339

سکیورٹی زون کے مرحلے پر شام کی زمینی سالمیت کے دائرہ کار میں غور کیا جانا چاہیے: لاوروف

ماسکو(ورلڈ پوائنٹ نیوز) روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے شام میں دریائے فرات کے مشرق میں زیرِ غور سکیورٹی زون کی تشکیل کے موضوع کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ترکی سمیت شام کے تمام ہمسائیوں اور تمام علاقائی فریقوں کی سلامتی اور مفادات کو نگاہ میں رکھیں گے۔

لاوروف نے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ پریس کانفرنس میں متوقع سکیورٹی زون کے بارے میں اناطولیہ خبر رساں ایجنسی کے سوال کا جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ منصوبے کے مرحلے پر ، جسے امریکہ کے صدر ٹرمپ ایجنڈے پر لائے اور ابتدائی مراحل میں جسے ترکی مثبت خیال کر رہا ہے، شام کی زمینی سالمیت کے دائرہ کار میں غور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے تمام پہلووں کا جائزہ ایک ایسے دائرہ کار میں لیا جانا ضروری ہے کہ جو کم از کم وقت میں شام کی زمینی سالمیت کو یقینی بنا سکے۔ جب صدر رجب طیب ایردوان اب کے بعد کے مذاکرات کے لئے تشریف لائیں گے تو صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ مذاکرات میں اس موضوع پر غور کیا جائے گا۔

شام کی زمینی سالمیت کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ میں اس بات کا اعادہ کرنا چاہوں گا کہ یہاں ہمارا مقصد شام کی زمینی سالمیت سے متعلق ایسا سمجھوتہ ہے کہ جس پر امریکہ، ترکی اور روس سمیت اقوام متحدہ کے فریقین کے دستخط موجود ہوں۔ اس دوران یہ بھی کہتا چلوں کہ ہم یقیناً ترکی سمیت شام کے ہمسائیوں اور علاقے کے تمام فریقین کی سلامتی اور مفادات کو نگاہ میں رکھیں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل اپنے ٹویٹر پیج سے جاری کردہ بیان میں شام میں ایک 20 میل طویل سکیورٹی زون کے قیام کی بات کی تھی۔ بیان کے بعد صدر ٹرمپ اور صدر ایردوان کے درمیان ٹیلی فونک ملاقات ہوئی جس میں موضوع کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا۔

بعد ازاں صدر ایردوان نے مذکورہ سکیورٹی زون کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ شام میں ترکی کی پوری سرحد پر ہماری طرف سے بھی متوقع حصے کے سمیت 20 میل پر مشتمل سکیورٹی زون کے موضوع پر میں صدر اوباما کے دور سے زور دیتا چلا آ رہا ہوں ا ور اب صدر ٹرمپ بھی یہی تجویز پیش کر رہے ہیں۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں