293

بینظیر بھٹو قتل کیس میں انصاف کے لیے ان کے ورثا نے کچھ نہیں کیا، سعد رفیق


لاہور: وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں حصول انصاف کے لیے ان کے ورثا اور پیپلز پارٹی نے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کیا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں حصول انصاف کے لیے ان کے ورثا اور پیپلز پارٹی نے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کیا جب کہ بینظیر بھٹو، اکبر بگٹی، لال مسجد قتل عام اور ججز نظر بندی کے بڑے ملزم پرویز مشرف کے باہر جانے کا کریڈٹ دھرنا دینے اور دلوانے والوں کوجاتا ہے۔
بے نظیر بھٹو قتل کیس میں حصول انصاف کیلیے ان کے ورثا اور پیپلز پارٹی نے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کیا.

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ نوازشریف نا اہلی کیس اور بینظیرقتل کیس کے نتائج نے نظام پر شبہات میں اضافہ کر دیا ہے اور پرویز مشرف پاکستان کے نظام عدل سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئے۔
بےنظیر بھٹو، اکبر بگٹی،لال مسجد قتل عام اور ججز نظر بندی کے بڑے ملزم پرویز مشرف کے باھر جانے کا کریڈٹ دھرنا دینے اور دلوانے والوں کوجاتا ھے
نوازشریف نا اھلی کیس اور بےنظیرقتل کیس کے نتائج نے نظام پر شبہات میں اضافہ کر دیا ھے.پرویز مشرف پاکستان کے نظام عدل سےزیادہ طاقتورثابت ھوۓ

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجے میں عدلیہ بحال کروالی مگر اس کا وقار اور آزادی بحال نہیں کروا سکے، توانا شفاف اور فعال جمہوریت کے قیام کے لیے اہم اسٹیک ہولڈرز نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔
عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجے میں عدلیہ بحال کروا لی مگر اس کا وقار اور آزادی بحال نہیں کروا سکے.
توانا شفاف اور فعال جمہوریت کے قیام کیلیے اھم سٹیک ھولڈرز نے اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی ھے.
انہوں نے کہا کہ شفاف اور طاقتور جمہوری نظام کے لیے قومی مکالمہ نہ کیا گیا تو داخلی انتشار بڑھ جائے گا جب کہ بیرونی دشمنوں کی ناکامی کے لیے اندرونی مسائل بات چیت سے ہی حل کرنا ہوں گے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں