242

امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا

اس اقدام کے باوجود اسرائیل اور فلسطین کی خود مختار حیثیت قائم ہے،ٹرمپ، فوٹو: فائل
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔
وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کررہے ہیں اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کے لیے عملی اقدامات کو حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال سے کسی امریکی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر پیش رفت نہیں کی تاہم اتنے طویل عرصے کے بعد ہم دیرینہ امن کے قریب ہیں، مقبوضہ بیت المقدس کامیاب جمہوریتوں کا دل ہے اور یہاں اسرائیلی پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا اقدام امن کے لیے ناگزیر تھا اس اقدام کے باوجود اسرائیل اور فلسطین کی خود مختار حیثیت قائم رہے گی جب کہ مقبوضہ بیت المقدس میں تمام مذاہب کے ماننے والے پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معلوم ہے اس فیصلے کی مخالفت کی جائے گی تاہم امریکا دو ریاستی نظریے کی مشروط حمایت کرتا ہے ہمیں نفرت کی نہیں بلکہ بردباری کی ضرورت ہے اور اپنی نسلوں کو تنازعات کے بجائے امن دے کر جانا چاہتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ہدایت کی ہے کہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کی تیاری کی جائے جب کہ انہوں نے خطے کے لیڈروں سے امن کی تلاش کے لیے ملکر کام کرنے کی بھی اپیل کی، ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط بھی کردیے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان نے امریکا کو اپنے سفارتخانے کی القدس منتقلی کے اقدام سے گریز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں بالخصوص اس کی 1980ء کی قرارداد نمبر478 کی کھلی خلاف ورزی ہوگی جب کہ اس اقدام سے اس معاملے پر گزشتہ کئی عشروں سے قائم عالمی مفاہمت، علاقائی امن اور سلامتی اور مشرق وسطی میں دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔
دوسری جانب ترک صدر طیب اردگان نے امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا اقدام مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر کی مانند ہے، ٹرمپ اس لائن کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں، یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا، کیا امریکا نے تمام کام کرلیے ہیں جو اس کے کرنے کے لیے صرف یہی ایک کام رہ گیا ہے۔
ادھر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بھی امریکی صدر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے تقدس کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور ان مقامات سے مسلمانوں کی وابستگی بہت گہری ہے۔ اس نازک معاملے پر کسی بھی متنازع امریکی فیصلے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے گی، امریکا کا یہ فیصلہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کے عمل کو ناصرف متاثر کرے گا بلکہ خطے میں تناؤ اور کشیدگی میں اضافے کا بھی باعث ہوگا۔
فرانس نے بھی امریکی سفارت خانے کی منتقلی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جب کہ فرانسیسی صدر ایمونیل میکرون نے امریکی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتین یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے تاریخی فیصلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جب کہ اسرائیل اور اسرائیلی عوام ہمیشہ آپ کے شکر گزار رہیں گے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں