376

ضمنی انتخابات میں غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری

ملک میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ملک کے 35 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔ قومی اسمبلی کے 11 اورصوبائی اسمبلی کے 24 حلقوں میں 370 امیدوار کے درمیان مقابلہ ہوا جس کے لیے 95 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے۔

پنجاب میں قومی اسمبلی کی 8، سندھ، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں ایک ایک نشست پر الیکشنز ہوئے جب کہ پنجاب اسمبلی کی 11، خیبر پختونخوا کی 9، سندھ کی 2 اور بلوچستان کی بھی 2 نشستوں پر ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ ہوئی۔

92 لاکھ 83 ہزار 74 ووٹرز کو حق رائے دہی کی سہولت دینے کے لیے ساڑھے 7 ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے۔ مختلف حلقوں کے1727 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا۔

قومی اسمبلی
قومی اسمبلی کی جن نشستوں پر آج پولنگ ہوئی ان میں این اے 35 بنوں، این اے 56 اٹک ، این اے 53 اسلام آباد، این اے 60 راولپنڈی، این اے 63 راولپنڈی، این اے 103 فیصل آباد، این اے 65 چکوال، این اے 69 گجرات، این اے 124، این اے 131 لاہور، این اے 243 کراچی شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کا پہلا غیر سرکاری نتیجہ این اے 65 چکوال سے موصول ہوا جس کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ق) کے امیدوار اور چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین پہلے نمبر پر رہے جنہوں نے 98 ہزار 364 ووٹ حاصل کیے جب کہ ٹی ایل پی کے محمد یعقوب 34 ہزار 811 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

پنجاب اسمبلی
پنجاب میں پی پی 3 اٹک، پی پی 27 جہلم، پی پی 103 فیصل آباد، پی پی 118 ٹوبہ ٹیک سنگھ، پی پی 164، 165 لاہور، پی پی 201 ساہیوال، پی پی 222 ملتان، پی پی 261 رحیم یار خان، پی پی 272 مظفر گڑھ، پی پی 292 ڈی جی خان پر الیکشن ہوئے۔

پی پی 164 لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سہیل شوکت بٹ 23 ہزار 727 ووٹ لے کر پہلے اور پی ٹی آئی کے امیدوار یوسف علی 15 ہزار 102 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 201 ساہیوال سے پی ٹی آئی کے امیدوار صمصام علی شاہ بخاری 58 ہزار 280 ووٹ کے ساتھ پہلے اور (ن) لیگ کے امیدوار محمد طفیل 51 ہزار 662 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 292 ڈی جی خان سے (ن) لیگ کے امیدوار سردار اویس احمد خان لغاری 32 ہزار 845 ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار مسعود خان لغاری 21 ہزار 938 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 272 میں تحریک انصاف کی خاتون زہرہ بتول 24019 ووٹ لے کے کامیاب قرار پائیں جب کہ ان کے مدمقابل سید ہارون احمد سلطان 17072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، سید ہارون آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے تھے۔

سندھ اور بلوچستان اسمبلی
سندھ میں پی ایس 30 خیرپور اور پی ایس 87 ملیر کراچی جبکہ بلوچستان میں پی بی 35 مستونگ اور پی بی 40 خضدار میں ضمنی انتخاب ہوا۔

خیبر پختونخوا
خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستوں پی کے 3 اور پی کے 7 سوات، پی کے 44 صوابی، پی کے 53 مردان، پی کے 61 اور 64 نوشہرہ، پی کے 78 پشاور، پی کے 97 اور 99 ڈی آئی خان میں رائے شماری ہوئی۔

آئی ووٹنگ
اس ضمنی انتخاب میں ملکی تاریخ میں پہلی بار انٹرنیٹ ووٹنگ ہوئی۔ 35 حلقوں کے 7364 سمندرپار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ کے تحت اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت تھی جن میں سے 5881 نے ووٹ کاسٹ کیا۔

ضمنی انتخابات میں 40 ہزار سے زائد پاک فوج کے جوان نے فرائض سرانجام دیے جب کہ ایک لاکھ سے زائد پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوجی جوان بھی پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات رہے۔

الیکشن کمیشن کی ہدایت پر وزارت توانائی نے پولنگ کے دوران متعلقہ حلقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں کی۔ الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی اسٹاف کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کیا جس کے مطابق سیکیورٹی اسٹاف پریذائیڈنگ آفیسر اور آر اوز کے ماتحت ہوں گے۔ سیکیورٹی حکام بیلٹ پیپرز کی گنتی میں مداخلت نہیں کریں گے۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں