369

شوکیس میں رکھی عید اور گڑیا کا دل

لینہ حاشر

شاہد کے گھر والوں کی زندگی ایک ہی ڈگر پر چلتی رہتی تھی۔ عام دن ہوں کہ تیوہار۔ عیدالفطر ہو یا عیدالاضحٰی، کسی کی تیاری میں چنداں فرق نہ رکھا جاتا تھا۔ اسی طرح روزے جاڑے میں آئیں یا پھر تپتے ہوئے موسم میں۔ کیونکہ ان کے ہاں سارا سال ہی روزے چلتے تھے۔ کھانے پینے کو کئی روز بس اتنا ہی ہوتا تھا کہ اس کو آٹھ پہر کے روزے سے تشبیہ دینا ممکن تھا۔

شاہد، گڑیا اور امجد دو برس پہلے تک تین زندہ سلامت بہن بھائی تھے۔ شاہد کو گرمیاں بہت پسند تھیں کیونکہ اس کو تن ڈھانپنے کے لیے لنگوٹ بھی کافی ہوتا تھا۔ دو برس پہلے کا جاڑا بھی لیکن اسے کچھ بھلا ہی لگا۔ اور وہ یوں کہ سردیوں کا آغاز ہوا تو امجد نمونیہ کی وجہ سے چل بسا۔ شاہد کو بھائی کی موت کا یقین آنا مشکل تھا۔ پر یہ بے یقینی کا سفر ایک رات میں کٹ گیا۔ جب سرد رات میں اس کے تھرتھراتے بدن پر بھائی کا اکلوتا سویٹر پہنایا اور پھٹا پرانا کمبل اڑا دیا گیا۔ نجانے کتنے عرصے کے بعد اسے ایسا محسوس ہوا کہ رات کی گھڑیاں جلد بیت گئیں۔ شاید بھائی کی گرم کوٹی اور چھید سے بھرے کمبل نے اسے بھائی کے موت پر اعتبار لانے اور یہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ جاڑا اتنا بھی برا نہیں ہوتا۔

عید کے تیوہار کے دنوں بالخصوص تینوں سورج کے ڈوبتے ہی مارکیٹ کا رخ کرتے تھے۔ اور چاند رات کو تو گویا یہ فرض ہوتا۔ پر پچھلے دو برس سے تین سے دو رہ گئے تھے۔ معمول بہرحال وہی رہا۔ حسب روایت شاہد، گڑیا کو لیے ان دکانوں کے پاس لے جاتا جو چیزوں سے لدی ہوئی تھیں۔ امراء کے بچے گاڑیوں سے قدم نکالتے ہی ان میں داخل ہو جاتے۔ بچے جن کپڑوں اور کھلونوں کی طرف اشارہ کرتے ان کی نگاہیں بھی اسی چیز کا تعاقب کرتیں۔ شیشے کے پار بچے اپنی جاذب نظر چیزوں کا انتخاب کر کے اپنا دل بہلاتے اور وہ ان کو دیکھ کر۔ اگر تیوہار سردیوں میں آتا تو زیادہ دیر ایک ہی دن کے آگے وہ ٹھٹھر جاتے اس لیے اپنے جسم کو گرم رکھنے کی خاطر بازار میں یک گونہ طواف کی سی کیفیت میں بھاگتے رہتے۔ جہاں جسم کو سردی سے تھوڑی راحت ملتی وہ پھر کسی دکان کے باہر شیشے سے ناک لگا کر اپنے مشغلے میں جت جاتے۔

ان کا ایک اور پسندیدہ کام حیرت اور اشتیاق سے دکانوں کے شوکیسوں میں سجے پلاسٹک کے مجسموں کو گھورنا تھا۔ دکان والے اسے ڈمی کہتے تھے اور ہر کچھ روز بعد ان ڈمیوں کو موسم کے حساب سے نت نئے لباس سے آراستہ کیا جاتا۔

شدید سرد موسم میں جب وہ ڈمی کے بے جان جسم کو گرم کپڑوں سے ڈھکا دیکھتے تو ان کو سردی کی شدت کا احساس اور ہونے لگتا۔ پلاسٹک کے ہاتھوں پر اونی دستانے ان کی یخ انگلیوں میں خون کو اور جما دیتے۔ دبیز کپڑے سے بنے اوور کوٹ کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھاتے تو رستے میں آر پار نظر آنے والی دیوار حائل ہو جاتی۔ پر کبھی کبھی یوں بھی ہوتا کہ مخملی مفلر کا احساس شیشے کی دیوار پھلانگ کر ان کی گردنوں کو گدگدا دیتا اور ایک مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر بکھر جاتی۔ اس مسکان کو سجائے وہم و گمان کی کیفیات سے گزرتے آگے بڑھتے تو بازار کے کونے میں جوتوں کی دکانیں شروع ہو جاتیں۔

یہاں ان کا اشتیاق دیکھنے لائق ہوتا۔ آپس میں چہلیں کرتے۔ اشاروں سے تیز تیز گفتگو شروع ہو جاتی۔ کبھی کالے رنگ کے جوتے پر ان کا دل آ جاتا تو کبھی بھورے رنگ کا جوتا ان کے من کو بھانے لگتا۔ خیالوں کی شاپنگ کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ شیشوں سے بالکل چپک کر کھڑے ہو جاتے۔ پھر اکثر چوکیدار ان کے گمان اور ان کے سارے خوابوں کو ایک ہی دھکے سے روند دیتے۔ دھکے کے ساتھ کبھی کبھی ایک آدھ گالی یا ایک دو تھپڑ بھی مفت مل جاتا تھا۔ زندگی میں اس کے علاوہ بھوک بھی مفت تھی اور خواہشوں کے گھوڑے بھی جن پر وہ ہمہ وقت سوار رہتے پر باقی ہر شے کی قیمت تھی۔ ان کی جیبوں نے کبھی سکوں کی کھنک بھی نہ سنی تھی۔

بازار کے بیچ سلاخوں کے درمیان بچوں کے لیے کھیلنے کی چھوٹا سا میدان تھا جہاں کچھ جھولے نصب تھے۔ اس کے دروازے پر بھی کوئی نہ کوئی دھکے، تھپڑ اور گالیاں لیے ہمیشہ کھڑا ہوتا اس لیے نہ کبھی گڑیا پینگ چڑھا سکی نہ شاہد اور امجد پلاسٹک کی ڈھلان پر پھسلنے کا شوق پورا کر سکے۔ بازار سے نکلنے کے راستے پر زیبائش کے سٹال لگے ہوتے۔ یہاں بھائی گڑیا کو ایک قدم آگے دھکیلتے تو گڑیا انہیں دو قدم پیچھے کی جانب پلٹنے پر مجبور کر دیتی۔ ادھر گڑیا کو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ وہ ٹکٹکی باندھے چوڑی، بندی، بالی اور لالی کو تکے جاتی۔ ہر چیز اس کی پہنچ سے باہر ہوتی۔ اس کا دل کانچ کی چوڑی کی طرح ہر حسرت بھری واپس لوٹتے نظر کے ساتھ کرچی کرچی ہو جاتا۔ گڑیا کا بھائیوں سے بھرائی ہوئی آواز کے ساتھ برستے آنسوں کو چھپانا ممکن نہ رہتا۔ جو کام پہلےامجد کرتا تھا اب وہ شاہد کے ذمے تھا اس لیے شاہد اس کے دل کی کرچیوں کو ایک ایک کر کے اکٹھا کرتا۔ اپنی بہن کی ایک مسکان کے لیے کبھی بندر بن کر دکھلاتا تو کبھی شیر۔ سارے رستے اپنے بوجھل دل کے ساتھ گڑیا کو بہلانے کے جتن کرتا۔ گھر واپس لوٹتے اور کبھی خالی پیٹ تو کبھی پانی کے ساتھ بھیگی باسی روٹی کھا کر سو جاتے۔ اگلی صبح اور کچھ ہو نا ہو، ماں انہیں عید مبارک کہنا کبھی نہیں بھولی۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں