604

بے نظیر بھٹوقتل کیس کا فیصلہ

علی احمد ڈھلوں

ali.dhillon@ymail.com
کاش پیپلز پارٹی نے جیسے ایان علی کا کیس لڑا، اُسی یکسوئی کے ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس بھی لڑا جاتا۔ کاش جس طرح پیپلز پارٹی نے زرداری کو کرپشن کے بے شمار کیسز سے آزاد کروایا (اورآج اللہ کی مہربانی سے اُن پر کوئی کیس نہیں ہے)اسی طرح محترمہ کے کیس میں بھی اچھے اچھے وکیل میدان میں اُتارے جاتے، تاکہ اصل قاتلوں تک پہنچ کر انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جاتا۔ کاش جس طرح گیلانی اور راجہ پرویز اشرف پر 16،16 مقدمات کی پیروی کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے اسی طرح محترمہ کے قتل کیس پر بھی پارٹی فنڈز کے منہ کھول دیے جاتے۔
کاش جس طرح پیپلز پارٹی میں موجود کئی دوست رہنماء جو ہمیشہ زرداری کا دفاع کرتے نظرآتے ہیں، وہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کا متنازع فیصلہ آنے کے بعد دو لفظ ہی کہہ دیتے۔کاش جس طرح شرجیل میمن اورڈاکٹر عاصم کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے پیپلز پارٹی کی قیادت ڈٹ گئی ہے ، اسی طرح بے نظیر کے معاملے میں بھی ڈٹ جاتی…اور اے کاش کہ جس تندہی سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو مخالفین کے لیے تقریریں تیار کراکے بڑے بڑے جلسوں میں ’’بڑھکیاں‘‘ مارتے نظر آتے ہیں، ایک چھوٹی سی جلسی اور تقریر اپنی والدہ محترمہ کے لیے بھی ہو جاتی تو شاید انھیں تسکین پہنچتی۔
لیکن افسوس جس کیس پر پاکستان کے عوام کے اربوں روپے خرچ کیے گئے، اس میں اگر کسی کو سزا ہوئی بھی ہے تو قتل ہونے کے بعد محض غفلت برتنے والے پولیس افسران کو یعنی ’’بڑے‘‘ پھر سزا سے بچ گئے ، میں نے ’’نیوز لیکس‘‘ کے حوالے سے ایک کالم لکھا تھا جس میں برملااس بات کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان میں ہمیشہ ’’چھوٹوں‘‘کی قربانی دی جاتی ہے۔بڑے ہمیشہ بچ جاتے ہیں،اس کیس کے فیصلے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ حالانکہ پیپلز پارٹی کے دور میں ہی بڑے بڑے دعوے کیے جاتے رہے اور زرداری و رحمان ملک نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ محترمہ کے قاتلوں کو جانتے بھی ہیں اور پہچانتے بھی ہیں لیکن ان سے کسی نے جا کر نہیں پوچھا کہ اس قومی سانحہ کا ذمے دار کون ہے؟
آج جب بے نظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ آچکا ہے سابق صدر پرویز مشرف اشتہاری، ڈی آئی جی سعود عزیز اورایس پی خرم شہزاد کو 17,17سال قیدسزا سنا دی گئی ہے۔حالانکہ ان دونوں پولیس افسران کی محکمہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بہترین افسر ہیں جب کہ سعود عزیز کو تو میں ذاتی طور پر جانتا کہ اُن جیسا پولیس افسر شاید ہی محکمے میں کوئی ہو۔
خیر عدالتی فیصلہ ہے، دعا ہے کہ اپیل میں ان دونوں پولیس افسران کو صفائی کا موقع مل سکے جب کہ ساڑھے نوبرس سے زائد عرصے میں کیس کی 300 سے زائد سماعتیں ہوئیں، 6جج تبدیل ہوئے، 8 چالان پیش کیے گئے جب کہ اس دوران 67 گواہان کی شہادتیں قلمبند کی گئیں۔اس ہائی پروفائل کیس کی تفتیش بالترتیب جے آئی ٹی پنجاب، اسکاٹ لینڈ یارڈ ،اقوام متحدہ، اور ایف آئی اے کر چکی ہیں ۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ اور اقوام متحدہ کو اس کیس کی تفتیش کی مد میں بھاری رقوم سرکاری فنڈز سے فراہم کی گئیں جب کہ پاکستانی اداروں کا خرچہ اس کے علاوہ ہے لیکن ناقص تفتیش اور سیاسی مداخلت نے اس کیس کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔
حالانکہ دنیا نے دیکھا کہ وہ لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک فلمی یا کمانڈو ایکشن کے انداز میں قتل ہوئیں ، سب نے دیکھا، ساری دنیا نے دیکھا، ایک نوجوان پستول سے فائر کر رہا ہے جس سے اُن کا دوپٹہ اڑتا ہے اور وہ گاڑی کے اندر گرجاتی ہیں۔ وہ قتل ہوئیں۔ گڑھی خدابخش میں دفن ہوئی۔بغیر پوسٹ مارٹم کرائے ۔ وزارت داخلہ میں قومی سیکیورٹی کے انچارج بریگیڈیئر چیمہ نے کہا تھاکہ بے نظیر بھٹو کی موت ان کی گاڑی کا ہینڈل سر میں لگنے کی وجہ سے ہوئی۔ چلیں مان لیتے ہیں جی!
خون خاک نشیناں سندھ تھا رزق خاک ہوا
لیکن یہ سوال بھی تو ہے نہ کہ وہ مرسیڈیز کار جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بے نظیر کو لے نکل جانی تھی، وہ ان تین اصحاب کو لے کر کیسے جائے واردات سے اڑ کر بلاول ہاؤس اسلام آباد پہنچی؟اور پھر بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد اسٹیج کی منظر عام پر آنے والی پہلی تصویر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی تقریر کے دوران ایک آدمی مسلسل مشکوک قسم کے اشارے کرنے میں مصروف رہا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ شخص بلاول ہاؤس کا سیکیورٹی انچارج خالد شہنشاہ تھا، قبل اس کے کوئی راز فاش ہوتا،بلاول ہاؤس کے سیکیورٹی انچارج خالد شہنشاہ کو کراچی میں قتل کر دیا گیا۔
بے نظیر بھٹو کے قتل سے متعلق ایک اہم کردار پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار علی تھا، انھیں بھی اسلام آباد میں اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ مقدمے کی سماعت میں حصہ لینے کے لیے عدالت جا رہے تھے، بے نظیر قتل کا مرکزی ملزم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کو قرار دیا گیا مگر کچھ عرصے بعد ایک ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود کو مار دیا گیا۔ ملزم عباد الرحمان عرف عثمان اور نادر عرف قاری اسماعیل فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جب کہ ملزم عبداللہ عرف صدام اور نصراللہ عرف احمد ڈرون حملے میں مارے گئے۔ اور جو ملزمان دس سال سے سیکیورٹی اداروں کی قید میں تھے انھیں عدالتی فیصلے کے مطابق بری کر دیا گیا۔
بہرکیف گزشتہ نو سالوں میں ایک طرف محترمہ کے نام پر سیاسی ڈرامے ہوتے رہے اور دوسری طرف بادل ناخواستہ عدالتی کارروائی جاری رہی۔ بالآخر گزشتہ ہفتے فیصلہ آگیا اور سب کو حیران کرگیا۔ بہر حال بے نظیر بھٹو قتل سے متعلق اس فیصلے نے ایک نیاسوال اٹھا دیا ہے؟ جو شاید آیندہ ہمیشہ موضوع بحث بنتا رہے گا۔
آخر میں یہ بات کرتا چلوں کہ میں محترمہ کے حوالے سے اس لیے جذباتی نہیں ہوں کہ اُن کا قتل ہوا، وہ ایک قومی لیڈر تھیں، محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی شاندار چہرہ تھا اور ہمارے ملک کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید تھا۔وہ ایک معرکۃ الآرا، یگانہء روزگار خاتون، انسان، سیاستکار، اور لیڈر تھی۔ وہ واقعی گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے عوام کے درمیان ایک دن کی زندگی بہتر ہے کے فلسفے پر یقین رکھنے والی تھیں۔ اسی لیے توشاعر نے اُن کے لیے جو الفاظ کہے وہ مجھے آج بھی یاد ہیں۔
وقت کے گزرنے پر تم جو بھول جاؤ گے
ہم تمہیں بتائیں گے بے نظیر کیسی تھی
شہر کے غریبوں میں اک امیر جیسی تھی
بے نظیر بھٹو بس بے نظیر جیسی تھی

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں