537

ضلع گوجرانوالہ کی سیاسی صورتحال

عامر منیر ہندل

پورے ملک میں الیکشن کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ہر پارٹی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ میری نظر میں ضلع گوجرانوالہ کی سیاسی صورت حال کچھ اسطرح سے ہے۔ این اے 79 گوجرانوالہ 1 اس حلقہ سے جو نمایاں امیدوار ہیں، ان میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے محمد احمد چھٹہ ہیں جو گوجرانوالہ کے معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ حامد ناصر چھٹہ ان کے والد گرامی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے ڈاکٹر نثار چیمہ ہیں جو جسٹس افتخار چیمہ اور سابقہ آئی جی موٹروے کے بھائی ہیں۔ دونوں امیدواروں کے خاندان بڑے تگڑے ہیں۔ تیسرے امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے اعجاز احمد چیمہ ہیں جو قدرے کمزرو امیدوار ہیں۔

اس حلقہ سے ملی مسلم لیگ اور لبیک یا رسول اللہ کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ مذہبی جماعت کا جتنا بھی ووٹ بنک ہے وہ دراصل مسلم لیگ ن کو پریشان کریگا۔ علاقے کی رائے کے مطابق اس حلقہ سے محمد احمد چھٹہ بلا کے نشان پر جیتنے کی پوزیشن میں واضح برتری رکھتے ہیں۔

پی پی 51 گوجرانوالہ 1 پیپلزپارٹی کی طرف سے اعجاز احمد چیمہ، پاکستان تحریک انصاف سے محمد شبیر اکرم، مسلم لیگ ن سے شوکت منظور چیمہ کے علاوہ دینی جماعتوں کے تین عدد امیدوار میدان میں ہیں مگر اس حلقے میں اصل مقابلہ بلے اور شیر میں ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ اس حلقے میں بلے کا پلڑا بھاری ہے۔

پی پی 52 گوجرانوالہ 2 پیپلزپارٹی کے امیدوار شہباز حیدر، مسلم لیگ ن کے امیدوار عادل بخش چھٹہ، تحریک انصاف سے محمد احمد چھٹہ امیدوار ہیں۔ یہ ایک وقت میں قومی و صوبائی دونوں سیٹوں پر امیدوار ہیں۔ اس کے علاوہ دینی جماعتوں کی امیدوار کتاب، کرین، کرسی وغیرہ بھرپور انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس صوبائی حلقے سے بلا مضبوط پوزیشن میں ہے۔ این اے 80 گوجرانوالہ 2 اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے سابق وزیرِ قانون محمود بشیر ورک امیدوار ہیں۔ پیپلزپارٹی کے طرف سے رائو اکرام علی امیدوار ہیں۔ تحریک انصاف سے طارق محمود گجر ہیں جن کا مسلم لیگ ن سے تعلق رہا ہے۔

اس کے علاوہ دیگر دینی جماعتیں بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس حلقے میں دونوں امیدوار مضبوط پوزیشن میں ہیں مگر تحریک انصاف کے امیدوار جیت کی پوزیشن میں ہیں۔ پی پی 53 گوجرانوالہ 3 تحریک انصاف کے امیدوار ناصر چیمہ ہیں۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے بلال فاروق تارڑ موجود ہیں جو سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ کے قریبی عزیز ہیں۔

پیپلزپارٹی کے امیدوار سعود حسن ڈار ہیں اس حلقے میں مذہبی جماعتیں بھی میدان میں اتری ہیں، مگر اس حلقے میں اصل مقابلہ بلے اور شیر کے درمیان ہے۔ پی پی 54، 4 مسلم لیگ ن کے امیدوار عمران خالد بٹ ہیں تحریک انصاف کی طرف سے رضوان اسلم بٹ ہے۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار مرزا اویس بیگ ہیں۔ اس کے علاوہ دینی جماعتوں کی طرف سے کرسی، کتاب، کرین میدان میںمسلم لیگ (ن) کا ووٹ توڑنے کی واضع پوزیشن میں ہے۔ اس حلقے میں عمران خالد بٹ دو مرتبہ ایم پی اے رہے ہیں۔ ان دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ آخر میں جیت بلے کی ہو سکتی ہے۔ اس حلقے میں بلے کا امیدوار بڑا مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔

این اے 81 گوجرانوالہ 3 تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری صدیق مہرمسلم لیگ ن کے امیدوار سابق وفاقی امیدوار خرم دستگیر خان، پیپلزپارٹی کے امیدوار اسحاق گجر، دینی جماعتوں کے امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں۔ اس حلقے میں شیر کو تمام جماعتوں میں واضح برتری حاصل ہے۔ پی پی 55، 5 مسلم لیگ ن کے طرفے سے نواز چوہان اور تحریک انصاف سے ارقم خان ہیں۔ کتاب اور کرین بھی میدان میں ہیں۔ اس حلقے میں بلا شیر پر حاوی نظر آ رہا ہے۔ پی پی 56، 6 اس حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری طارق گجر ہیں، پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد اشفاق ہیں اور ن لیگ کے توفیق بٹ ہیں۔ اس حلقے میں بلا اور شیر کے اپ سیٹ ہونے کا خدشہ ہے۔ پی پی 57، 7 اس حلقے میں ن لیگ کے امیدوار اشرف انصاری ہیں، تحریک انصاف کے امیدوار اسد اللہ پاپا ہیں اور پی پی پی کے محمد سلیم امیدوار ہیں۔ اس حلقے میں ن لیگ کی پوزیشن مستحکم ہے۔

این اے 82 گوجرانوالہ 4 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار عثمان ابراہیم ہیں اور پی ٹی آئی کے علی اشرف مغل ہیں جبکہ پی پی پی کے اسحاق گجر ہیں۔ مذہبی جماعتوں کی نمائندگی بھی موجود ہے۔ اس حلقے میں بلے اور شیر کا بڑا سنسنی خیز مقابلہ متوقع ہے۔ بہرحال شیر کی برتری قائم لگ رہی ہے۔ پی پی 58 اور پی پی 59 میں بھی پی ٹی آئی اور ن لیگ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ این اے 83 گوجرانوالہ 5 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ذوالفقار بھنڈر اور تحریک انصاف کے امیدوار رانا نذیر احمد ہیں۔ دونوں امیدوار کافی محنت کر رہے ہیں مگر شیر کا جیتنا بڑا اپ سیٹ سمجھ جائیگا۔

پی پی 60 اور پی پی 61 میں بھی پی ٹی آئی اور ن لیگ کا کاٹنے دار مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ این اے 84 گوجرانوالہ 6 میں مسلم لیگ کے امیدوار اظہر قیوم ناہرا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار رانا بلال اعجاز ہیں۔ اظہر یوم ناہرا کا بھائی ضلع کونسل گوجرانولہ بھی ہے۔ ناہرا بردارن اور بلال اعجاز کے درمیان گھمسان کا مقابلہ متوقع ہے۔ بہرحال شیر کی جیت کے امکانات موجود ہیں۔

پی پی 62.63.64 میں بھی دونوں جماعتوں کا کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ اس حلقے میں گجر، جٹ اور رانا برادریاں موجود ہیں۔ اس حلقے کا ووٹ خالصتاً برادریوں کے نمائندگان کا ووٹ ہوگا۔

آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ 25 جولائی کی رات کو رزلٹ آنے کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں