485

روس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت روسیوں نے سرد ترین پانی میں ڈبکیاں لگاکر کرسشینیا کی رسم ادا کی

ماسکو(شاہد گھمن سے) آرتھوڈوکس عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق ہرسال 19 جنوری کے آغاز پر دریائے اردن کے پانی میں ڈبکیاں لگانے سے پچھلے سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اسے روسی میں ” کرسشینیا ” یعنی گناہ دھوتے ہوئے صلیب کا نشان بنانا کہتے ہیں۔ یہ اس عمل کی سالانہ یاد ہے جب حضرت یحیی علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دریائے اردن کے پانی میں تین ڈبکیاں دلا کے بپتسمہ دیا تھا۔

یہ ہر بچے کو عیسائی بنانے کے لیے گرجا گھروں میں کیا جاتا ہے۔ آرتھوڈوکس عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق اس رات کو دنیا کا ہر دریا، ندی ، نالہ دریائے اردن کا پانی بن جاتا ہے یعنی مقدس پانی بن جاتا ہے جس میں تین ڈبکیاں لگانے سے سال بھر کے گناہ دھل جاتے ہیں ہرسال 19 جنوری کے آغاز سے اختتام پریہ ” کرسشینیا ” کی یہ رسم ادا کی جاتی ہے کیونکہ روس میں یہ موسم سرد ہوتا ہے تو اس لیے غوطہ بھی سرد پانی میں لگایا جاتا ہے کیونکہ شرط کھلے آسمان تلے بہتے پانی میں غوطہ لگانے کی ہے۔

روس بھر میں اس عقیدہ کو ماننے والوں نے سردترین پانی میں ڈبکیاں لگاکر اس رسم کو ادا کیا جبکہ روسی صدرولادیمیر پیوٹن نے بھی سردپانی میں ڈبکیاں لگا کر بپتسمہ ادا کیا.

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں