404

بلا ترکی کے خطے میں کوئی بھی کاروائی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی، صدر رجب طیب ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ بلا ترکی کے خطے میں کسی بھی کاروائی کا کامیابی سے ہمکنار ہونے کے امکانات کافی معدوم ہیں۔

صدر و آک پارٹی کے رہنما رجب طیب ایردوان نے اپنی سیاسی جماعت کے پارلیمانی گروپ سے خطاب کیا، شام کی تازہ صورتحال پر اپنے جائزے پیش کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ 17 ستمبر کو روسی شہر سوچی میں طے پانی والی مطابقت کی رُو سے علاقے میں 10 روز سے فائر بندی پر اطلاق جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ “ادلیب کے گرد ونواح میں 10 حفاظتی چوکیاں ترکی سے تعلق رکھتی ہیں، جنہیں ہم مزید تقویت دے رہے ہیں۔ علاقے میں مذاکرات کی میز پر جو بھی ہو گا اس کو بولنے کا حق حاصل ہو گا۔ یہی وجہ ہے ہم شروع سے ہی یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ ہماری دنیا 5 ملکوں سے بڑی ہے، انشااللہ ہم ساری دنیا میں اس حقیقت کو قبول کرانے میں کامیابی حاصل کریں گے۔”

فرانس ، جرمنی اور روس کے ساتھ استنبول میں ایک سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی توضیح کرتے ہوئے جانب ایردوان نے بتایا کہ “اس اجلاس کے ذریعے ہمارا ہدف اتحادی قوتوں کے ہمراہ روس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر کیا کچھ کر سکنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ ہم نے یہاں سے ہجرت کے ریلوں کا سد باب کیا ہے۔ ادلیب بحران سے دس لاکھ کے قریب مہاجرین کی ترکی آمد متوقع تھی۔ آج تک شام میں ہمارے تمام تر اقدامات میں سے کوئی بھی غلط ثابت نہیں ہوا۔ اب ہم ادلیب میں بھی اس امتحان میں انشااللہ تعالی سرخرو ہوں گے۔ ”

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے بھاری تعداد میں ٹریلروں اور کارگو طیاروں کے ذریعے شام میں دہشت گرد تنظیم PKK کی شاخ پی وائے ڈی کو اسلحہ فراہم کیا ہے۔ یہ اسلحہ کس کے خلاف استعمال کیا جائیگا۔

بلا ترکی کے خطے میں کسی بھی کاروائی اور اقدام کے کامیاب نہ ہونے پر توجہ مبذول کرانے والے صدرِ ترکی نے واضح کیا کہ “یہی صورتحال جزیرہ قبرص اور بحیرہ ایجین کے گرد و نواح میں رونما ہونے والے واقعات کے لیے بھی لاگو ہوتی ہے۔ ہماری سرحدوں کے قریب ہمارے خلاف کاروائیاں کر سکنے کی سوچ رکھنے والے مغالطہ میں ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے زر مبادلہ کے نرخوں کے ذریعے ترک معیشت کو تباہ کرنے کے درپے ہیں، لیکن اب شخصی مفادات کی خاطر ترکی کو مشکلات سے دوچار کرنے کی لہروں کا دور اب آہستہ آہستہ اپنے و جود کو کھوتا جا رہا ہے۔

27 تا 29 ستمبر دورہ جرمنی کا بھی ذکر کرنے والے جناب ایردوان نے کہا کہ”اس دوران کافی فائدہ مند مذاکرات ہوئے ہیں۔ ترکی کے بارے میں غلط سوچ رکھے جانے سے ہم نے آگاہی کرائی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہر معاملے میں باہمی مفاہمت قائم ہو گئی ہے ، البتہ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اب کے بعد کے دور میں جرمنی کے ساتھ ہمارے باہمی تعلقات کہیں زیادہ مثبت ماحول پر آگے بڑھیں گے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں