464

ثناء خوان رسول صوفی محمد صادق ہریکوٹی

تحریر: شاہد محمود گھمن
صفحہ ہستی پر بلاشبہ وہی شخصیات انمٹ نقوش ثبت کرنے میں کامیاب رہتی ہیں جن کی زندگی کا ہر عمل رضائے الٰہی کے تابع ہوتا ہے یہ خوش بخت نفوس اپنی زندگیاں اس شان کے ساتھ اطاعت خداوندی اور اتباع سنت مصطفوی میں بسر کرتے ہیں کہ ان کا وجود صحیح معنوںمیں مرد مومن کی تفسیر نظر آتا ہے عاشق مصطفےٰ،پیکر صدق وصفا حضرت الحاج صوفی محمد صادق رحمتہ اللہ علیہ کا شمار بھی ان محسنین اسلام اور عاشقان رسول میں ہوتا ہے آپ بلند پایہ کے منفرد خوش الحان نعت خوان باعمل روحانی شخصیت اور سچے عاشق رسول تھے آپ کی تمام زندگی انتہائی پر وقار،نیکی و پرہیز گاری کا نمونہ تھی وہ ایسے عظیم المرتبت عاشق رسول تھے کہ انہوں نے ہر پہلو میں سنت نبوی کی سر بلندی کو مقدم رکھا چہرے سے نورانیت عیاں تھی سینہ کشادہ اور محبت رسول کا معدن تھا ۔آپ صورت و سیرت کے لحاظ سے اسلاف کی تصویر تھے ۔
ثناء خوان رسول حضرت الحاج صوفی محمد صادق رحمتہ اللہ علیہ کیلانی ہریکوٹی نے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دینی کتابیں بزرگ عالم دین حضرت مولانا امام دین نقشبندی شرقپوری سے پڑھیں آپ کو بچپن ہی سے شمس العارفین،سراج السالکین مراد اعلیٰ حضرت شیر ربانی شرقپوری صاحب کرامت بزرگ حضور قبلہ پیر سید نورالحسن شاہ بخاری آستانہ عالیہ حضرت کیلیانوالہ شریف کے دست حق پرست پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل ہو چکی تھی آپکو اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد شرقپوری،حضرت میاں غلام اللہ ثانی لاثانی شرقپوری اور حضرت پیر سید محمد اسماعیل شاہ بخاری حضرت کرمانوالہ شریف کی ملاقات وزیارت کا شرف بھی حاصل ہوا۔حضرت الحاج صوفی محمد صادق رحمتہ اللہ علیہ نے اوائل عمر سے لیکر آخر دم تک روزانہ کے معمولات میں تلاوت قرآن پاک،کثرت سے درود پاک،فرضی نمازوں کے ساتھ نفلی نمازیں بھی پابندی سے ادا کرنا شامل تھا آپ بلند اخلاق،اعلیٰ کردار کے مالک،سنت و شریعت کے پابند تھے آپ تمام عمر تعلیمات اسلامی پر کار بند رہے پاکستان کے باعمل نعت خوانوں میں سر فہرست بہت بڑا معتبر نام تھا آپ عشق رسول میں ڈوب کر محبت و عقیدت اور احترام سے اس انداز میں نعت رسول مقبول پڑھتے تھے کہ سامعین جھوم اٹھتے ان پر وجد طاری ہو جاتا۔نعت رسول مقبولۖ پڑھنا دنیا کی سب سے بڑی خوشی نصیبی اور سعادت مندی ہے۔اللہ تعالیٰ یہ اعزاز اپنے خاص بندوں کو ہی نوازتا ہے۔نعت خوانی روحانی سکون قلب حضور نبی کریم ۖ سے محبت کا ذریعہ ہے۔دل میں عشق رسول نہ ہو تو ارکان اسلام میں سے کوئی عمل قبول نہ ہوگا۔
نعت خوانی موت بھی ہم سے چھڑا سکتی نہیں
قبر میں بھی مصطفےٰ کے گیت گاتے جائیں گے
ثناء خوان رسول الحاج صوفی محمد صادق رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی اطاعت الٰہی اور محبت رسول کی زندہ تفسیر تھی جب تک زندہ ر ہے لوگوں کے دلوں میں عشق رسول کی شمع روشن کیئے رکھی تاریخ میں ایسے ہی لوگ حیات دوام کے مستحق ٹھہرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں جو اپنی زندگی اللہ تعالیٰ اور تاجدار کائنات کی رضا کیلئے وقف کر دیتے ہیں حضرت الحاج صوفی محمد صادق رحمتہ اللہ علیہ کا نام ان کے عمل،روشن کردار اور عشق رسول کی وجہ سے زندہ رہے گا۔عشق رسول،محبت صحابہ کرام واہل بیت عظام اور اولیاء کرام انکا افتخار اور اعزاز تھا آپکا فرمان ہے کہ شریعت کا باغی دشمن ہوائوں میں اڑ کر آگ اور پانی پر چل کر شعبدہ باز تو ہو سکتا ہے مگر قرب الٰہی کی منزل کا مسافر نہیں ہو سکتا۔ قرب الٰہی کیلئے مرشد کامل کی بیعت اور رہنمائی ضروری ہے۔صوفی ازم اسلام کا حقیقی چہرہ ہے۔جو امن و محبت او ر احترام انسانیت کا درس دیتا ہے۔ اپنے پیر و مرشد سے آپ کو والہانہ محبت تھی مشائخ عظام اوراکابر کے تذکرے کے وقت انکی رفعت و شان بیان کر کے فرماتے تھے کہ ان کا مقام اپنی جگہ لیکن میراشیخ میرا شیخ ہے میں نے ان جیسا کسی کو نہیں پایا۔میرے پیر و مرشد نے اپنے علم و عمل اور کردار کے باعث لوگوں کے دلوں کو تسخیر کیا۔جو دلوں کو فتح کرے وہی فاتح زمانہ ہے۔
اللہ والوں کی نسبت بڑی چیز ہے
خدا دے یہ دولت بڑی چیز ہے
حضرت الحاج صوفی محمد صادق رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے پیرو مرشد حضرت پیر سید نورالحسن شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد تاجدار روحانیت،مقبول بارگاہ رسالت الحاج پیر سید محمد باقر علی شاہ بخاری کے زیر سایہ غلامی میں زندگی بسر کر دی جمعة المبارک اور اتوار کو مرکز انوار و تجلیات آستانہ عالیہ حضرت کیلیانوالہ شریف میں ضرور حاضری دیتے دربار شریف کے علاوہ کئی کئی گھنٹے قبلہ سجادہ نشین کی بارگاہ میں باوضو دوزانوں بیٹھے رہتے اور فیوض و برکات سمیٹتے رہتے عقیدت و محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے شیخ طریقت کے آستانے وادی تصوف و نور کی طرف کبھی بھی پائوں کر کے نہیں سوئے آپ کی اولاد کا بھی دلی احترام کرتے تھے شیخ کامل کا ذکر اور آستانے کا نام سنتے ہی دیوانہ وار جھومنے لگتے۔
نگاہ مرشد کامل سے عشق مصطفےٰ حاصل
خدا کا قرب دیتی ہے محبت پیر خانے کی
عاشق رسول الحاج صوفی محمد صادق رحمتہ اللہ علیہ اکثر اکیلے بیٹھے بھی تاجدار کائنات کی نعت پاک گنگناتے رہتے تھے۔عالمی مبلغ اسلام،زینت المشائخ،پروردہ آغوش ولایئت الحاج پیر سید عظمت علی شاہ بخاری المعروف قبلہ چن جی سرکار کے ساتھ اندرون اور بیرون ملک جلسوں،کانفرنسوں اور محافل میلاد میں بڑے خوبصورت انداز میں نعت خوانی کرتے تھے ملک کا کوئی شہر یا گائوں ایسا نہیں ہو گا جہاں انہوں نے آواز کا جادو نہ جگایا ہو آپ مرد مومن تھے کہ فرشتہ اجل کی آواز پر لبیک کہنے تک شعائر اسلامی کو شعائر حیات بنائے رکھا آپ آخر دم تک انتہائی خوبصورت آواز میں نعت خوانی کرتے رہے۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
آپ ہی سو گئے داستان کہتے کہتے
قبلہ چن جی سرکار کے ساتھ آپ نے حج بیت اللہ،زیارت روضہ رسول کریم اور متعدد عمروں کی بھی سعادت حاصل کی الحاج صوفی محمد صادق رحمتہ اللہ علیہ90سالہ قابل رشک اور شاندار عملی زندگی گزارنے کے بعد21ستمبر2009کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ریاض رسول میں چہکنے والا بلبل ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گیا۔گلزار نعت کا وہ گل نو بہار نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں علماء و مشائخ اور عوام نے شرکت کی زیارت کرنے والوں کا کہنا ہے آپ کے چہرے پر ایک ملکوتی تبسم رقصاں تھا، یوں نظر آ رہا تھا جیسے آپ آسودئہ خواب ہیں۔ آپ کو گوجرانوالہ کے نواحی گائوں کوٹ ہرا کی مرکزی جامع مسجد کے متصِل آپ کے استاد بزرگ عالم باعمل حضرت مولانا امام دین نقشبندی شرقپوری کے پہلو میں سپردخاک کر دیا گیا۔آپ کا سالانہ عرس مبارک آپ کے استاد اور بزرگ عالم باعمل مولانا علامہ امام دین نقشبندی،شرقپوری کے سالانہ عرس مبارک کے ساتھ ہی 15مئی بروزمنگل کو کوٹ ہرا میں منایا جائے گا۔جس میں ملک بھر کے ممتاز علماء و مشا ئخ، قراہ اور نعت خوان شرکت کریں گے۔آپ کے وصال کی خبر مدینة المنورہ میں مقبول بارہ گاہ رسالت الحاج پیر سید محمد باقر علی شاہ بخاری نے سنی تو آپ نے اپنے لخت جگر الحاج پیر سید عظمت علی شاہ بخاری اور دیگر خلفاء و عقیدت مندوں کو فرمایا کہ آئو آقا کریم سرکار دوعالمۖ کی بارہ گاہ میں حاضر ہو کر الحاج صوفی محمد صادق کی کامل بخشش اور بلندی درجات کیلئے دعا کریں۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں