373

جاپان کے ساتھ امن سمجھوتہ طے کرنےکی بھر کوششیں جاری ہیں: صدر پیوٹن

ماسکو(ورلڈ پوائنٹ نیوز) روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ جاپان کے ساتھ امن سمجھوتہ طے کرنے کے لیے بھرپور کوششیں صرف کی جاری رہی ہیں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار روس کے دورے پر آئے ہوئے جاپان کے وزیراعظم شینزو آبے کے ساتھ دارالحکومت ماسکو میں تین گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آبے کے ساتھ بڑے تعمیری اور مثبت مذاکرات منعقد ہوئے ہیں اور ان مذاکرات میں امن سمجھوتے کے موضوع پر غور کیا گیا جس پر کافی وقت بھی صرف کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی نظریں اس وقت جاپان اور اس کے درمیان امن سمجھوتے کی جانب مرکوز ہیں اسی لئے ہم سمجھوتہ طے کرنے کے لیے بھرپور کوشش صرف کررہے ہیں۔ اس سمجھوتے سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں بڑی مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ جاپان کے وزیراعظم آبے کے ساتھ سنگاپور میں ماہ نومبر میں ملاقات ہوئی تھی اور ان مذاکرات میں جاپان اور سویت یونین کے درمیان سن انیس سو چھپن میں طے پانے والے سمجھوتے کو بنیاد بناکر نئے امن سمجھوتے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور وہ آج ہونے والے مذاکرات میں ہم روس ہونے کے ناتے ان مذاکرات اور سمجھوتے میں بڑی گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

اس موقع پر جاپان کے وزیراعظم شینزو آبے نے کہا کہ روس اور جاپان کے درمیان اختلافات کا باعث بننے والے کوریل جزیرے سے متعلق مشترکہ اقتصادی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو بھی مزید فروغ دینے پر مطابقت پائی گئی ہے۔ وزیراعظم آبے نے کہا کہ جاپان اور سویت یونین کے درمیاں سن انیس سو چھپن میں طے پانے والی ڈیکلریشن کو بنیاد بناکر نئے امن سمجھوتے کیلئے مذاکرات کو مزید سرعت بخشیں گے اور اس بارے میں ماہ فروری میں وزراء کی سطح پر مذاکرات منعقد ہوں گے۔

کوریل جزیروں کا مسئلہ

روس اور جاپان دوسری جنگ عظیم کے بعد روسی فوجوں کی جانب سے کوریل جزیرے پر اور جاپان کی جانب سے شمالی علاقوں پر قبضے کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات کی وجہ سے سمجھوتہ نہیں ہو سکا تھا۔

سویت یونین کی جانب سے سن انیس سو انچاس میں جزیرے پر قبضہ کرنے کے بعد جزیرے میں آباد تمام جاپانیوں کو وہاں سے نکال باہر کیا گیا تھا۔

امن سمجھوتہ طے کرنے کے لئے پہلی بار سن 2014 میں شروع ہونے والے مذاکرات یوکرائن کے بحران کی وجہ سے منجمد کر دیے گئے تھے۔

متعلقہ علاقے بحر اوقیانوس کے سمندر میں پائے جانے والے جزیروں پر مشتمل ہیں۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں