418

جرمن پولیس قانون میں تبدیلی، نگرانی زیادہ ہو گی

برلن(ورلڈ پوائنٹ نیوز) جرمن پولیس قانون میں تبدیلی کے موضوع پر ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اب عام شہریوں کی نگرانی میں اضافہ ہو گا جب کہ نسلی بنیادوں پر شہریوں کو ممکنہ طور پر زیادہ تفریق کے رویے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

عارضی طور مفلوج کر دینے والی گن، وٹس ایپ نگرانی اور پولیس کی کارروائیوں میں اضافہ، جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی حکومت نے سکیورٹی کے حوالے سے انتظامات سخت تر کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اس قانونی مسودے کے سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر اس پر خاصی تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت پولیس کو بہت زیادہ اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔

اس جرمن صوبے کی سابقہ حکومت کو سلامتی کے متعدد ناقص انتظامات کے تناظر میں شدید تنقید کا سامنا تھا، جس میں کولون میں سن 2016 کے آغاز کے موقع پر خواتین پر جنسی حملوں کے تناظر میں ریاستی حکومت کا ردعمل اور برلن میں کرسمس مارکیٹ پر ٹرک حملہ کرنے والے انیس عامری کی نگرانی سے متعلق ڈیٹا ملکی سکیورٹی اداروں سے بانٹنے جیسے معاملات شامل تھے۔

انہی امور کی وجہ سے اس صوبے پر ایک طویل عرصے سے حکمران رہنے والی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی گزشتہ انتخابات میں شکست کھا گئی تھی اور اب اس صوبے میں کرسچین ڈیموکریٹک یونین، فری ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس کے قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے پولیس کو زیادہ طاقت اور اختیارات دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ صوبے بھر میں سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے۔

اس قانونی مسودے میں ’ممکنہ خطرے‘ کی بابت نہایت مبہم زبان استعمال کی گئی ہے جب کہ احتیاطی طور پر کسی شخص کو زیرحراست رکھنے کی مدت بھی بڑھانے کی تجویز کی گئی ہے۔ اس وقت کسی شخص کو شک کی بنیاد پر 48 گھنٹوں کے لیے زیرحراست رکھا جا سکتا ہے، تاہم اس قانون میں تجویز دی گئی ہے کہ ایسی صورت میں کسی مشتبہ شخص کو ایک ماہ تک حراست میں رکھا جائے۔

نئے قانونی مسودے میں ویڈیو اور وٹس ایپ نگرانی میں اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے جب کہ پولیس کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ بغیر کسی واضح شک کے کسی علاقے میں 28 روز تک کسی بھی شخص کو روک کر تلاشی لے سکتی ہے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں