339

عام انتخابات؛ تحریک انصاف پہلے اور مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر

عام انتخابات 2018 میں غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف پہلے اور مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر ہے، تاہم (ن) لیگ نے انتخابی نتائج مسترد کردیے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی، ایم ایم اے، ایم کیو ایم سمیت تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن کی شفافیت پر تحفظات و خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ورلڈ پوائنٹ نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 112 نشستوں پر برتری حاصل ہے ۔ مسلم لیگ (ن) 50 سیٹوں کے ساتھ دوسرے، پیپلز پارٹی 39 نشستوں کے ساتھ تیسرے اور متحدہ مجلس عمل 8 سیٹوں پر برتری کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ آزاد امیدواروں کو 20 نشستیں حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ 100 فیصد پولنگ اسٹیشنز کے نتائج نہیں ہیں اس لیے ان میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج آنے شروع ہوگئے ہیں۔ ملک بھر میں قومی اسمبلی کی 270 جب کہ چاروں صوبوں کی 570 نشستوں پر پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 6 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ انتخابی عمل میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے سمیت کل 122 سیاسی و مذہبی جماعتوں نے حصہ لیا۔

حلقہ پارٹی کامیاب امیدوار ووٹ
NA-01 متحدہ مجلس عمل مولانا عبدالاکبر چترالی 26133
NA-03 تحریک انصاف سلیم رحمان 61242
NA-05 تحریک انصاف صاحبزادہ صبغت اللہ 41397
NA-07 تحریک انصاف محمد بشیر خان 86909
NA-08 تحریک انصاف جنید اکبر 81310
NA-17 تحریک انصاف عمر ایوب خان 116786
NA-22 تحریک انصا علی محمد خان 58577
NA-25 تحریک انصاف پرویز خٹک 23194
NA-28 تحریک انصاف ارباب عامر ایوب 74414
NA-29 تحریک انصاف ناصر خان 49762
NA-31 تحریک انصاف شوکت علی 87000
NA-33 تحریک انصاف خیال زمان 28819
NA-40 تحریک انصاف گل داد خان 34616
NA-42 تحریک انصاف ساجد خان 22717
NA-52 تحریک انصاف راجہ خرم شہزاد
NA-53 تحریک انصاف عمران خان 92891
NA-54 تحریک انصاف اسد عمر 56945
NA-59 تحریک انصاف غلام سرور خان 89055
NA-62 عوامی مسلم لیگ شیخ رشید 117718
NA-66 تحریک انصاف چوہدری فرخ الطاف 112356
NA-65 پاکستان مسلم لیگ ق چوہدری پرویز الہٰی 150349
NA-68 پاکستان مسلم لیگ ق حسین الہٰی 74680
NA-69 مسلم لیگ ن چوہدری مبشر حسین 81000
NA-71 تحریک انصاف الیاس چوہدری 89545
NA-77 مسلم لیگ ن مہناز اکبر عزیز 111216
NA-78 مسلم لیگ ن احسن اقبال 126385
NA-81 مسلم لیگ ن خرم دستگیر خان 130837
NA-84 مسلم لیگ ن اظہر قیوم 119612
NA-93 تحریک انصاف عمر اسلم خان 100448
NA-98 تحریک انصاف محمد افضل خان 125484
NA-99 تحریک انصاف غلام محمد لالی 81987
NA-118 تحریک انصاف اعجاز احمد شاہ 63982
NA-120 مسلم لیگ ن رانا تنویر حسین 99674
NA-123 مسلم لیگ ن ریاض ملک 97193
NA-124 مسلم لیگ ن حمزہ شہباز 116272
NA-133 مسلم لیگ ن محمد پرویز ملک 87506
NA-135 تحریک انصاف ملک کرامت علی کھوکھر 64765
NA-137 مسلم لیگ ن سعد وسیم اختر 38077
NA-150 آزاد امیدوار سید فخر امام 85321
NA-151 مسلم لیگ ن محمد خان ڈاہا 111198
NA-154 تحریک انصاف احمد حسین 82506
NA-155 تحریک انصاف ملک محمد عامر ڈوگر 88567
NA-156 تحریک انصاف شاہ محمود قریشی 93500
NA-158 تحریک انصاف محمد ابراہیم خان 83297
NA-171 مسلم لیگ ن میاں ریاض حسین پیرزادہ 59500
NA-173 مسلم لیگ ن میاں نجیب الدین اویسی 78180
NA-177 تحریک انصاف خسرو بختیار 100768
NA-180 پاکستان پیپلزپارٹی مرتضیٰ محمود 70000
NA-183 پاکستان پیپلزپارٹی رضاربانی کھر 57289
NA-188 تحریک انصاف ملک نیاز احمد 103000
NA-193 تحریک انصاف سردار جعفرخان لغاری 87915
NA-194 تحریک انصاف سردار نصر اللہ خان دریشک 73806
NA-197 پیپلز پارٹی احسان الرحمن مزاری
NA-205 آزاد امیدوار علی محمد مہر 56280
NA-224 پیپلز پارٹی ذوالفقار بچانی 80230
NA-229 پیپلز پارٹی میر غلام علی تالپور
NA-231 پیپلز پارٹی سید ایز علی شاہ شیرازی 129980
NA-236 پاکستان پیپلزپارٹی جام عبدالکریم بجار 65623
قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے 12 ہزار 570 امیدوار میدان میں ہیں۔ قومی کی 2 اور صوبائی اسمبلیوں کی 6 نشستوں پر مختلف وجوہات کی بناء پر انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں۔

ملک بھر میں 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 92 لاکھ 24 ہزار 263 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 کروڑ 67 لاکھ 31 ہزار 146 ہے، حق رائے دہی کے لیے ملک بھر میں 85 ہزار 252 پولنگ اسٹیشنز جب کہ 2 لاکھ 41 ہزار 132 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے۔ جس میں سے 17 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قراردیا گیاتھا۔

انتخابات کے لئے مجموعی طور پر 21 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے گئے، قومی اسمبلی کے لئے سبز جب کہ صوبائی اسمبلی کے لئے سفید بیلٹ پیپراستعمال ہوا، ملکی تاریخ میں پہلی بار بیلٹ پیپرز میں سیکیورٹی فیچرز بھی شامل کیے گئے۔ اس مرتبہ پہلی بار تعلیمی اداروں کے علاوہ دوسرے اداروں سے بھی ملازمین کو انتخابی ڈیوٹی کا حصہ بنایا گیا، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ سے 6 ہزار سے زائد اساتذہ کو الیکشن ٹریننگ کرائی گئی۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں