223

تیونس میں ملک گیر ہڑتال،کاروبار ٹھپ

تیونس کی سب سے بڑی اجتماعی سودے باز انجمن جنرل لیبر یونین نے حکومت کی طرف تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ مسترد ہونے کے بعد ملک گیر ہڑتال شروع کر دی ہے۔

ہڑتال کے باعث ملک میں ہوائی اڈے،ا سکول اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں روزمرہ کے معمولات 6 لاکھ 70 ہزار ملازمین کے کام پر نہ آنے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

تیونس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر پابندی دراصل عالمی مالیاتی ادارہےکے دباو کے تحت شروع کئے گئے اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے تاکہ ملکی میزانیے کا بڑھتا ہوا خسارہ کم کیا جا سکے۔

قرضہ دینے والے عالمی ادارے نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کی شرائط مانتے ہوئے تیونس میں اصلاحات نہ لائیں گئیں تو وہ تیونس کی مالی امداد روک دے گا جو 2011 میں زین العابدین حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔

ایک روزہ ہڑتال سے ہوائی اڈے، بندرگاہ، اسکول، اسپتال، سرکاری میڈیا سمیت سرکاری دفاتر میں کام متاثر ہو گا تاہم، تیونس کے وزیر اعظم یوسف شاہد کا کہنا ہے کہ حکومت ہو ابازی، بندرگاہ، بسوں اور ٹرینوں جیسے اہم شعبوں کو کسی نہ کسی حد تک جاری رکھنے کی کوشش کرے گی۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں