427

ساہیوال، سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے ماں، باپ اور بیٹی سمیت 4 جاں بحق، اہلکار گرفتار

ساہیوال(ورلڈ پوائنٹ نیوز) قادرآباد کے قریب پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی فائرنگ سے ماں، باپ اور بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور 3 بچے زخمی ہوگئے جب کہ مبینہ مقابلے میں شریک اہل کاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ساہیوال میں ٹول پلازہ کے نزدیک سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 4 افراد جاں بحق اور 3 بچے زخمی ہوگئے۔ جاں بحق افراد میں ایک خاتون نبیلہ، ان کا شوہر محمد خلیل اور ان کی 13 سالہ چھوٹی بیٹی اریبہ شامل ہے جبکہ ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں بھی زخمی ہوئی ہیں۔ جاں بحق افراد میں چوتھا شخص ذیشان ان کا ہمسایہ تھا۔ یہ پورا خاندان لاہور کا رہائشی تھا جو شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے بورے والا جارہا تھا۔

سی ٹی ڈی نے ابتدائی بیان میں مرنے والے تمام افراد کو کالعدم تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کا دہشت گرد قرار دیا، بعد میں اپنا مؤقف بدل کر چاروں جاں بحق افراد کو اغوا کار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے ساہیوال میں جی ٹی روڈ پر ٹول پلازہ کے نزدیک ایک آلٹو گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تو کار سوار افراد نے فائرنگ کردی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے چاروں افراد ہلاک ہوگئے تاہم کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

پولیس نے کہا کہ اغوا کاروں کے قبضے سے تین بچے بازیاب کرالیے گئے جو گاڑی کی ڈگی میں موجود تھے۔ تاہم صورت حال اس وقت یکسر تبدیل ہوگئی جب لاشوں اور زخمی بچوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

جب بچوں کا بیان قلمبند کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد میں ان کے والد، والدہ، بڑی بہن اور والد کا دوست شامل ہیں۔ وہ لوگ رشتے داروں سے ملنے لاہور سے بورے والا جارہے تھے کہ راستے میں پولیس نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ بچوں نے کہا کہ پاپا نے پولیس سے بہت کہا کہ تلاشی لے لو، ہمارے پاس کچھ نہیں، لیکن پولیس نے گولیاں ماردیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس نے نہ گاڑی روکی اور نہ تلاشی لی بلکہ سیدھی فائرنگ کردی جبکہ گاڑی سے بھی کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا۔ نیز ڈگی میں بچوں کے ہونے کا دعویٰ بھی غلط ہے۔

مقامی تھانہ یوسف والا پولیس نے ہلاک شدگان کی شناخت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی سی ٹی ڈی کی جانب سے کی گئی ہے۔

جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے لاشوں کے پاس جب ایک پستول بھی موجود نہیں تو پولیس نے ان پر کیوں فائرنگ کی۔

اپنے دوسرے بیان میں پولیس نے اس معاملے پر اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔ پہلے ان افراد کو اغوا کار قرار دیا گیا تھا تاہم بعدازاں سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہلاک افراد دہشت گرد تھے جن کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے تھا جن کا نام ریڈ بک میں بھی شامل ہے۔

سی ٹی ڈی ٹیم نے یہ بھی کہا کہ اس نے جائے وقوعہ سے خود کش جیکٹ، ہینڈ گرنیڈز اور رائفلز سمیت دیگر اسلحہ اپنے قبضے میں لیا۔ ان کے ساتھ ایک موٹرسائیکل پر دیگر 2 دہشت گرد تھے جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق یہ نیٹ ورک درجنوں قتل اور بم دھماکوں کے واقعات میں ملوث تھا، اس گروہ کا ایک کارندہ ذیشان جاوید ساہیوال میں مارا گیا جبکہ اس کا دوسرا ساتھی عدیل حفیظ فیصل آباد میں مارا گیا تھا۔ یہ لوگ ملتان میں آئی ایس آئی کے تین افسران اور فیصل آباد میں ایک پولیس افسر کے قتل میں ملوث تھے۔

واقعے میں زندہ بچ جانے والے بچوں میں 2 لڑکیاں اور ایک بچہ شامل ہے جس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنا نام عمیر خلیل اور والد کا نام محمد خلیل بتایا۔ عمر خلیل نے کہا کہ وہ لوگ چاچا رضوان کی شادی میں شرکت کے لیے بوریوالا گاؤں جارہے تھے، جبکہ والدین کو مارنے کے بعد پولیس انہیں ایک پٹرول پمپ پر چھوڑ کر چلی گئی، تاہم پھر واپس آئی اور اسپتال پہنچایا۔

وزیر اعظم کا نوٹس، رپورٹ طلب

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کرلی، جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر مشکوک مقابلے میں ملوث سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے کمشنر اور ڈی سی کو واقعہ میں زخمی افراد کو تمام طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے جب کہ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت اورکمشنر و ڈی سی کو لواحقین اور مظاہرین سے فوری رابطے کا بھی کہا ہے۔

زخمی بچوں کی کفالت حکومت کے ذمہ ہوگی، وزیر اعلی پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں سی ٹی ڈی کے اہلکار قصور وار ثابت ہوئے تو مرنے والوں کے لواحقین کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا، جب کہ قصور وار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اسپتال کا دورہ کیا اور اعلان کیا کہ زخمی ہونے والے بچوں کی کفالت حکومت کے ذمہ ہوگی۔
ڈی آئی جی کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل

علاوہ ازیں آئی جی پنجاب نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے جس میں حساس اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں