343

طالبان رہنماؤں کی سفری پابندی کے خاتمے پر امریکا، روس متفق

واشنگٹن(ورلڈ پوائنٹ نیوز) امریکا اور روس نے اقوام متحدہ کی جانب سے طالبان رہنماؤں پر لگائی گئی سفری پابندیوں کو ختم کرنے کے آپشن پر اتفاق کیا ہے تاکہ وہ افغان امن مذاکرات میں شرکت کرسکیں۔

امریکا کی جانب سے افغانستان امن مذاکرات کے لیے نامزد خصوصی مشیر زلمے خلیل زاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ اس معاملے پر میں نے جمعے کو انقرہ میں روسی ہم منصب ضمیر کابیلوف سے بات چیت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہم نے اتفاق کیا کہ افغان امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے جو بھی ضروری ہو، اس پر عمل کیا جائے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم اقوام متحدہ کی جانب سے طالبان رہنماؤں پر لگائی جانے والی سفر پابندیوں کو ختم کرنے کے آپشن پر غور کررہے ہیں تاکہ انہیں امن مذاکرات میں شامل ہونے میں آسانی پیدا کی جاسکے’۔

مذکورہ ٹوئٹس کے مطابق روسی اور امریکی مشیروں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ‘مزید پیش رفت کرتے ہوئے، افغانی متحد، باہمی اور قومی مذاکرات کی ٹیم کے نام کا اعلان کریں، جن میں افغان حکومت اور دیگر افغانی شامل ہوں’۔

دونوں ممالک کے مشیروں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ افغانستان کے حوالے سے ہونے والے کسی بھی حتمی معاہدے ‘میں اس بات کی ضمانت دی جائے گی کہ افغانستان کی زمین کبھی بھی’ کسی بھی ملک کے خلاف بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات میں ‘امن کے لیے کوششیں اور خرابی کو روکنے کے لیے ایک ممکنہ علاقائی فریم ورک’ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ امریکی مشیر زلمے خلیل زاد، افغان طالبان سے مذاکرات کرنے والی امریکی ٹیم کی سربراہی کررہے ہیں اور دونوں فریقین کے درمیان دوحہ اور قطر میں 3 ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

یاد رہے کہ 20 فروری کو انقرہ میں افغان جنرل عبدالرشید دوستم نے زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی تھی۔

رواں ماہ کے آغاز میں طالبان نے اعلان کیا تھا کہ وہ رواں ماہ میں مذاکرات کے حوالے سے آئندہ ملاقات اسلام آباد میں کرنے کے خواہشمند ہیں لیکن ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ ان پر سفیری پابندیاں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان آئندہ مذاکرات 25 فروری کے لیے شیڈول ہیں اور ان مذاکرات کے انعقاد سے قبل زلمے خلیل زاد کا دورہ اسلام آباد متوقع ہے، جہاں وہ پاکستانی حکام سے ملاقات کریں گے، جنہوں نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اہم کرار ادا کیا۔

دوحہ میں طالبان کے دفتر کی قیادت کرنے والے اور تنظیم کے بانیان میں شامل ملا عبدالغنی برادر طالبان کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی کررہے ہیں، خیال رہے کہ پاکستان نے انہیں 25 اکتوبر 2018 کو امریکی مشیر زلمے خلیل زاد کی درخواست پر اور افغان امن مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے رہا کیا تھا۔

روس، جس نے حال ہی میں طالبان کے تمام دھڑوں کی ملاقات کے لیے سہولت فراہم کی تھی، خود کو افغانستان میں اہم فریق تصور کرتا ہے، جس نے 10 سالہ جنگ کے بعد 1989 میں افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لی تھیں۔

واضح رہے کہ امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں شریک نہیں ہوئی تھی۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں