412

جشن نو روز دنیا بھر میں موسم ِ بہاراں کا سب سے قدیم جشن

عرفان احمد بیگ

پاکستان کا بیشتر علاقہ موسمیاتی،جغرافیائی اور ماحولیاتی اعتبار سے جنوبی ایشیائی خطے کے دیگر ملکوں بھار ت،بنگلہ دیش،سری لنکا وغیرہ سے بہت مختلف ہے اس لیے یہاں کی ثقافت،تہذیب وتمدن، ادب سب ہی بھارت ، بنگلہ دیش سے مختلف ہیں اور اگر ان میں کچھ چیزیں مشترکہ دکھائی دیتی ہیں تو اس کی بنیادی وجہ وہ تاریخ ہے جس میں حملہ آور فاتحین افغانستان، ایران اور سینٹر ل ایشیا سے آئے اور پھر برصغیر پر تقریباً ایک ہزار سال حکومت کی۔

مثلا ہندوستان میں تین موسم ہوتے ہیں جن میں موسم گرما ،جاڑا یعنی موسم سرما اور برسات، ہزاروں برس سے برسات کو موسم بہار کی طرح ہندی،بنگالی اور دیگر مقامی زبانوں کی شاعری میں پیش کیا جاتا ہے، اور جہاں تک تعلق موسم بہار اور خزاں کا ہے تو ان کا ذکر فارسی شاعری سے ہندوستان میں آیا اور اپنے ساتھ غزل سمیت شاعری کی دیگر اصناف کو بھی لایا، ان میں سے کچھ پہلوئوں پر تحقیقی اعتبار سے معروف دانشور،ماہر قانون اعتزاز احسن نے اپنی کتاب سندھ ساگرمیں لکھا ہے۔

ہمارے ہاں بلوچستان کے سرد علاقوں گلگت ،بلتستان،آزاد جموں وکشمیر،خیبر پختونخوا کے بیشتر اور سرد علاقوں میں چار موسم بہت واضح طور پر اور پوری شدت اور اپنے مناظر کی پہچان کے ساتھ آتے ہیں۔ موسم گرما جو سرد علاقوں میں خوشگوار اور فرحت بخش ہوتا ہے جو ن ، جولائی اور اگست کے تین مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
اس کے بعد موسم گرما ڈھلتا ہے خوبانی، زرد آلو،آڑو، بادام ،چیری ، ناشپاتی، سیب ، پستہ،انار، شنے، جنگلی زیتو ن، سنجداور سایہ دار درختوں میں چنار، عیش، چنبیلی، اور دیگر درختوں کے سبز پتے ہلکی ٹھنڈی خشک ہوائوں کے چلنے سے اپنے رنگ بدلنے لگتے ہیں اور مختلف درختوں کے پتوں کے سائز اوراُن کی سا خت کے لحاظ سے خزاںکا یہ عمل ستمبر سے شروع ہوتا ہے اور نومبرکے وسط تک مکمل ہوتا ہے۔

پندرہ اکتوبر تک یہ موسم رنگوں کا موسم کہلاتا ہے کیونکہ مختلف درختوں کے پتے سرخ ، نارنجی،کاسنی، ملگجی ،گلابی ، سرمئی، دھانی اور زرد رنگوں میں نظر آتے ہیں عموما یکم نومبر سے یہ پتے سرد اور تیز ہوائوں سے گرنے لگتے ہیں اور وادیوں، باغات اور جنگلوں میں روز ہی یہ زمین پر چادر کی طرح پھیلے ہوتے ہیں اور اب چرواہے نہ صرف اپنے ریوڑ یہاں چراتے ہیں بلکہ روز گرنے والے ان پتوں کو بڑی بڑی بوریوں میں بھر بھر کر لاتے اور اسٹور کرتے ہیں، پندرہ نومبر تک اکثر درخت پتوں سے بالکل خالی ہوجاتے ہیں ماسوئے صنوبر اور ایسے صدابہار درختوںکے جنکے پتے سخت اور کھردرے ہوتے ہیں۔

اب ان تمام پہاڑی اور سرد علاقوں میں جو ہمارے خطے کے اعتبار سے ایران، افغانستان، کرغیزستان، آذربائجان، ازبکستان، قازقستان، ترکمانستان، تاجکستان، ترکی، عراق، شام، مصر، فلسطین وغیرہ پر مشتمل یہاں ان سردعلاقوں میںزندگی مشکل سے مشکل تر ہونے لگتی ہے۔ کھیتوںاور باغات جہاں صرف موسم گرما میں ایک ہی فصل ہوتی ہے اور اس کا پیداواری موسم خزاں کے آغاز پر ختم ہوجا تا ہے اور اب صرف اور صرف بھیڑوں کے ریوڑ ہوتے ہیں اور وادیوں میں گھاس اور جھاڑیاں بھی خشک ہوتی ہیں۔ اب شدید سردموسم کی تیاریاں ہوتی ہیں، بھیڑوں کی اُون سے بنے قالین اور رضائیاں باہر نکل آتی ہیں۔

خشک لکڑیاں اور معدنی کوئلہ اسٹور کیا جاتا ہے، نر اور جوان بھیڑوں کو ذبح کرکے الائش نکال کر ان کی کھال پر سے بال صاف کرکے ان ہی علاقوں میں خودرو پیدا ہونے والی ہینگ اور نمک لگا کر ان سالم دمبوں، بھیڑوں کو سایہ دار جگہ پر خشک کیا جاتا ہے، یہ سب عمل زیادہ تر ان ملکوں کے دیہی علاقوں میں ہوتا ہے، پھر نومبر کے وسط سے سردی شروع ہوتی ہیاور خصوصا ً برفباری اور شدید برفباری میں ہر طرف ہر شے برف کی سفید چادر اوڑھ لیتی ہے۔ بلوچستان کے شاعر ِ فطرت عطا شاد کا شعر اس منظر کی یو ں عکاسی کرتا ہے۔

مجھ شاخ ِ برہنہ پہ سجا برف کی کلیاں
پت جھڑ پہ ترے حسن کا احسان ہی رہ جائے

اب اگر برف کی تہہ زیادہ موٹی ہو تو چرواہے گھروں سے نہیں نکلتے کہ ان کی بھیڑوں کے منہ اس برف کے نیچے دبی خشک گھاس تک نہیں پہنچتے۔ اب وہ اپنے دیہاتوں میں گھروں کے بڑے صحنوں یا باڑوں پر وہی خشک پتے ان مال مویشیوں کو کھلاتے ہیں جو انہوں نے موسم ِ خزاں میں جمع کیے تھے، سردی زیادہ ہوتی ہے تو وہی خشک گوشت،جسے ہمارے ہاں،لاندی، کہا جاتا ہے شوربے میں بنا کر کھاتے ہیں کہ یہ گرم اور بہت طاقتور غذا ہوتی ہے۔

یوں ان دیہی علاقوں میں لو گو ں کی اکثریت گھروں میں دبکی رہتی ہے خصوصا جب 25 دسمبر سے5 فروری تک موسم بہت ہی سر د ہوجاتا ہے، کئی کئی مرتبہ کی شدید برفباری کے بعد وقفے وقفے سے جب شدید سرد ہوائیں چلتی ہیں تو ان سردعلاقوں میں درجہ حرارت منفی 25 سنٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ ہمارے یہ سرد علاقے اور ممالک کو ہ ہمالیہ کے درۂ قراقرم، ہندوکش اور پامیر کی رینج میں آتے ہیں۔

سردیوں کی برفبار ی میں پاکستان کے بیشتر علاقوں کو جو سرد ہوا شدت سے متاثر کرتی ہے وہ روسی علاقے سائبیریا سے وسطی ایشیا کے ملکوں سے ہوتی افغانستان آتی ہے تو یہاں یہ سائبیر یا کی ہوا کہلاتی ہے اور وہاں سے جب یہ پا کستا ن میں د اخل ہوتی ہے تو قندھاری ہوا کہلاتی ہے اور جب یہ ساحل بلوچستان پر پہنچتی ہے تو بلوچی زبان میں اِسے گوریج کہتے ہیں جبکہ کراچی اور پاکستان کے دوسرے علاقوں کے لوگ اس ہوا کو کوئٹہ کی ہوا کہتے ہیں۔ برفباری اور بارشوں کے بعد اس ہوا سے سردی میں اضافہ ہو جاتا ہے لیکن پھر 20 فروری سے سردی کم ہونے لگتی ہے اور یکم مارچ سے سردی تو ہوتی ہے لیکن اسے سرد علاقوں کے رہنے والے خنکی کہتے ہیں۔

15مارچ سے عموما موسم سرما کا اختتام ہوجاتا ہے اور اب بھرپور انداز سے بہار آنے لگتی ہے، درختوں کی وہ شاخیں جو موسم خزاں میں اپنے سبز پیرہنوں کو کئی رنگوں میں تبدل کرکے برہنہ ہو کر اور پھر برفباریوں کا کفن اُوڑھتی رہی تھیں اب پھولوں سے لد جاتی ہیں، بادام ،خوبانی ،آڑو، ناشپاتی اور دیگر پھلوں کے درختوں پر صرف اورصرف پھول ہی پھول ہوتے ہیں، وادیوں میں ہلکے سبز رنگ کی گھاس کے ساتھ دور دور حد نظر خود رو لالہ کے سرخ اور پیلے پھولوں کے علاوہ پہاڑوں پر جنگلی گلاب اور دیگر کئی رنگوں کے پھول بے تحاشہ کھلتے ہیں۔

یہی موسم21 مار چ سے 31 مارچ تک سنٹرل ایشیا ، ایران، افغانستان، ترکی، اور مشرق وسطیٰ کے بیشتر سرد علاقوں میں جشن نوروز کہلاتا ہے، یہ جشن زرتشت جو آتش پرستوں ’’پارسیوں‘‘ کے مذہب کا بانی ہے یہ ایران میں پیدا ہوا اور اس کا عہد 628 قبل مسیح سے551 قبل مسیح تھا اس سے بھی پانچ سوسال قدیم ہے لیکن جشن نوروز اس وقت صرف ایران اور آذربائجان میں منا یا جا تا تھا۔ زرتشت کے بعد ایران کا عظیم شہنشاہ سائیرس اعظم جس کا عہد 590 قبل مسیح سے 529 قبل مسیح تھا اس نے اپنے دور حکومت میں پورے سنٹرل ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے علاقوں کو فتح کیا اور وسیع رقبے پر حکومت قائم کی۔ یوں اس پورے علاقے پر ایرانی تہذیب کے گہرے اثرات مرتب ہوئے اور افغانستان،سنٹرل ایشیا،مشرق وسطیٰ کے سرد علاقوں میں جشن نوروز منایا جانے لگا۔

جشن ِنوروز اس لیے بھی زیادہ جوش و خروش سے منا یا جاتا ہے کہ ان سرد علاقوں میں موسم خزاں اور موسم سرما کے بعد لوگ بھرپور بہار کا موسم دیکھتے ہیں۔ قدیم روایات کے مطابق اب بھی پاکستان کے فارسی بولنے والوں میں 21 مارچ سے 31مارچ تک اس طرح مناتے ہیں کہ اکثریت گھروں سے نکل کر کھلے آسمان تلے آجا تی ہے۔ وادیوں میں الگ الگ خاندان خیمے لگاتے ہیں اور پکنک کی طرح لطف اندوز ہوتے ہیں جو لوگ صاحب ِ حیثیت ہوتے ہیں وہ عمد ہ اور کئی اقسام کے کھانے پکاتے ہیں ان پکوانوں میں گوشت کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے، اس موسم بہار میں ان ملکوں میں مختلف اقسام کے خودرو ساگ بھی ہوتے ہیں جسے ہمارے ہاں گرم علاقوں میں مکو اور باتھو کے ساگ ہوتے ہیں۔

اس طرح بلوچستان گلگت بلتستا ن اور خیبر پختونخوا کے سرد علاقوں میں بچکی کا ساگ اور کالا یا تور ساگ اور دوسرے خود رو ساگ ہوتے ہیں یوں خصو صا دیہی علاقوں میں لوگ یہ ساگ بھی استعمال کرتے ہیں جو بہت سی بیماریوںکی پورے سال روک تھام کرتے ہیں۔ یہی بہار کا وہ موسم ہوتا ہے جب موسم خزاں میں ہجرتی پرندے سردیوں سے پہلے یہاں سے ہجرت کرکے ہزاروں کلو میٹر دور گر م علاقوںمیں سردیاں گزارتے ہیں، وہ پرندے واپس ہوتے ہیں۔ اب یہاں فطرت کا حسن عروج پر ہو تا ہے۔

جشن نوروز اگر چہ قبل مسیح سے ہے لیکن یہ کوئی مذہبی تہوار یا جشن نہیں لیکن یہ جن ملکوں میں منایا جا رہا ہے وہ تمام اسلامی ممالک ہیں ان میں پاکستان، افغانستان، آذربائجان، ایران، عراق، قازقستان، کرغیزستان، لبنان، فلسطین، تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور ترکی شامل ہیں۔ ان کا مجموعی رقبہ 8405563 مربع کلو میٹر ہے اور آبادی 40 کروڑ سے زیادہ ہے، ان کے سرد علاقوں میں یہ جشن نوروز منا یا جاتا ہے، لیکن ایران،آذربائیجان اور سنٹرل ایشیا کے تقریبا تمام ملکوں میں جشن نوروز روایاتی طور پر اب بھی بہت پُر جوش انداز میں منایا جاتا ہے۔ اگرچہ2010 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے21 مارچ کو نوروز انٹرنیشنل ڈے قرار دیا ہے اور ان ملکوں میں اس کے لیے ذیلی اداروں کو ما لی امداد کی تجویز پیش کی تھی اور یہ بھی کہا گیا کہ 23 اور24 مارچ کو بھی یہ عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا ۔

راقم نے1990 سے اس جانب توجہ دلوانے کی کوشش کی کہ ہم جشن سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ہم نے اب تک توجہ نہیں دی۔ واضح رہے کہ سنٹرل ایشیا کے ان ملکوں میں پہلے 1800 ء میں روس کے بادشاہ زار پال کی جانب سے سنٹرل ایشیا کی ان ریا ستوں میں مداخلت کی گئی اور آگے بڑھے پھر1917 ء میں روس کے اشتراکی انقلا ب کے بعد ازبکستان،کرغزستان، قارقستان، تاجکستان، ترکمانستان، آذربائجان، نہ صرف کیمونسٹوں نے ا ظہار خیا ل پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں بلکہ سرد جنگ کے خاتمے1990 تک یہاں کے لوگو ں کو آزادانہ دنیا کے کسی بھی ملک میں جانے کی اجازت نہ تھی اور آبادی کی اکثر یت اپنی اس تاریخ سے ہی ناآشنا تھی کہ ان کے آباو اجداد کا ایک ہزار سال تک بہت گہرا تعلق برصغیر خصوصا آج کے پاکستانی علاقوں سے رہا ہے۔

پھر جب 1990 ء میں سنٹرل ایشیا کے ممالک سابق سوویت یونین کے ٹوٹنے سے آزاد ہوئے تو دوبارہ چند دانشوروں نے اس کا مطالعہ کیا بعض اپنے ملکوں سے نکل کر ایران ،افغانستان اور پاکستان آئے اور ساتھ ہی ساتھ یہاں کے مسلمانوں نے حج پر جانا شروع کیا تو اس سے ان کی دنیا کے بارے میں اور خصوصا عرب اور مشرق وسطیٰ کے بارے میں معلومات میں مشاہدات اور تجربات کی بنیادوں پر اضافہ ہوا۔

لیکن جہاں تک تعلق جشن نوروز کا ہے تو یہ چونکہ ہمیشہ سے مذہبی،علاقائی،لسانی، قبائلی یعنی ہر قسم کے تعصبات سے پاک رہا اس لیے چاہے یہاں روس کے زار باشاہوں کا دور رہا یا پھر سوویت یونین کی کمیونسٹ حکومت جشن نوروز جاری رہا البتہ ان کو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ جشن تو ایران ،افغانستان ، پاکستان اور مڈل ایسٹ کے ملکوں میں بھی منایا جا تا ہے مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ 1990 ء میں سرد جنگ کو ختم ہوئے اور سنٹرل ایشیا کی ان ریاستوں کو آزاد ہوئے آج 28 سال ہو رہے ہیں ۔

یہ تمام اسلامی اور علاقائی ممالک جو بہت سی مشترکہ سماجی، مذہبی،لسانی ،قومی ،نسلی ،ثقافتی اقدار کے ساتھ ایک ہزار سال کا مستحکم اور جاندار تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اب تک ایک مضبوط بلاک نہیں بن سکے حالانکہ یہ ممالک، اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن ’’ایکو‘‘ کی تنظیم ECO Economic Cooperation Organization کے 1992 ء سے رکن ہیں جو عالمی سطح پر اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ ایک بڑی علاقائی تنظیم ہے۔

اس میں شامل ترکی پاکستان، ایران، افغانستان، آذربائجان، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان ترکمانستان،اور ازبکستان کا مجموعی جی ڈی پی 2016 ء کے مطابق 1875327 ارب امریکی ڈالرہے اورویسے تو اس میںشامل افغانستان کی سالانہ فی کس آمدنی 565 ڈالر اور پاکستان کی سالانہ فی کس آمدنی 2016 ء کے مطابق 1468ڈالر تھی جبکہ ان دس ملکوں کی اوسطا مجموعی فی کس سالانہ آمدنی 2016 ء کے مطابق3948 ڈالر بنتی ہے یوں دیکھا جائے تو ہم علاقائی اقتصادی تعاون میں ہم جشن نوروز کے حوالے سے اہم ترین کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

ملکوں کے درمیان ثقافتی، تہذیبی، مشترکہ اقدار اور مشترکہ تاریخی پس منظر بہت مضبو ط بنیاد یں ہوتی ہیں،آج 2018 ء میں اگرچہ سیاسی اور خارجی بنیادوں پران ملکوں میں اختلاف رائے ہوسکتاہے اور ان کی یہ پالیسیاں بھی مختلف ہوسکتی ہیں لیکن آمد بہاراں کا یہ جشن ان ملکوں اور ان کے چالیس کروڑ سے زیادہ عوام کو مشترکہ تاریخی پس منظراور تہذیبی ،ثقافتی اقدار کی بنیادوں پر قریب سے قریب تر لا کر جشن نوروز کے ان تمام دنوں میں تجارتی، اقتصادی، صنعتی، زرعی شعبوں میں معلومات اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے تبادلوں کی بنیاد پر بہت فائدے دے سکتا ہے ۔

ای ،سی ،او،کی تنظیم میں شامل ملکو ں کو چاہیے کہ جشن نوروز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 21 سے 31 مارچ تک رکن ممالک کے دارالحکومتوں، اسلام آباد، کابل، باکو، تہران، آستانہ، بشکش، دوشنبے، انقرہ، اشک آباد اورتاشقند میں مشترکہ ثقافت کی بنیادپر مل کر روزانہ پروگرام کریں، جشن نوروز کے معنی نئے دن یا دنوں کے ہیں یوں اگر21 مارچ سے 31 مارچ 2018 ء میں یا آئندہ سال جشن نوروز میں یہ ممالک اپنے اپنے ملکوں میں ویزوں کی پابندی ختم کرد یں، اپنے اپنے ملکوں کی فضائی کمپنیوں کے ٹکٹوں پر ٹیکس کی چھوٹ دیں تو ان ملکوں کی چالیس کروڑ سے زیادہ کی آبادی میں سے لاکھوں افراد مشترکہ تہذیب ،ثقافت ، اور تاریخ کے حامل ملکوں میں ایک دوسرے سے آسانی سے مل سکیں گے، اور یورپ کی طرح یہ بھی آج کے زمانے میں جنگوں کی بجائے امن وآتشی ، دوستی و اخوت کے رشتوں کو مضبوط کر سکیں گے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں