442

رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے عجز صدیوں کا

محمد اظہارالحق

عرب بہار پاکستان میں پہنچی مگر دیر سے۔ یہ پاکستانی بہار ہے۔ مگر خدا نہ کرے(میرے منہ میں خاک) انجام مصر یا لیبیا جیسا ہو! انسان کچھ نہیں سیکھتا اس لیے ’’لفی خسر‘‘ کہا گیا۔ سیکھنا کیا ہے ایک صاحب اپنے سسر کے پاس بیٹھے تھے کسی نے پوچھا کہاں ہیں جواب دیا ان الانسان لفی خسر۔ کہ خسر کی خدمت میں حاضر ہیں!

تاریخ سے انسان نے کیا سیکھا؟ کچھ نہیں! ذوالفقار علی بھٹو جیسے پڑھے لکھے‘ صاحب مطالعہ شخص نے تاریخ سے کچھ نہ سیکھا‘ نواز شریف صاحب پر تو مطالعہ کی تہمت بھی نہیں لگ سکتی۔

اکثر و بیشتر لوگ میاں صاحب کو مغل بادشاہوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ کاش وہ مغلوں کی تاریخ ہی پڑھ لیتے۔ فرانسیسی طبیب برنیئر شاہ جہاں اور اورنگزیب دونوں کے ساتھ رہا۔ لکھتا ہے اورنگزیب کشمیر جاتا تھا تو ہاتھی بھمبر تک جا سکتے تھے اس کے آگے راستہ پہاڑی تھا‘ ہاتھی رک جاتے تھے۔ سامان قُلّی اٹھا لیتے تھے۔ بادشاہ سلامت کا سامان پانچ ہزار قلی اٹھاتے تھے۔

شاہ جہاں شکار کے لیے نکلتا تو ایک لاکھ افراد ساتھ ہوتے۔ پڑائو میں ہر سپاہی اپنا کھانا خود پکاتا۔ دھواں اتنا اٹھتا کہ کوسوں تک کچھ دکھائی نہ دیتا۔ جلوس شاہی کے راستے کی زد میں کوئی راہ گیر آ جاتا تو زندہ نہ بچ پاتا۔ جلوسِ شاہی کے راستے کو آج کل ’’روٹ لگنا‘‘ کہتے ہیں۔

چند ماہ پہلے دارالحکومت میں ایک شہری اس کی زد میں آ کر ہلاک ہوا ؎ نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا وہی شاہ جہان آٹھ سال قید رہا کسی دشمن کی قید میں؟ ہاں! دشمن کون تھا؟ حقیقی فرزند! اکثر مسور کی دال پکاتا کہ اس میں‘ جیسا کہ سنا ہے‘ زہر کی آمیزش نہیں ہو سکتی!

میاں نواز شریف کا طرز زندگی مغل بادشاہوں کے معیار حیات سے لاکھ گنا نہیں تو ہزار گنا برتر تھا۔ کہاں لندن کے چار عالی شان اپارٹمنٹوں پر مشتمل محل اور کہاں مغلوں کے قلعے‘ جو لاہور آگرہ اور دلی کے تپتے سلگتے شہروں میں واقع تھے۔

بیس بیس سال میں میاں صاحب کے فرزند اور دختر کھرب پتی ہو گئے۔ مغل بادشاہ اور سلاطین دہلی سو بار بھی جنم لیں تو جاتی امرا جیسے محلات انہیں نصیب نہیں ہو سکتے۔ زلہ خوار اور درباری کبھی نہیں تسلیم کریں گے کہ ہزاروں ریاستی پولیس مین پورے خانوادے کی حفاظت پر مامور تھے۔ یہاں تک کہ پورے قبیلے کے لیے! غریب عوام کے ٹیکسوں پر یہ خاندان دنیا کے بلند ترین معیاروں میں سے ایک پر زندگی گزار رہا تھا۔ مری کے کوہستان میں کھانا ہیلی کاپٹروں پر پہنچایا جاتا۔

کل رات ایک واقف حال نے بتایا کہ شریف پرویز مشرف صاحب کے عہد ہمایونی میں جدہ کے محل میں منتقل ہوئے تو وہاں قیام کا خرچ‘ واقفِ حال کے بقول‘ حکومت پاکستان اٹھاتی رہی! واللہ اعلم! جو حقیقت انسان کو فراموش نہیں کرنی چاہیے وہ حالات کی غیر یقینی نیچر ہے۔ تخت ہے یا تاج‘ خزانہ ہے یا محل‘ لندن کے اپارٹمنٹ میں یا فرانس کا تین سو سالہ قدیم نوابانہ قصر‘ سب ناقابل اعتبار ہیں۔

نواز شریف صاحب کے پاس کیا نہیں تھا۔ حکومت‘ وفاق‘ طاقت ور ترین صوبہ‘ بے تحاشا بے اندازہ دولت‘ کئی براعظموں کئی ملکوں میں بکھری جائیدادیں‘ کارخانے‘ بنک اکائونٹس‘ مگر کچھ کام نہ آیا۔ حالات نے ایک ہی کروٹ لی اور وہ تخت سے گر کر زمین پر آ رہے۔

سورہ لقمان کے آخر میں فرمایا’’اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس زمین پر مرے گا‘‘ جس دن جے آئی ٹی کے سامنے اسحق ڈار صاحب کی پیشی تھی ۔اس دن باہر نکل کر انہوں نے جو تقریر کی تھی اس کا لب لباب یہ تھا کہ کسی کو اختیار نہیں کہ ان سے کچھ پوچھے‘ عمران خان کے حوالے سے ایک فقرہ انہوں نے کہا جو Who are Youکہ تم کس کھیت کی مولی ہو‘ مگر آج دبئی اور لندن میں امارت کے لمبے چوڑے سلسلے ملکیت میں ہونے کے باوجود وہ ایک پناہ گیر ہیں۔
میڈیا کو دیکھ کر پچھلے دنوں انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی مگر میڈیا نے تصویریں کھینچ کر ان کی مضحکہ خیز بے بسی دنیا کو دکھا دی۔ اثاثے نوے لاکھ سے نوے کروڑ کر کے ڈار صاحب نے کیا حاصل کیا؟ دولت تو ایک طوائف ہے۔ آج ایک کے ساتھ‘ کل دوسرے کے ساتھ‘ چلیں دولت اکٹھی کیجیے‘ مگر خدا کے بندو! کوئی حد‘ کوئی سرخ لکیر‘ کوئی بیرئیرایک نسل کے لیے دو نسلوں کے لیے!! آنے والی ساری نسلوں کے لیے کیوں اکٹھی کرتے ہو؟

تخت طائوس کیا آج شاہ جہان کی اولاد کے پاس ہے؟ اور کوہ نور ہیرا‘ جو پورے برصغیر میں گھومتا‘ طوائف کی طرح تماش بینوں کے دل جیتتا‘ ایران گیا۔ وہاں سے افغانستان۔ وہاں سے پھر ہندوستان‘ وہاں سے لندن! کل کو یہ بھڑوا کیا خبر کس کی نوکری اختیار کر لے!

مگر عبرت کوئی نہیں پکڑتا‘ حواری‘ ان کے خاندان کی پرستش کرنے والے بیرم خان‘ ان کے دربار کے دریوزہ گر‘ ان کے Beneficiaryلاکھ انہیں سول بالادستی کی جنگ کا ہیرو قرار دیں‘ یہ کہنے کی ہمت کوئی نہیں کر سکتا کہ لندن کی جائیداد خریدتے وقت ان کے بیٹے خود کفیل تھے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں