251

ایک ماہ سے ماسکو کی جیل میں قید پاکستانی رہائی و انصاف کا منتظر

ماسکو(احمد اعجاز تبسم سے) روس کے شہر ماسکو میں مقیم پاکستانی جعلی ”آروے پے” لگوانے کے جرم میں ایک ماہ سے جیل میں بند ، سفارت خانہ پاکستان ماسکو، پاکستان کمیونٹی میں کے رہنمائوں میں سے کوئی بھی اس کی مدد کو نہ پہنچ سکا۔تفصیلات کے مطابق پاکستانی تارک وطن شہزاد احمد عرصہ درازسے ماسکو میں مقیم تھا جس نے اپنے کسی دست کو ”آروے پے” لگوانے کا کہا تو اس نے لاکھوں روپے کے عوض اس کو ”آروے پے ” لگوانے کی گارنٹی دی جس پر شہزاد نے پاسپورٹ ان کے حوالے کر دیا ۔

کچھ دنوں بعد شہزاد کو ”آروے پے” لگواکر پاسپورٹ واپس دے دیا گیا اور گارنٹی دی گئی کہ اصلی آروے پے ہے۔اس کے بعد شہزاد 27اپریل کو اپنی رجسٹریشن کروانے ایمیگریشن آفس گیا تو وہاں پر آروے پے کا کوئی ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے اسے گرفتار کر لیاگیا۔ شہزاد احمد کو یقین دلایاگیا کہ بے فکر ہوجائو تمہیں باہر نکلوالیں گے۔

ایک قریبی دوست نے کہا کہ ڈیڑھ لاکھ روبلز میں وکیل کروالیا ہے معاملہ حل ہو جائے گالیکن وہ وکیل آج تک شہزاد کاموقف لینے بھی نہیں جا سکا۔ شہزاد اسی خوش فہمی میں اپیل بھی نہ کر سکا جو کہ اسے دس دن کے اندر کرنا تھی۔ورلڈ پوائنٹ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد احمد کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ شہزاد جعلی آروے پے لگوانے والوں کو بچانے کی خاطر خود قصور وار بنا ہواہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روس میں اس وقت پانچ سو کے قریب پاکستانی ہیں جبکہ پاکستانی ایمبیسی کی طرف سے کسی قسم کی کوئی پیروی نہیں کی گئی ۔حالانکہ ایمبیسیڈر قاضی خلیل اللہ کو اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی چھان بین کرنا چاہئے تھی اور جوپاکستانی اس گھنائونے کاروبار میں ملوث ہیں ان کو بے نقاب کر کے ان کے خلاف کاروائی کرناچاہیئے تھی لیکن ایک ماہ گزر گیا شہزاد بے یارومددگار جیل میں قید ہے ۔

یہاں یہ بھی سوال پید ہوتا ہے کہ روس میں پاکستان کمیونٹی کے دو بڑے گروپ ہیں دونوں طرف سے کسی نے اس کی مددنہیں کی ۔ اگر مشکل وقت میں پاکستانی سفارت خانہ یا کمیونٹی رہنماکسی پاکستانی کی داد سی نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا؟ پاکستان میںشہزاد احمدکے اہل خانہ پریشان ہیں اس کے بھائی عثمان نے حکومت پاکستان، سفیر پاکستان ماسکو سے اپیل کی ہے کہ اس کے بھائی کو رہا کروایا جائے اور اس کے ساتھ جعل سازی کرنے والوںکے خلاف فی الفورکاروائی کی جائے اور پورے معاملہ کی تحقیقات کی جائیں۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں