محسن پاکستان‘‘ کا خطاب دیا مگر ’’شکرگزاری‘‘ کا یہ عالم کہ شکوہ کناں ہی رہے۔ مجھے یہ نہیں بنایا، مجھے فلاں منصب نہیں سونپا گیا۔ قوم تو کسی موقع پر کچھ نہیں کرسکتی۔ بھیڑوں کا ایک گلہ۔ قوم یہ تک نہیں پوچھ سکتی کہ حنیف عباسی کو تو الیکشن سے چار دن پہلے سزا دے دی گئی، ملتان کے سید زادے کا کیا بنا؟ اور وہ بیوروکریٹ جس نے نو ہزار کلوگرام ایفی ڈرین کا کوٹہ الاٹ کیا پھر وزیراعظم گیلانی کا پرنسپل سیکرٹری بنا، پھر ملک سے فرار ہوگیا۔ رئوف کلاسرہ صاحب سے گزارش ہے کہ کھوج لگائیں یہ ذات شریف اب کہاں ہیں، کس ملک میں ہیں؟ ان کی جائیداد عدالت نے ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ ضبط ہوئی یا نہیں؟ یہ پرنسپل سیکرٹری کی پوسٹ بھی ’’کھل جا سم سم‘‘ سے کم نہیں۔ یہاں جو بھی آیا باون گز ہی کا نکلا۔ یوسف رضا گیلانی صاحب کی وزارت عظمیٰ کے دوران ایک مفرور واپس آیا۔

پرنسپل سیکرٹری بنا۔ گھنٹوں کے حساب سے فائلیں دوڑیں، بائیس گریڈ ملا۔ ظاہر ہے فرار ہونے کا دورانیہ بھی نوکری میں شمار کرلیا گیا ہوگا۔ بہن کو بھی ترقی دلوائی۔ بہت بڑی پوسٹ پر لگوایا۔ پھر اپنی تعیناتی بیرون ملک کروالی۔ تاکہ حکومت بدلے تو پانچوں انگلیاں گھی سے اور سرکڑاہی سے باہر نہ نکلے۔ اس کے مربی اور سرپرست نے کمال چابکدستی سے وفاقی محتسب کی آسامی پر قبضہ کیا۔ یہ وہی صاحب ہیں جن کے حوالے سے رئوف کلاسرہ نے خبر بریک کی تھی کہ لاکھوں کے حساب سے سرکاری خزانے سے عیدی لی۔ ایک اور صاحب پرنسپل سیکرٹری بنے تو متعلقہ فائل روک لی۔ اشتہار دیکھ کر جنہوں نے درخواستیں دی تھیں وہ دیکھتے رہ گئے اور یہ ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ بن گئے۔ پانچ سال بادشاہی کی۔ ریاست پاکستان کتنی فیاض ہے۔ نوچیے ماس کھائیے، ہڈیاں تک چچوڑ جائیے، بھنبھوڑیے، ابھی کہیں کہیں ہڈیوں پر گوشت باقی ہے۔

(بشکریہ نائٹی ٹو)

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں