898

’’انوکھا لاڈلا۔کھیلن کو مانگے چاند رے‘‘… مستنصر حسین تارڑ

گرمیوں کے حبس آلود موسم تھے۔ ہوا ٹھہری ہوئی تھی اور ہمارے اوپر جو آسمان کا گنبد قوس ہوتا تھا اس میں دمکتے ستارے بھی ٹھہرے ہوئے تھے میں شائد پانچ برس کا تھا۔ اپنے ابا جی کے پہلو میں چارپائی پر لیٹا ایک بچے کی حیرت سے ستاروں کو تکتاجاتا تھا۔ وہ میری سحر زدہ آنکھوں میں اترتے جاتے تھے۔ جب میں نے کہا ’’ابا جی۔ کیا یہ ستارے میری مٹھی میں آ سکتے ہیں کیا میں انہیں حاصل کر سکتا ہوں؟‘‘تو انہوں نے جو کہا وہ میرے تقریباً اسی برس کے ضبط شدہ دماغ میں ابھی تک نقش ہے۔ بیٹے اگر تم طے کر لو۔ مکمل طور پر نیت کر لو کہ ہاں میں یہ ستارے حاصل کر سکتا ہوں توڑ کر لا سکتا ہوں تو ایسا ہو جائے گا ۔ میں نے اگلی کچھ راتیں بستر پر لیٹے ہوئے آسمان میں ٹانکے ہوئے ستاروں کو پوری نیت اور ارادے سے حاصل کرنے کی کوشش کی پر ایسا نہ ہوا تو میں نے ابا جی سے شکائت کی تو وہ کہنے لگے نہیں تمہاری نیت مکمل نہ تھی۔

تمہارے یقین میں کمی تھی ورنہ ایسا ہو جاتا۔ عمران خان کی تقریر بھی ایک چھوٹے سے بچے کی معصوم تقریر تھی وہ پاکستان کو سنوارنا چاہتا ہے۔ خوبصورت بنانا چاہتا ہے‘ خاک نشینوں کو تخت پر بٹھانا چاہتا ہے۔ اداروں کو مضبوط کرنے کا خواہش مند ہے۔ اس ریاست کو میرے پیارے رسولؐ کی مدینے والی ریاست ایسی بنانے کی آرزو کرتا ہے۔ انصاف کے وعدے کرتا ہے ایک سادہ سفید شلوار کرتہ‘ شکنوں بھرا وہ گویا آسمان سے ستارے توڑ لانے کے وعدے کرتا ہے جو ناممکن ہے اسے ممکن بنانا چاہتا ہے اور ہاں اس کے چہرے پر دشمنوں کو زیر کرنے والا کوئی تکبر نہیں۔ البتہ اس نے اپنے سفید بال خوب کالے کئے ہوئے ہیں ہم پہلی بار ایک متوقع وزیر اعظم کو پرچیوں سے پڑھتے بغیر تقریر کرتے سن رہے ہیں۔

بلکہ یہاں تک کہ ہمارے وزیر اعظم ایسے کہ صدر اوباما سے ملاقات پر امریکی صدر کا پورا نام بھی ایک پرچی سے پڑھ رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں آئیے آلو قیمہ کھاتے ہیں ۔عمران خان کی تقریر ایک پانچ برس کے بچے کی تقریر تھی۔ وہ ناممکن کو ممکن بنانے کی خواہش کرتا ہے آسمان سے تارے توڑنا چاہتا ہے مجھے اس کی نیت پر ذرہ بھر شک نہیں اس کے ایمان کی پختگی پر شک نہیں۔ پر ایسا ہو گا نہیں جیسے شیکسپئر نے کہا تھا کہ ویئر از سم تھنگ لائن ان دے سٹیٹ آف ڈنمارک۔ ایسے ہی یہ جو پاکستان کی ریاست ہے اس میں بہت کچھ گلا سڑا اور بدبودار ہے۔ وہ اس بدبو سڑاند کو مکمل طور پر کبھی ختم نہیں کر سکتا۔ البتہ ایک معمولی سا فرق لا سکتا ہے اور ہمارے لیے یہی کافی ہو گا۔یہ کسی کنفیوشس نے نہیں شائد میں نے ہی کہیں لکھا تھا کہ انسان اگر طے کر لے کہ مجھے چاند چاہیے تو چاند نہ سہی ایک آدھ ستارا تو اس کی جھولی میں آ گرتا ہے۔ عمران خان کی بلکہ ہماری جھولیوں میں اگر پاکستان کے مستقبل کا کوئی ایک درخشاں ستارا بھی آ گرتا ہے تو یہی کافی ہے۔ عمران خان کوئی مسیحا نہیں ہے جو مردوں کو زندہ کر دے البتہ ایک ایسا شخص ہے جو پاکستان کے اب تک ادھڑچکے‘ نوچے جا چکے بدن کو مزید نہیں نوچے گا۔

اس کے درد کی دوا کرے گا۔ ماڈل ٹائون پارک میں سویر کی سیر مجھ پر بہت انکشاف کرتی ہے۔اس پارک میں کووئوں کا راج ہے اس کی وجہ ماڈل ٹائون میں شریفوں کی موجودگی شاید نہیں۔ میرے دوست بھی گواہ ہیں کہ جب کوئی بھولا بھٹکا خوش نما پرندہ پارک کی ہریاول میں بسیرا کرنے کی خاطر آ نکلتا ہے اور اس کے پروں کے رنگ بہت شوخ اور نرالے ہوتے ہیں تو کوے اس پر یلغار کر دیتے ہیں۔ اسے نوچتے ہیں حملہ آور ہو جاتے ہیں‘ اکثر ہلاک کر ڈالتے ہیں اور کبھی کبھار وہ بے چارہ نوچے ہوئے بدن کے ساتھ جان بچا کر فرار ہو جاتا ہے۔ پارک میں کوا راج ہے۔ پاکستان کے پارک میں کبھی ایک رنگین پنچھی ذوالفقار علی بھٹو نام کا آیا تھا۔ بھلا کوئوں کی سلطنت اسے کیسے برداشت کرتی۔ سبھی اسے نوچ کھانے پر آمادہ ہو گئے۔ بائیں بازو کے متعصب اور تنگ نظر دانشور‘ مذہبی جماعتیں۔ بہت سے جنرل حمید گل۔ یہاں تک کہ ہمارے پیارے اڈیالہ جیل کے قیدی کے روحانی اباجی نے اسے پھانسی پر چڑھا دیا۔ درست کہ یہ رنگین پرندہ بھی قدرے قصور وار تھا۔ کرسی کے تکبر میں آ گیا۔ میاں صاحب کے روحانی والد صاحب کو دھمکی دی کہ میں تمہاری مونچھوں سے اپنے بوٹوں کے تسمے بنائوں گا۔ لیکن وہ پھانسی کا سزا وار تو ہرگز نہ تھا۔

وہ پھندے پر جھولا تو جنرل جیلانی کے لیے لے پالک نے مٹھائیاں بانٹیں اور عہد کیا کہ میں مونچھوں والے کے نظریے کو لے کر آگے بڑھوں گا۔ عمران خان بھی ایک ایسا ہی رنگین پروں والا پرندہ ہے خواب دیکھنے والا‘ستاروں کو مٹھی میں بھر لینے والا پنچھی ہے۔ اور مجھے ڈر ہے کہ کوئوں نے اسے جینے نہیں دینا۔ کوے اس کے اتنے بیری ہیں کہ اگر وہ مدینہ منورہ میں قدم رکھتا ہے تو ننگے پائوں چلتا روضہ رسولؐ پر حاضر ہوتا ہے تو اس پر بھی اس پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں۔ یقین جانیے کہ جب میں مدینے کی گلیوں میں اترا تو خواہش یہی تھی کہ ننگے پائوں چلوں لیکن سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ایک رندہے اور پارسابننے کی اور اداکاری کرتا ہے‘ یوں بھی کوشش کی تو پائوں میں کنکر چبھے تو پھر سے چپل پہن لی۔ مجھ میں شائد عمران خان ایسی عقیدت نہ تھی۔ مجھے یقین ہے کہ کسی نہ کسی کوے نے جب وہ عمرے کے لیے گیا تھا اس کے احرام پر بھی اعتراض کیا ہو گا کہ وہ کاندھے سے ڈھلکا ہوا تھا۔

میرے ایک نوجوان دوست سلمان نے ملائشیا سے فون کر کے کہا کہ تارڑ صاحب آج ایک سردار نے ہنس کر کہا شکر ہے پاکستان کو ایک ایسا وزیر اعظم مل گیا جو پرچیوں کے بغیر بھی تقریر کر سکتا ہے تو میں نے سلمان سے کہا کہ اس احمق سکھ سے کہو کہ کیا تمہیں بھٹو یاد نہیں جس نے شملہ میں اپنی جادوگری سے اندرا گاندھی ایسی شاطر عورت کو بیوقوف بنا لیا تھا یا پھر اسے یاد کرائو بھٹو کی مشرقی پاکستان کے سانحے کے حوالے سے یو این او کی تقریر ۔ ہم ہمیشہ سے ایسے نہ تھے پرچیاں پڑھنے والے نہ تھے۔ اب کوّے غل کر رہے ہیں۔ کائیں کائیں کر رہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ الیکشن کمشن کی تشکیل انہوں نے خود کی اور اب احتجاج کر رہے ہیں۔ میں ابھی ابھی ٹیلی ویژن پر ماشاء اللہ سے ایک آل پارٹی کانفرنس دیکھ رہا تھا سب کے سب شکست خوردہ متروک شدہ عوام کے دھتکارے ہوئے سیاست دان‘ فاروق ستار جسے ڈاکٹر عامر لیاقت نے شکست دی۔ چونکہ اس ڈاکٹر نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا اس لیے اس کا استحقاق مجروح نہیں ہو سکتا چنانچہ میں حلفیہ بیان دے سکتا ہوں کہ اس شخص کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔

عمران خان نے اسے پارٹی میں شامل کیا تو ہم سب کا استحقاق مجروح ہو گیا۔ لیکن اب کھلا کہ اس میں بھی ایک حکمت تھی۔ گئے زمانوں میں اگر کسی کو ذلیل کرنا ہوتا تھا تو اسے چماروں کے ہاتھوں جوتے پڑواتے تھے ادھر اڈیالہ جیل میں نواز شریف نے کیا ہی بصیرت افروز بیان دیا ہے کہ اس الیکشن میں مینڈیٹ چوری ہو گیا ہے…کیسے چوری ہو گیا ہے آپ کے لندن کے فلیٹس کی تجوریوں میں تھا جو چوری ہو گیاہے ۔ شہباز شریف ایک حواس باختہ شخص کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنی دھاندلی نہ ہوئی ۔ بھلا میں کیسے ہار سکتا تھا۔ کسی نے کہا کہ دراصل پہلی بار کراچی کے لوگوں نے ڈر کے بغیر ووٹ دیا اور ووٹوں کے صندقوں میں سے اتنے ہی ووٹ نکلے جتنے کہ ڈالے گئے تھے۔ فاروق ستار کے علاوہ وہاں سب کے سب ہارے ہوئے جواری تھے۔

مولانا فضل الرحمن اور بدقسمتی سے سادہ دل اور بھلے مولانا سراج الحق ‘ اچکزئی ‘ عباسی‘ شیر پائو‘ اسفند وہ سب کے سب برج جو اوندھے ہو گئے تھے۔ مجھے خوشی ہے کہ نثار علی خان ان میں شامل نہ تھے کہ ان کی تو لٹیاہی ڈوب گئی تھی۔ چنانچہ عمران خان کی تقریر گویا ناممکن کو ممکن بنانے کی آرزو تھی۔ کمبخت اپنے کرتے شلوار کو استری ہی کروا لیتا۔ یونہی سلوٹ بھرے لباس میں قوم سے خطاب کرنے لگا دل تو بچہ ہے‘ تھوڑا کچا ہے تو یہ عمران خان بھی کچا نہیں۔ بائیس برس کی جدوجہد کی آگ میں پکا ہوا ہے۔ کچا نہیں۔ کیا جانئے وہ پاکستان کے لیے پورا چاند نہ سہی۔ ایک آدھ ستارا ہی توڑ لائے۔ انوکھا ’’لاڈلا ‘‘ ہے کھیلن کو مانگے چاند رے۔ (جاری)

(بشکریہ نائٹی ٹو)

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں