423

سائبریا میں واقع گائوں اویمیاکون، جہاں جنوری میں اوسط درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور آنکھوں کی پلکوں میں چار دیواری سے باہر نکلتے ہی برف جم جاتی ہے

ماسکو، رپورٹ: شاہد گھمن
روس کی ریاست سائبریا میں واقع گائوں اویمیاکون کو ناصرف روس بلکہ پوری دنیا کا سرد ترین گائوں کہاجاتا ہے
یہاں گھروں پر پائپ نہیں لگائے جاتے کیونکہ پانی جمنے سے ان کے پھٹنے کا ڈر ہوتا ہے، گاڑیاں ہمیشہ چلتی رہتی ہیں تاکہ پیٹرول جم نہ جائے۔ جنوری میں اوسط درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور آنکھوں کی پلکوں میں چار دیواری سے باہر نکلتے ہی برف جم جاتی ہے۔

جبکہ ابلتے ہوئے پانی کو ہوامیں اچھالنے سے برف بن جاتا ہے یہاں ہر رواں سال کے آغاز میں درجہ حرارت سے آگاہ کرنے والا الیکٹرونک تھرمامیٹر منفی 62 ڈگری سینٹی گریڈ پر پھٹ گیا.یہاں پر اوسط درجہ حرارت بھی عام طور پر منفی 40 کے ارگرد رہتا ہے، اتنی سردی کو سوچتے ہوئے یہاں انسانی بستی کا خیال ناقابل یقین لگتا ہے مگر یہاں پراب بھی 550 کے قریب لوگ بستے ہیں اور یہ ماسکو سے 7ہزار کلومیٹر دور واقع ہے.

انتہائی شدید سرد درجہ حرارت کے باوجود یہاں کی زندگی کبھی تھمتی نہیں اور بچے اس وقت تک اسکول جاتے رہتے ہیں جب تک درجہ حرارت منفی 52 سینٹی گریڈ تک نہیں پہنچ جاتا۔ یہاں کے رہنے والوں کے پاس مویشی اور ماہی گیری آمدنی کے بڑے ذرائع ہیں۔

فارمز میں گائے تو موجود ہیں مگر وہ جون سے اکتوبر تک ہی دودھ دیتی ہیں. جہاں تک مچھلیوں کی بات ہے تو وہ پانی سے باہر نکلتے ہی 20 سیکنڈ میں مجنمند ہوجاتی ہیں۔یہاں پر گھر ایسے تعمیر کیے گئے ہیں جو سردی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ لوگوں کا زیادہ وقت گھر کے اندر ہی گزرتا ہے۔

یہاں کے شدید سرد موسم کی وجہ سمندر سے بہت زیادہ دوری ہے جبکہ یہاں سورج کی روشنی سے لطف اندوز ہونے کا موقع لوگوں کو سال کے بیشتر حصوں میں محض چند گھنٹے کے لیے ہی ملتا ہے۔تاہم گرمیوں میں کبھی کبھار درجہ حرارت 30 سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

مگر سب سے دلچسپ چیز اس گاﺅں کا نام ہے جہاں سردی سے سب کچھ جم جاتا ہے مگر اویمیاکون کا مطلب ہے ایسا پانی جو کبھی جمتا نہیں۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں