269

روس میں دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کوشکست دینے پر 73 واں یوم فتح

ماسکو(ورلڈ پوائنٹ نیوز) دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف فتح کی سالگرہ کے موقع پر روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہر سال ایک بڑی فوجی پریڈ منعقد ہوتی ہے۔ اس روز ریڈ سکوائر پر ہزاروں فوجی پریڈ میں حصہ لیتے ہیں اور نئے اور جدید دفاعی سازو سامان کی نمائش کی جاتی ہے.دوسری عالمی جنگ میں کامیابی کی یاد میں وکٹری ڈے منانے کے لئے ماسکو میں گزشتہ ہفتہ سے فوجی پریڈ کی فل ڈریس ریہرسل کی جا رہی تھی ، جس میں روس اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ریہرسل میں روسی فوج کے دس ہزار سے زائد سپاہی سمیت فوجی بینڈ کے افراد شرکت کرتے ہیں.

اس موقع پر جدید ترین ٹی 72 ٹینکوں سمیت دوسرے جدید اسلحے کی نمائش کی جاتی ہے۔ پریڈ کے آخر میں بہتر لڑاکا طیاروں کی طرف سے فلائی پاسٹ کیا جاتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والی ریہرسل کو سیکڑوں لوگ دیکھتےہ ہیں اور پوری دنیا کا میڈیا براڈ کاسٹ کرتا ہے ۔ 9 مئی کے دن کو یورپ بھر میں وکٹری ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انیس سو پینتالیس کو نازی جرمنی نے اس دن باقاعدہ طور پر روس کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور اپنی شکست تسلیم کر لی تھی۔

اس پریڈ کے موقع پر روسی سابقہ فوجی جنہوں نے دوسری جنگ عظیم میں لڑے اور نازی فوج کے خلاف جنگ میں حصہ لیا پورے فوجی یونیفارم میں شرکت کرتے ہیں. روس اپنی فاتح کو ہارپر طریقہ سے ہر سال مناتا ہے کیونکہ یہ یقینی طور پر ظلم کے خلاف ایک بری فاتح تھی، جس میں روس نے فاتح حاصل کی اور پوری دنیا کو نازی فوج کے ظلم سے بچایا.

یاد رہے کہ جنگ عظیم دوم میں سوویت یونین کے 2 کروڑ 70 لاکھ فوجی ہلاک ہوئے تھے، جب کہ آخر میں جرمنی کو شکست ہوئی تھی، جبکہ جنگ عظیم دوم میں جرمن مخالف گروپ میں سب سے زیادہ نقصان سوویت یونین کا ہی ہوا تھا۔

یہ دن ان لاکھوں روسیوں کو نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنھوں نے نازی جرمنوں سے لڑتے ہوئے جان دی تھی۔اس بار بھی دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنوں کے خلاف سابق سوویت یونین کی فتح کے 73 سال پورے ہونے پر آج کے روز پورے روس میں یومِ فتح بڑی دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے جبکہ اس موقعے پرماسکو کے ریڈ اسکوائر میں فوجی پریڈ اور آتش بازی کا اہتمام بھی کیا گیا ہے. ۔یومِ فتح کی مرکزی فوجی پریڈ میں 13 ہزارسے زیادہ سابق اور حاضر سروس روسی فوجیوں نے حصہ لیا جبکہ اس موقعے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فتح موت اور بربریت کے خلاف زندگی اور عقل کی فتح تھی جس میں روسی عوام نے بھرپور حصہ لیا۔پیوٹن کا کہنا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم میں روس کے باہمت بزرگوں نے صرف اپنے لیے ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کیلیے امن و آزادی حاصل کیے تھے۔ دنیا کے موجودہ حالات کو جدید نازی ازم سے تشبیہ دیتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ تمام ممالک کو مشترکہ مسائل حل کرنے کے آپس میں مل کر عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس پریڈ میں روس نے اپنے جدید ترین دفاعی میزائل اور ہتھیاروں کی نمائش کی جن میں بن براعظمی میزائل، طیارہ شکن میزائل، جدید ترین ٹینک، فضا سے زمین میں مار کرنے والے میزائل، آبدوز شکن میزائل، فتھتھ جنراشن لڑاکا طیارے، بمبار طیارے شامل تھے، لیکن اس بار سب سے اہم چیز ہائپر سونک ٹیکنالوجی سے مزین میزائل بھی منظر عام پر لاے گئے جن کی رفتار 28000 کلومیٹرز فی گھنٹہ یعنی آواز سے 28 گنا زیادہ تیز ہے.

۔ یومِ فتح موقعے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی قیادت میں ایک بڑی ریلی بھی نکالی جارہی ھے – ریلی میں شریک ہمارے نمایندے اشتیاق ہمدانی کے مطابق اس سال 9 لاکھ سے زائد افراد اس ریلی میں شریک ہیں÷

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں