739

تقریر کی لذت اور قوم کے خواب….اوریا مقبول جان

عقل وہوش کے پچاس سالوں میں پہلی تقریر جو دیگر حکمرانوں سے مختلف سنی، وہ ذوالفقارعلی بھٹو کی تھی۔ لیکن شاید بھٹو کا مخاطب عالمی طاقتیں تھیں، اس لیے اس نے اپنی پہلی نشری تقریر رات دو بجے انگریزی زبان میں کی۔ تقریر تھوڑا بہت سمجھ میں آئی، باقی اگلے کئی روز اخباروں میں اس کے تراجم آتے رہے۔ اس وقت وہ اس لیے زیادہ حوصلہ افزا لگی تھی کہ مشرقی پاکستان کی شکست کوابھی صرف چند روز ہوئے تھے، دل شکستہ اور بوجھل تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو کی سیاست، نظریات اور شخصیت سے لاکھ اختلاف کے باوجود وہ تقریربہت اچھی لگی۔ اس تقریر کا آغاز اس نے آسکر وائلڈ کے مشہور کردار ڈورین گرے (Dorian Gray) سے کیا تھا۔ اس ناول کا کردار ایک نوجوان لڑکے کی کہانی ہے جو گاؤں میں رہتا ہے، انتہائی شریف النفس اور سادہ دل ہوتا ہے۔ اس کی دوستی ایک مصور سے ہوتی ہے۔

لڑکا شہر جا کر قسمت آزمائی کرنا چاہتا ہے، مصور اسے شہر کی آزاد اور گمراہ کن زندگی سے آگاہ کرتا ہے، لیکن وہ بضد رہتا ہے۔ جاتے ہوئے مصور اسے اس کی ایک تصویر بنا کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تمہیں اس کے چہرے پر کوئی داغ دھبہ نظر آئے تو سمجھنا کہ وہ تمہارے گناہ کا دھبہ ہے۔ ڈورین گرے شہر کی چکاچوند میں گم ہوجاتا ہے اور تصویر کو ایک صندوق میں رکھ کر بھول جاتا ہے۔ شہر میں وہ جرم و گناہ کی دلدل میں پھنس جاتا ہے اور ایک دن ایک قتل کے سلسلے میں گرفتار ہوکر پھانسی پانے لگتا ہے تو اسے وہ تصویر یاد آتی ہے۔ اس کی خواہش کے مطابق اسے صندوق میں سے تصویر نکالنے کی اجازت ملتی ہے، وہ نکالتا ہے تو دیکھتا ہے کہ تصویر کا چہرہ داغ اور دھبوں سے سیاہ ہو چکا ہے۔ بھٹو نے کہا تھا میرے وطن کا چہرہ بھی ہر آنے والے حکمران کے کرتوتوں سے سیاہ ہو چکا ہے۔ لیکن اس تقریر کے بعد بھٹو کے پانچ سال جس آمریت، دہشت، سیاسی انتقام، اداروں کے زوال، بلوچستان میں آرمی ایکشن، تعلیمی انحطاط اور مسلسل مایوسی سے بھرے ہوئے تھے، وہ اس قوم کا بہت بڑا المیہ ہے۔ خواب دکھا کر مایوس کرنے والے خواب نہ دکھانے والوں سے زیادہ برے لگنے لگتے ہیں۔ ٹھیک 37 سال بعد میں آج ایک اور تقریر کے سحر میں ہوں اور یہ سحر بہت شدید ہے۔ عمران خان کی یہ تقریر کوئی خطاب نہیں، ایک عرض حال اور حال دل لگتی ہے۔ مدتوں بعد ایسی گفتگو سننے کو ملی ہے۔ میں اسے گفتگو اس لیے کہوں گا کہ اس میں تقریر کے لوازم بہر طور شامل نہیں ہیں۔ عمران خان پر عمومی طور پر ایک الزام ہماری دینی جماعتیں اور دینی طبقہ لگاتا ہے کہ اس کی پارٹی ایک سیکولر اور لبرل کلچر کی نمائندہ ہے، جس میں اختلاط مرد وزن بہت زیادہ ہے۔ لیکن اس کی پارٹی سے وابستہ سیکولر اور لبرل حضرات کی حالت اس لمحے دیکھنے والی ہوتی ہے جب وہ اپنی ہر تقریر کا آغاز “ایاک نعبدو وایاک نستعین” سے کرتا ہے اور ریاست مدینہ کو اپنا خواب بتاتا ہے۔

یہ اصطلاحات ہی تو ہیں جو ان کے دلوں پر چھریاں چلاتی ہیں۔پوری کی پوری نظریاتی اور تہذیبی جنگ دراصل اصطلاحات سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اصطلاحات کا استعمال آپ کے ذہن میں خواب اور آئیڈیل مرتب کرتا ہے اور آپ ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کرتے ہیں اور پھر ایک دن ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ عمران خان کی اس تقریر میں جتنی دفعہ سید الانبیائﷺکی طرز حکمرانی اور خلافت راشدہ کی اصولی حکومت کا تذکرہ تھا میں نے کسی صدر، وزیراعظم یا اقتدار میں آنے والے ڈکٹیٹر کی افتتاحی تقریر میں نہیں سنا۔ یہ بعد میں موقع کی مناسبت سے ان کی تقریروں میں ان سب کا ذکر مل جاتا ہوگا، جیسے ضیاء الحق کی تقریریں اور بھٹو کی اسلامی کانفرنس کی افتتاحی تقریر، لیکن جس طرح ایک ہی تصورِ حکومت کو عمران خان نے اپنی تقریر میں رسول اکرم ﷺکی تعلیمات اور سنت سے کشید کیا اور بتایا ،ایسا اس قوم کے لئے پہلا تجربہ تھا۔ بات یہاں تک نہیں کہ ریاست مدینہ کے سنہری اصولوں اور خلفائے راشدین کی مثالوں کا تذکرہ کیا گیا ہو، بلکہ مغرب کے کامیاب معاشروں کا تقابل بھی پیش کیا کہ وہ سب اس لیے کامیاب ہوئے کہ انہوں نے اپنے ہاں وہ زریں اصول نافذ کیے جو اسلام نے انسانیت کو سکھائے تھے۔ عمران خان کا یہ فقرہ پوری تقریر کا عطر ہے کہ ایسے اصول رسول اکرم ﷺسے پہلے معاشروں میں نظر نہیں آتے تھے جیسے انصاف کی برابری، حکمرانوں کا ذاتی کاروبار نہ کرنا، حکمران کا عدالت میں ایک اقلیتی فرد سے کیس ہارنا وغیرہ۔ لیکن اس تقریر کی جو بات مجھے سب سے زیادہ خوبصورت لگی اور جس کا میں اس وقت سے لے کر آج تک لطف لے رہا ہوں وہ یہ کہ اقتدار کی اس کرسی پر بیٹھ کر اور عوام کے سامنے تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے موت کو یاد کیا۔ عمران نے کہا “پتہ نہیں میں زندہ ہوںگا یا نہیں لیکن میرا ایمان ہے کہ اگر ہم اس طرف چل پڑے تو ایک دن آئے گا کہ پاکستان میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملے گا، پاکستان زندہ باد”۔ تخت اقتدار پر متمکن ہونے کے بعد انسان پہلی چیز جو فراموش کرتا ہے وہ موت ہے۔ موت کا خوف ہی ہے جو انسانوں کو منصب و مقام کے باوجود راہ راست پر رکھتا ہے۔

کسی ڈکٹیٹر یا منتخب وزیراعظم نے اپنی پہلی نشری تقریر تو ایک طرف اپنی تمام تقریروں میں بھی موت کو اس طرح یاد نہ کیا ہوگا۔ یہ صرف اللہ کا خاص کرم و نعمت ہوتی ہے جو وہ اپنے کسی بندے پر کرتا ہے۔ لیکن موت کے اس خوف کے اعلان کے ساتھ اس نے جس ایمان کا اظہار کیا وہ تو رسول اکرم ﷺکی اس امت کے بارے میں پیشگوئی ہے جوان کے بعد حرف باحرف حق ثابت ہوئی اور آج بھی اگر ہم ان اصولوں پر عمل کریں تو اس امت پر ویسی ہی رحمتوں کا نزول ہو سکتا ہے۔ “نبی اکرمﷺ نے حاتم طائی کے فرزند عدی بن حاتم کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا ” میں جانتا ہوں کہ تمہیں اسلام قبول کرنے میں کونسی چیز مانع لگ رہی ہے تم یہ سمجھتے ہو کہ اس دین کے پیروکار کمزور اور بے مایہ لوگ ہیں جنہیں عرب نے دھتکار دیا ہے یہ بتاؤ کہ تم شہر “حیرہ” کو جانتے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ دیکھا تو نہیں ہے البتہ سنا ضرور ہے۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اللہ اس دین کو مکمل کر کے رہے گا یہاں تک کہ ایک عورت حیرہ سے نکلے گی اور کسی محافظ کے بغیر بیت اللہ کا طواف کر آئے گئی اور عنقریب کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح ہوں گے اس نے تعجب سے پوچھا کسریٰ بن ہرمز کے ؟ نبی کریم ﷺنے فرمایا ہاں کسریٰ بن ہرمز کے اور عنقریب اتنا مال خرچ کیا جائے گا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں رہے گا’’۔(مسند احمد :جلد ہشتم :حدیث نمبر1179)سید الانبیاء ﷺکی پہلی پیش گوئی خلفائے راشدین کے اور دوسری پیشگوئی حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں پوری ہوئی جب لوگ زکوٰۃ دینے کے لیے نکلتے تھے لیکن کوئی زکوٰۃلینے والا نہ ہوتا تھا۔ اس قوم کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور عظمت رفتہ کے خواب دکھانا اکثر لیڈروں کا دستور رہا ہے۔ تمام مذہبی جماعتیں اور سیاسی رہنما وقفوں وقفوں سے یہ کام(بقیہ صفحہ 13 پر ملاحظہ کریں) کرتے رہے ہیں۔ لیکن مسند اقتدار پر آکر دنیا بھر کی سیکولر لبرل اور کارپوریٹ قوتوں کے مقابلے میں یہ خواب دکھانا، ان کا تذکرہ کرنا اور انہیں مشعلِ راہ بتانا میرے لئے ایک نیا اور خوشگوار تجربہ ہے۔ کیا اس ترسی ہوئی قوم کے یہ خواب پورے ہوسکیں گے۔ کیا عمران خان اس تقریر کے حرف حرف پر اپنے سفر کا آغاز کرے گا۔ میری امت کے بزرگوں کی یہ روایت ہے کہ ہر نئے حکمران کے لئے ہدایت کی دعا کرتے، کارِ حکمرانی میں اسکی رہنمائی فرماتے اور اگر وہ اپنی باتوں سے پلٹ جاتا تو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے۔ اللہ وہ وقت نہ لائے کہ ایک دن عمران خان کے خلاف کھڑا ہونا پڑے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں