310

شاہ محمود قریشی کا 3 ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ

اسلام آباد(ورلڈ پوائنٹ نیوز) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے چینی ہم منصب سے گفتگو کی اور بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں حملے کے بعد خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی اسٹیٹ قونصلر اور وزیر خارجہ وانگ ژی سے مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ واقعات پر خطے کی بدلتی صورتحال سے آگاہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے چین کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن اور استحکام کے لیے اور بھارت کے ساتھ تمام معاملات کا مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے کشیدہ صورتحال کو کم کرنے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے اٹھائی گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔

اس موقع پر اسٹیٹ قونصلر وانگ یی نے کال کرنے پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ چینی وزیر خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کی بدلتی علاقائی صورتحال سنگین ہے اور اس کے پورے خطے کی سیکیورٹی اور امن کی صورتحال پر اثرات مضمر ہیں۔

انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور اس کے لیے پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔

گفتگو کے دوران دونوں ممالک کے وزرا خارجہ نے علاقائی ترقی کے معاملات پر مستقبل میں رابطوں پر اتفاق کیا۔

شاہ محمود قریشی کی جرمن وزیر خارجہ سے گفتگو
اس سے قبل وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں حملے کے بعد خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔

گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی روابط کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کیا اور پہلے سے موجود دوستی اور باہمی جذبہ خیر سگالی کو مضبوط سیاسی اور معاشی شراکت داری میں ڈھالنے پر آمادگی ظاہر کی۔

وزیر خارجہ نے اپنے جرمن ہم منصب کو پلوامہ واقعے کے بعد پیدا ہونے والی خطے کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ بھارت کی جانب سے جارحانہ رویے اور بے بنیاد الزامات کے باوجود پاکستان نے واقعے کی تحقیقات میں تعاون کرنے اور بھارت کو قابلِ کارروائی ثبوت فراہم کرنے کا بھی کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر امن ہمسائے چاہتا ہے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پر عزم ہے۔

شاہ محمود قریشی نے جرمن وزیر خارجہ کو پلوامہ حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا۔

جرمن وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اس کے ساتھ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی اہمیت کے امور پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

وزیر خارجہ کا دورہ جاپان منسوخ
پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ جاپان منسوخ کر دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ کو 24 سے 27 فروری تک جاپان کا اہم دورہ کرنا تھا اور اس کے دوران ان کی جاپانی وزیراعظم سمیت اہم شخصیات سے ملاقات طے تھی۔

دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ جاپانی حکام سے مشاورت کے بعد کیا گیا، دورے کا نیا شیڈول باہمی مشاورت سے بعد میں جاری کیا جائے گا۔

جاپانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ
بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے جاپانی ہم منصب تارو کونو کو ٹیلیفون کیا اور حالیہ دورہ جاپان کو مؤخر کرنے کی وجوہات سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جاپان کی اعلیٰ شخصیات کے متواتر دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات میں بہت بہتری آئی، اسی تناظر میں آپ کی دعوت پر مجھے 24 فروری کو جاپان کے دورے کے لیے روانہ ہونا تھا۔

وزیر خارجہ نے جاپانی ہم منصب کو خطے کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پلوامہ واقعہ کے بعد جنوبی ایشیا میں امن و امان کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہو چکی ہے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بذریعہ خط اپنا کردار ادا کرنے کا کہا ہے اور جاپان کو بھی اس ضمن میں اپنا موثر کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

وزیر خارجہ کے مطابق اس نازک صورتحال میں ان کی اپنے ملک میں موجودگی ناگزیر ہے اور مذکورہ وجوہات کی بنا پر انہیں اپنا دورہ جاپان مؤخر کرنا پڑا ہے۔

گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے جلد از جلد باہمی مشاورت سے دورہ جاپان کی نئی تاریخ طے کرنے پر اتفاق کیا اور جاپانی وزیر خارجہ نے کہا کہ شاہ مـحمود قریشی جب دورہ جاپان پر تشریف لائیں گے تو ان کی ملاقات وزیر اعظم جاپان سے بھی کرائی جائے گی۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جاپان اور پاکستان کے مابین دیرینہ دو طرفہ دوستانہ مراسم ہیں اور میں نے جاپانی وزیر خارجہ سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنے وزیر اعظم کو بھی ان تمام حالات سے آگاہ کریں جن کے باعث یہ دورہ مؤخر کرنا پڑا۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں