634

عمران ، ریحام ، شیرو اور میں، قسط 1 تا5

  رؤف کلاسرا

دو ہزار پانچ کی ایک شام کی بات ہے۔ ایک فون آیا ۔ آواز جانی پہچانی تھی ۔
”خان صاحب آپ سے ضروری ملنا چاہتے ہیں ۔‘‘
میں نے پوچھا :کون سے خان صاحب ؟
” عمران خان…کل چار بجے بنی گالہ آسکتے ہیں ۔‘‘
میرا بنی گالہ کا یہ تیسرا وزٹ تھا۔

کئی برس پہلے کالم نگار دوست ہارون الرشید کے ساتھ بنی گالہ گیا تھا ۔ انفارمیشن گروپ کے دوست کے بھائی کو شوکت خانم لیب سے نکال دیا گیا تھا ۔ دوست نے کہا ‘عمران خان سے بات کر کے دیکھ لو۔ میں نے کہا: میں خود تو خان صاحب سے اتنا بے تکلف نہیں ہوں کہ فون اٹھائوں اور کہہ دوں‘ ہاں ہارون الرشید کی خان صاحب سے قریبی دوستی ہے۔ ہارون صاحب کی مہربانی کہ میری ایسی باتیں بھی مان لیتے ہیں‘ جو شاید ہزاروں لوگ بھی مل کر ان سے نہ منوا سکیں ۔ کسی نے پوچھا: تمہارے پاس کیا ”گیدڑ سنگھی‘‘ ہے شہر کے ”ضدی لوگ‘‘بھی تمہاری بات مان لیتے ہیں۔

میں نے کہا: کون کون سے؟ کہنے لگے: ڈاکٹر بابر اعوان، ہارون الرشید اور ارشد شریف‘ ان کے بارے میں مشہور ہے یہ کسی کی نہیں سنتے اور مرضی کرتے ہیں لیکن آپ ان سے بات منواسکتے ہو۔ میں نے کہا: اس فہرست میں میرے مرحوم دوست ڈاکٹر ظفر الطاف اور ڈاکٹر شیر افگن نیازی کے نام بھی ڈال دو۔ دوست بولا: کیا راز ہے؟

میں نے کہا: یہ سب غیر معمولی ذہین ہیں۔ میرے خیال میں ذہین انسان کو قائل کرنا دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ ہم درست طریقے سے ہینڈل نہیں کرتے۔ ہم روایتی طریقہ اپناتے ہیں کہ ان کا منت ترلا کرکے بات منوائو۔ ذہین لوگ ایسے نہیں مانتے۔ ذہین انسان فوراً آپ کی بات مان لے گا جب آپ اسے logic and reasonدیں گے۔ ذہین انسان سے بات منوانی ہے تو دلائل سے منوائیں، واسطے دے کر نہیں ۔ ہارون الرشید بھی دلائل کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور میں ان کی اس خوبصورت کمزوری کا کھل کر استحصال کرتا ہوں ۔ خیر ہارون الرشید کو عمران خان کے پاس لے گیا جو ورزش کر کے فارغ ہوئے تھے۔ ہم تینوں گھر کے باہر لان میں کرسیاں ڈال کر بیٹھ گئے۔

ہارون صاحب کو عمران کے مزاج کا اندازہ تھا لہٰذا خود ہی ملازم کو آواز دی: یار چائے لائو۔ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد ہارون صاحب نے بات شروع کی۔ عمران خان نے بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ٹوکا اور سخت لہجے میں بولے: یہ کام نہیں ہوسکتا‘ اس لڑکے نے مجھے بھی میسیجز کیے تھے کہ اگر میری نوکری بحال نہ ہوئی تو وہ میڈیا میں میرے خلاف خبریں لگوائے گا‘ آپ کو پتا ہے‘ میں بلیک میل نہیں ہوتا۔

ہارون صاحب نے میری طرف اور میں نے ان کی طرف دیکھا۔ بات کیا آگے بڑھتی۔ عمران ان لوگوں میں سے نہیں تھا جو یہ دیکھتا کہ چھوڑو اس لڑکے نے کیا میسیج کیا تھا‘ بات تو یہ تھی کہ ہارون الرشید اور ان کا دوست ان کے پاس آیا ہوا تھا۔خیر ہارون الرشید نے سمجھداری سے بات کسی اور طرف موڑ دی۔ میں نے بعد میں اپنے دوست کو فون کر کے کہا: اگر آپ کا بھائی یہ کام پہلے ہی کر چکا تھا تو ہمیں عمران خان سے ذلیل کرانے کی کیا ضرورت تھی۔

یہ میری عمران خان سے پہلی فارمل ملاقات تھی ۔ اور اس کے بعد آتے جاتے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ ہمیشہ عزت سے ملے۔ بلکہ جب ایک نیا ٹی وی چینل جس میں، میں کام کررہا تھا لانچ ہوا تو چینل کی خواہش تھی کہ عمران خان ٹی لانچنگ پر انٹرویو دیں۔ عمران خان کے سامنے چند نام رکھے گئے کہ وہ ان کا انٹرویو کریں گے تو وہ بولے: نہیں‘ رئوف کلاسرا کو کہو میرا انٹرویو کرے۔ میں نے کہا: میں نے ٹی وی کے لیے انٹرویوز نہیں کیے اور نہ ہی شوق رہا ہے۔ تاہم میرے ادارے کا اصرار تھا ہم نے ہر صورت انٹرویو کرنا ہے۔ مرتا نہ کیا کرتا کے مصداق انٹرویو کرنے گیا۔ یہ عمران خان سے میری دوسری تفصیلی ملاقات تھی۔

اب یہ پہلی دفعہ ہورہا تھا عمران خان مجھے خود ملنا چاہ رہا تھا ۔

میں کوشش کرتا ہوں سیاستدانوں سے ایک حد تک تعلق بنایا جائے۔ بلکہ مجھے ہالی ووڈ کے بڑے اداکاروں ال پیچینو اور رابرٹ ڈی ناریو کی فلم Heat کا ایک ڈائیلاگ اکثر یاد آتا تھا ”ہماری فیلڈ میں ایسا کوئی تعلق نہیں بنایا جاتا جسے تیس سکینڈ میں نہ توڑا جاسکتا ہو‘‘ ۔ یہ ڈائیلاگ مجھے میڈیا پر بھی اپلائی ہوتا ہوا لگا تھا کہ صحافی کو بھی حکمران اور سیاستدان کے ساتھ اس طرح کا تعلق نہیں بنانا چاہیے جسے وہ تیس سکینڈ میں نہ توڑ سکتا ہو۔

اس لیے میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ تعلقات کو ایک حد تک رکھا جائے۔ سیاستدانوں کی توقعات کو زیادہ بڑھاوا نہ دیا جائے۔ ایک دفعہ حسین حقانی‘ جو دو ہزار آٹھ کے الیکشن کے بعد اسلام آباد میں ڈیرے لگائے ہوئے تھے اور کنگ میکر کی طرح زرداری کا دربار چلا رہے تھے‘ نے مجھے فون کیا۔ بولے حسین حقانی بول رہا ہوں۔ میں نے کہا:جی فرمائے۔ کہنے لگے: آپ کو ایک سکوپ دے سکتا ہوں کہ نیا وزیراعظم کون ہوگا ۔
میں کچھ حیران ہوا کیونکہ میری حقانی سے کوئی ذاتی ملاقات تک نہیں تھی کہ وہ مجھے فون کر کے سکوپ دیتے۔ خیر میں نے کہا: شکریہ‘ بتائیں۔ بولے: آپ کو میرے ساتھ ”تعاون‘‘ کرنا ہوگا ۔ بولے: گڈ ول کے طور پر آپ کے لیے پہلا سکوپ‘ نیا وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ہوگا۔ اس وقت تک دور دور تک گیلانی کا نام نہیں تھا۔ حقانی کا خیال تھا کہ میں خوشی سے اچھل پڑوں گا۔ میں نے کہا: شکریہ لیکن اس ڈیل کے ساتھ سکوپ نہیں چاہیے کہ کل کلاں کو آپ کی مرضی کی خبریں مجھے چلانی پڑیں‘ کیونکہ آپ نے ڈیل کی بات کی تھی لہٰذا اب میں آپ کی دی ہوئی خبر نہیں چلائوں گا کہ گیلانی وزیراعظم ہوگا ۔ اگرچہ اس وقت وہ بہت بڑا سکوپ تھا لیکن میں نے دل پر پتھر رکھ کر وہ خبر اخبار میں فائل نہیں کی۔

خیر یہ سب کچھ ذہن میں لیے میں اگلے روز جب بنی گالہ پہنچا تو ذہنی طور پر تیار تھا کہ مجھ سے عمران خان نے کیا باتیں کرنی ہیں اور میرے متوقع جواب کیا ہوسکتے ہیں ۔ عمران خان پہلے ملاقاتیوں کو بنی گالہ گھر کے مین گیٹ کے قریب ہی واقع پارٹی آفس میں ملتے تھے لیکن اس روز مجھے بنی گالہ گھر کے ڈرائنگ روم میں بٹھایا گیا ۔ میں بیٹھا ہی تھا کہ اچانک ریحام خان داخل ہوئی۔ میں ریحام خان کی آمد کی توقع نہیں کررہا تھا ۔ ریحام خان نے روکھے انداز میںسلام کیا ۔ یہ وہ ریحام خان نہیں تھی جو ہماری کولیگ یا ٹی وی اینکر تھی۔ اس وقت ریحام خان عمران خان کی ملکہ کا روپ دھارے ہوئے تھی جو ملک کا اگلا وزیراعظم بننے والا تھااور وہ خاتون اوّل ۔

ریحام کا روکھا رویہ دیکھ کر میں فوراً ریزور ہوگیا اور منہ پر سنجیدگی طاری کر لی۔

اتنی دیر میں عمران خان اپنے جرمن شیفرڈ کتے شیرو کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ صاف لگ رہا تھا وہ سیدھا ورزش کر کے ڈرائنگ روم آیا ہے۔ عمران نے خوشی سے مجھ سے ہاتھ ملایا۔ عمران اور ریحام نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی ۔عمران خان سامنے صوفے پر بیٹھ گیا جب کہ عمران کے کتے شیرونے ساتھ بیٹھ کر مجھ پر نظریں جما لیں۔ڈرائنگ روم میں ہم تین لوگ تھے اور خاموشی کا راج تھا ۔

پھر عمران کے بولنے سے پہلے ہی ریحام خان نے عمران کی طرف دیکھ کر میرے اوپر ایک نامناسب سا جملہ کسا ‘ جس پر عمران بھی تھوڑا سا گھبرا گیا ۔
میں نے خود سے پوچھا ‘میں یہاں کیا کررہاہوں؟ مجھے تو ریحام کا نہیں بتایا گیا تھا ۔کیا یہی کچھ سننے یہاں آیا تھا ؟ ریحام نے کسی اور کا غصہ نکالنے کے لیے میرا انتخاب کیا تھا اور اس کام کے لیے عمران خان کو کہا گیا تھا ”گستاخ‘‘ کو فوراً حاضر کیا جائے اور وہی گستاخ میں اس وقت بنی گالہ کی ریاست کے شاہی دربار میں موجود تھا اور ملکہ عالیہ انتہائی غصے میں مجھ پر برسنے کے لیے تیار تھیں ۔

اپنے مزاج کو جانتے ہوئے مجھے خود پتا نہیں تھا‘ میں ریحام کو اب کیا سخت جواب دینے والا تھا ۔جب کہ عمران کا شیرو مجھ پر مسلسل جارحانہ نظریں جمائے بیٹھا تھا۔

مجھے لگا اگر میں نے جنبش تک کی تو شیرو جھپٹ پڑے گا۔ میری عمران اور ریحام سے زیادہ توجہ اب شیرو پر تھی۔ اس بات کو ریحام نے فوراً محسوس کیا اور اونچی آواز میں بول پڑی ۔ عمران نے فوراً ریحام کو دیکھا۔ ڈرائنگ روم میں عجیب ٹینشن کا ماحول بن چکا تھا ۔ مجھے کچھ اندازہ نہ تھا اب آگے کیا ہونے والا تھا۔ میری اب بھی توجہ شیرو پر زیادہ تھی جو مسلسل مجھے گھورے جارہا تھا۔

عمران خان کے ڈرائنگ روم میں اس کے جرمن شیفرڈ ”شیرو ‘‘کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے‘ مجھے حیرانی اس بات پر ہو رہی تھی کہ ریحام خان نے عمران خان کے سامنے ایسا رویہ رکھنے کی کوشش کیوں کی تھی‘ جیسے وہ مجھے جانتی تک نہ ہو ۔ میں نے ریحام خان کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ چند دن پہلے تو اس نے مجھے ٹویٹر پر چند ڈائریکٹ میسجز کیے تھے‘ جس میں اس نے میرا شکریہ ادا کیا تھا ۔

ریحام بولی: اس نے تو کوئی میسجز نہیں کیے ۔
میں ریحام کے جھوٹ پر دنگ رہ گیا ۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ میرا دوست ارشد شریف‘ اس وقت اپنے پروگراموں میں ریحام خان اور عمران خان پر سخت تنقید کررہا تھا ۔ ایک پروگرام میں‘ ارشد شریف نے مجھے بھی بلایا ۔ ارشد شریف کا موقف تھا کہ پاکستان میں نیا تماشہ جاری ہے کہ صحافی، کالم نگار اور ٹی وی اینکرز‘ صحافت کی سیڑھی استعمال کرکے حکومتوں کے پٹھو اور صحافی سے میراثی بن جاتے ہیں اور جو ورکنگ جرنلسٹ ہیں‘ جن کا اوڑھنا بچھونا صحافت ہے‘ نہ صرف انہیں بدنام کرتے ہیں‘ بلکہ لوگوں کا اعتماد بھی صحافت سے ختم کرتے ہیں۔ اس ملک میں کسی کالم نگار کا میراثی بن کر حکومتوں اور سیاستدانوں کے حق میں طبلے بجا کر پی ٹی وی پر بھاری معاوضوں پر پروگرامز لینا ، سفیر بن جانا ، پی ٹی وی کاایم ڈی لگ جانا، وزیر، مشیر یا کسی اتھارٹی میں اعلیٰ عہدے پکڑ لینا ، وزارتیں لے لینا‘ اب کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا ۔ طاقت اور پیسے کے یہ پجاری دو تین سال حکومتی عہدوں پر دیہاڑی لگانے کے بعد دوبارہ صحافی بن جاتے تھے۔ ایک دن بڑی سرکاری نوکری چھوڑی اور دوسرے دن ٹی وی پر بیٹھ کر ملک اور قوم کو بھاشن دینا شروع کر دئیے۔

اس وقت نیا ٹرینڈ ریحام خان نے شروع کیا تھا۔ خواتین اینکرز ایک ہاتھ آگے بڑھ گئی تھیں۔ انٹرویو کرنے گئیں، نکاح کر کے لوٹیں۔ تب کچھ اور خواتین اینکرز کی بھی وزیروں سے شادیوں کی خبریں گرم تھیں۔ خیر میں نے ارشد شریف کے اس پروگرام میں ریحام خان کا دفاع کیا تھا کہ چلیں یہ اس کا فیصلہ ہے‘ اگر وہ صحافت چھوڑ کر اس ڈھلتی عمر میں اپنے نوجوان بچوں کو سیٹل کرنا چاہتی ہے اور اسے عمران کی شکل میں ایک بندہ ہاتھ لگ گیا ہے اور اس نے جو بھی کہانی ڈال کر عمران خان کو راضی کیا ہے‘ تو ارشد شریف کو اتنا سخت نہیں ہونا چاہیے۔ ریحام خان وہ پروگرام دیکھ رہی تھی۔ پروگرام کے دوران ہی میرے ٹویٹر پر ڈی ایم میسجز کیے اور دل و جان سے میرا شکریہ ادا کیا۔ یہاں تک لکھ کر بھیجا: اگر اس کا سگا بھائی پروگرام میں ہوتا تو وہ بھی اس طرح اچھے طریقے سے اس کا دفاع نہ کرپاتا‘ جیسے میں نے ارشد شریف کے شو میں اس کے فیصلوں کا کیا ہے ۔

اب یہاں ریحام خان ایسے ظاہر کر رہی تھی‘ جیسے وہ مجھے جانتی ہی نہیں۔ میں نے بھی باتوں باتوں میں اسے یاد کرانے کی کوشش کی کہ چند روز پہلے تک تو وہ مجھے ڈی ایم کر کے شکریہ ادا کر رہی تھی۔ ریحام نے حیران ہونے کی اداکاری کی اور فوراً بولی: مجھے تو یاد نہیں پڑتا‘ میں نے کبھی میسج کیا ہو۔ مجھے ایک لمحے میں سمجھ آ گئی‘ میرا کس خاتون سے واسطہ پڑ گیا ہے ۔

ڈرائنگ روم میں ابھی تک میں اور شیرو ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بیٹھے تھے کہ مجھے یاد آیا کہ ریحام خان کا یہ رویہ کوئی نیا نہیں۔ مجھے اپنے دوست عامر متین کا سنایا ہوا ‘واقعہ یاد آ گیا : دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں ارشد شریف ایک ٹی وی چینل کا ڈائریکٹر نیوز تھا اور اس نے عامر متین اور دیگر کو کنٹریکٹ پر ہائر کیا ہوا تھا کہ وہ الیکشن میں سیاسی مبصر کے طور پر اس کے ہاں پروگرام میں شرکت کریں گے۔ اس پروگرام کی میزبان ریحام خان تھیں۔ جب پروگرام شروع ہوا ‘تو ریحام خان نے کچھ ایسے بونگے سوالات کیے کہ عامر متین اور دیگر مبصرین کو فوراً اندازہ ہو گیا کہ لندن پلٹ اس خاتون کو سیاست کی کچھ سمجھ بوجھ نہیں۔ ریحام انہی دنوں لندن سے آئی تھی اور پاکستان میں اسے ٹی وی چینلز پر ہمارے صحافی دوست رانا مبشر نے لانچ کیا تھا‘ جنہیںکسی اور دوست نے ریحام خان کی سفارش کی تھی۔ عامر متین نے کچھ دیر تو ریحام کے بونگے سوالات کو برداشت کیا ۔ پھر وقفے کے دوران فون نکالا اور ریحام کی موجودگی میں ارشد شریف کو فون کیا کہ یار کہاں پھنسا دیا ہے‘ اس خاتون کو تو کچھ پتہ ہی نہیں۔

مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی، مجھے تو عمران خان نے ملنے کے لیے بلایا تھا کہ وہ ذاتی بات کرنا چاہتے تھے تو پھر کیاجرمن شیفرڈ شیرو کی موجودگی ضروری تھی جو اب مجھ پر مسلسل نظریں جمائے بیٹھا تھا اوردھونکنی کی طرح اس کی سانس چل رہی تھی۔ مجھے لگا عمران خان کے ساتھ ساتھ شیرو بھی باقاعدہ جِم کرنے لگ گیا تھا۔میں خود ڈاگ لورز میں شامل ہوں لیکن اس وقت شیرو کی موجودگی میرے اعصاب پر سوار ہورہی تھی۔ اگر مجھے کسی اہم بات کے لیے بلایا گیا تھا تو پھر اس ماحول کو بھی سنجیدہ ہونا چاہیے تھا ۔

اس سے پہلے جب مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا گیا اور میں عمران خان کا انتظار کررہا تھا تو ریحام اندر داخل ہوئی ۔ سلام دعا کے بعد مجھ سے پوچھا آپ آج کل کہاں ہوتے ہیں ؟میرے لیے یہ سوال بھی کچھ حیران کن تھا کیونکہ ہم میڈیا اینکرز ایک دوسرے کو جانتے ہیں کہ کون کس چینل پر ہے اور کب شو کرتا ہے۔ لیکن ریحام ایسے ظاہر کررہی تھی جیسے اب وہ معمولی میڈیا انڈسٹری سے اوپر نکل گئی ہے۔

وہ اپنے تئیں مجھے یہ پیغام دے رہی تھی کہ شاید میرے جیسے میڈیا مین اس قابل نہیں کہ ان کا اتا پتہ رکھا جاتا کہ آج کل وہ کس ٹی وی پر کام کرتے ہیں یا کس وقت ان کا ٹی وی شو چلتا ہے۔یہ بھی ریحام خان کا اپنا انداز تھا تاکہ میں خود کو کوئی توپ چیز نہ سمجھوں۔ میں ریحام خان کا یہ سب نفسیاتی کھیل یا عمران خان سے شادی کے بعد کے احساس ِبرتری کو اچھی طرح سمجھ رہا تھا لیکن بات پھر وہی تھی کہ میرے جیسے عام صحافی کی ریحام خان اور عمران خان کو کیوں ضرورت پڑ گئی ۔

جب میں نے ریحام خان کو بتایا کہ ٹی وی پر عامر متین کے ساتھ شو کررہا ہوں تو واضح طور پر ریحام کے چہرے پر ناپسندیدگی کے تاثرات ابھرے ۔ اسی لمحے مجھے پتہ چل گیا کہ آج کچھ خاص ہوگا ۔ میں نے خود سے کہا بچُو آج اچھے پھنسے ہو۔

اتنی دیر میں جب عمران خان ٹرائوزر اور جوگر پہنے تولیہ سے پسینہ پونچھتے اندر داخل ہوا اور ابھی ہم دونوں نے ہاتھ ملایا ہی تھا کہ ریحام بول پڑی:
یہ آپ نے کس کو بلا لیا ۔ یہ تو اسی ــ ”گینگ ‘‘کے ساتھ جا کر مل گیا ہے اور وہیں ٹی وی شو کرتا ہے جس چینل کے صحافیوں کے بارے میں بات کرنے کے لیے ہم نے اسے بلایا ہے۔ اس سے بات کرنے کا کیا فائدہ ہوگا؟

عمران خان یہ جملہ سن کر شرمندہ ہوا اور اسے محسوس ہوا کہ ریحام نے گھر آئے مہمان اور وہ بھی صحافی کے منہ پر زیادہ سخت بات کہہ دی ہے۔ ریحام کے اس سخت جملے کا اثر دور کرنے کے لیے عمران خان نے فورا کہا: نہیں نہیں ایسی بات نہیں ہے، رئوف کو میں جانتا ہوں یہ بہت مختلف انسان ہے۔ میں پھر بھی چپ رہا اگرچہ مشکل کام تھا۔ لیکن عمران خان کے جملے نے آگ پر پانی کا کام کیا۔

مجھے اب ریحام خان کے جملے سے زیادہ یہ تجسس پیدا ہوگیا تھا کہ آخر وہ کون سی بات تھی جس کے لیے مجھے یہاں بلایا گیا تھا اور مجھ سے پوچھ کر کہ کس چینل میں کام کررہا ہوں اب اچانک ریحام کو اندازہ ہوا کہ بیکار میں ایک بندہ بلا لیا اور اسے اتنی اہمیت دی کہ گھر کے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر ذاتی مسئلہ ڈسکس کرنے لگے گئے۔

اتنی دیر میں عمران خان میرے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا ۔ عمران اور ریحام ایک صوفے پر نہیں بیٹھے۔ ریحام کرسی پر میرے بائیں جانب بیٹھی تھیں۔ خیر بڑے عرصے بعد میں نے ایک بڑی تبدیلی دیکھی کہ میز کھانے پینے کی چیزوں سے بھر گئی۔ کباب، بسکٹ، سموسے، اور چائے فورا آگئے۔ پہلے بنی گالہ میں صرف چائے ملتی تھی وہ بھی اگر آپ خود پینے پر تُل جاتے ۔ تاہم ریحام خان کے اس گھر میں آنے کے بعد یہ بڑی تبدیلی تھی کہ ریحام خان نے گھر آئے مہمان کے لیے مناسب بندوبست کیا ہوا تھا کہ اسے یہ نہ لگے کہ اسے خالی چائے پلا کر ٹرخا دیا گیا ۔

مجھے احساس ہوا کہ واقعی گھر میں عورت ہو تو اسے احساس ہوتا ہے کہ گھر آئے مہمان کی مناسب خدمت ہونی چاہیے ورنہ وہ باہر جا کر شکایت مرد کی نہیں بلکہ عورت کی کرتا ہے کہ کیسی بیوی ہے جو گھر آئے مہمان کو چائے تک نہیں پلاتی۔

یوں اچھی چائے دیکھ کر، ریحام خان کے جملوں سے جو میرا موڈ خراب ہوا تھا وہ کسی حد تک بہتر ہوا کہ چلیں کوئی بات نہیں اسے یہ تو احساس ہے کہ عمران خان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ کسی کو کھانا کھلانا تو دور کی بات چائے تک نہیں پوچھتا، اب شادی کے بعد یہ تاثر نہیں ہونا چاہیے۔
میں نے موڈ بہتر کرنے کے لیے پانی پیا اور ساتھ میں چائے شروع کی تو میری نظر پھر شیرو پر پڑی ، وہ ابھی تک میرے اوپر آنکھیں جمائے بیٹھا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ اسے عمران خان کا مجھ سے باتیں کرنا اچھا نہیں لگ رہا۔شیرو اس وقت ایک شدید قسم کی کیدو جیسی رقابت کا شکار لگ رہا تھا۔ اس سے پہلے جب عمران خان اپنے شیرو کے ساتھ اندر داخل ہوا تو میں نے محسوس کیا کہ ریحام کو شیر و کا ڈرائنگ روم آنا اچھا نہیں لگا ۔

لوگ بیوی کے ساتھ اندر داخل ہوتے ہیں اور عمران شیرو کے ساتھ داخل ہوا تھا ۔ جونہی عمران خان صوفے پر بیٹھا تو شیرو بھی ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔
ریحام نے عمران خان کو شائستگی سے کہا شیرو کو باہر بھیج دیتے ہیں۔عمران نے روایتی بے نیازی سے کام لیا اور بولا بیٹھنے دو۔ ریحام بولی میرا خیال ہے اسے دوسرے کمرے میں بھیج دیتے ہیں۔ ریحام نے گھر کے ملازم کا نام لیاکہ اسے کہتے ہیں وہ اسے باہر لے جائے۔

عمران خان نے اس کی تیسری دفعہ یہ کوشش بھی ناکام بنا دی ۔

ریحام کو محسوس ہورہا تھا کہ شیرو کی موجودگی وہاں نہ ضروری تھی اور نہ یہ کوئی اچھا تاثر چھوڑ رہی تھی کہ مہمان کیا سوچے گا کہ گھر بلا کر ساتھ اپنا پالتو کتا بھی بٹھا لیا اور کتا بھی کوئی عام نہیں جرمن شیفرڈ جو مالک کے ساتھ کندھے سے کندھا جوڑ کر بیٹھتا ہے اور اگر اسے باقاعدہ احترام نہ دیا جائے تو مہمان بے شک اس کی موجودگی کو پسند نہ کرے لیکن جرمن شیفرڈ ضرور اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ مہمان کو اس سے زیادہ اہمیت دی گئی ۔

عمران خان کو شاید جرمن شیفرڈ کے اس مزاج کا علم تھا لہٰذا عمران خان کسی قیمت پر شیرو کو یہ احساس نہیں ہونے دینا چاہتا تھا کہ مہمان کی خاطر اسے باہر جانا ہوگا۔ عمران خان واقعی اس وقت جرمن شیفرڈ کی عزت نفس کا خیال رکھنے پر تُل گیا تھا جبکہ ریحام کی پوری کوشش تھی کہ میری موجودگی کا فائدہ اٹھا کر کم از کم ایک دفعہ تو شیرو کو بھی اس کی اوقات یاد دلائی جائے کہ اب وہ بھی اتنا اہم نہیں ہے کہ ہر اجلاس اور میٹنگ میں اس کا اپنے خان کے ساتھ بیٹھنا ضروری ہے، یا کوئی بھی اہم اجلاس اس کی موجودگی کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا۔

ریحام کے مسلسل اصرار کو دیکھتے ہوئے عمران خان نے اتنا ضرور کیا کہ شیرو پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تاکہ اسے تسلی رہے کہ اس کی شان میں کوئی گستاخی نہیں ہوسکتی اور چاہے کچھ بھی ہو وہ رئوف کے ساتھ ہونے والے اہم اور ذاتی نوعیت کے مذاکرات میں شامل رہے گا۔

عمران خان کو بھی احساس ہوا کہ شاید شیرو کچھ زیادہ ”اوور ری ایکٹ‘‘کررہا ہے۔ اس کا عمران خان نے ایک اور حل نکالا جسے دیکھ کر مجھے شدید جھٹکا لگا اور حیرانی ہوئی کہ عمران جیسا سمجھدار بندہ یہ کام کیسے کر سکتا ہے۔عمران خان کی وہ حرکت دیکھ کر ریحام نے فورا سخت نظروں سے عمران خان کو گھورا۔مجھے بڑے عرصے بعد اپنا آپ چھوٹا محسوس ہوا اور لگا کہ عمران خان کو واقعی ابھی بہت سی چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔

میں اب اس گھر کے میں بیٹھا تھا ، کیا ردعمل دے سکتا تھا، تاہم ریحام نے محسوس کیا کہ عمران جو کچھ اب شیرو کو کنٹرول کرنے کے نام پر کررہا تھا وہ مناسب نہیں تھا اور سب سے بڑھ کر گھر آئے مہمان کے سامنے یہ سب کچھ کرنا مناسب تھا۔

مجھے عمران کا وہ عمل دیکھ کر محسوس ہوا کہ واقعی عمران کے بعد بنی گالہ کی اس ریاست میں اگر کسی کی اہمیت تھی تو صرف شیرو کی تھی ۔ ریحام خان کے بے ساختہ عمران خان کو گھورنے کے بعد میں بے چینی سے انتظار کرنے لگا کہ عمران خان اب کیا کرتا ہے۔ بنی گالہ میں کس کی چلے گی۔
شیرو کی یا ریحام خان کی؟

فیصلہ میری موجودگی میں ہی ہونیو الا تھا

شیرو اچانک اچھلا‘ جیسے میری طرف لپک رہا ہو۔ عمران نے فوراً اس پر ہاتھ رکھا۔ ریحام نے عمران کی طرف دیکھا‘ جیسے کہہ رہی ہو‘ میں نہ کہتی تھی۔ ریحام نے ایک دفعہ پھر عمران خان کو کہا: اسے باہر بھیج دو۔ ریحام کو چوتھی دفعہ ناکامی ہوئی۔

اب عمران نے نیا حل نکالا۔ شیرو کو اپنی ٹانگ کے نیچے بٹھا دیا اور لات اٹھا کر سامنے پڑی میز پر رکھ دی‘ جہاں کھانے پینے کی چیزیں پڑی تھیں۔ اب صورتحال یہ تھی کہ شیرو عمران کی ٹانگ کے نیچے تھا جب کہ عمران کے جوگرز والا پاوں میز پر تھا اور ان جوگرز کا رخ میرے منہ کی طرف تھا۔

ریحام کو احساس ہوا کہ یہ آداب کے خلاف ہے۔ اس نے عمران کو دیکھا اور میز پر پڑے پاوں کی طرف آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا۔ عمران نے پاوں واپس کھینچ لیا۔

ریحام نے مجھے نظر انداز کرکے سیاسی گفتگو شروع کر دی۔ عمران اس کی گفتگو میں زیادہ دل چسپی نہیں لے رہا تھا۔ ریحام نے میرے سامنے پارٹی معاملات ڈسکس کرنے شروع کر دیے کہ کراچی‘ لاہور‘ پشاور‘ مردان سب جگہ کیا ہو رہا تھا۔ جب وہ جلسوں میں جاتی تھی تو وہاں کیا مناظر دیکھ رہی تھی۔ وہ پارٹی کے اجلاس کی اندورنی تفصیلات بھی بتا رہی تھی۔ عمران خان ہوں ہاں میں جواب دے رہا تھا۔ صاف لگ رہا تھا عمران کو ریحام کی ان باتوں میں دل چسپی نہیں ہے۔ عمران نے جب بھی بات کرنی چاہی‘ ریحام نے ٹوک دیا۔عمران کے چہرے پر بار بار ٹوکے جانے پر ناگواری کے اثرات نمودار ہوئے‘ لیکن وہ خاموش رہا۔ یہ واضح تھا کہ ریحام خان پارٹی کو کنٹرول میں لے چکی تھی‘ تمام سیاسی معاملات سنبھال رہی تھی اور عمران خان کو دوسروں کی موجودگی میں بولنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ ریحام خان بولتی رہی اور تاثر دیتی رہی کہ وہ اب پارٹی کی نئی باس ہے اور عمران خان ایک بے وقوف اور سادہ بندہ ہے‘ جسے کچھ پتا نہیں۔ وہ عمران خان کو بھی سب کے سامنے ٹوک سکتی تھی۔ اس کے خیال میں وہ پارٹی کو بہتر لائن پر چلا سکتی تھی اور سب کو ہینڈل کر سکتی تھی۔ عمران خان یہ سب کچھ برداشت کرتا جب کہ میں سنتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔

اس کے بعد ریحام نے آخری کوشش کی کہ شیرو چلا جائے‘ لیکن عمران نے پھر انکار کر دیا۔ اس پر ریحام اچانک اٹھی اور ناگواری سے بولی: تو پھر میں جا رہی ہوں‘ پارٹی کی کچھ خواتین آئی ہیں۔

عمران نے جیسے ریحام خان کے جانے پر شکر کیا ہو۔ شیرو وہیں موجود رہا۔ میسج مل گیا تھا‘ ریحام باہر جا سکتی تھی شیرو نہیں۔ ریحام کے جاتے ہی عمران خان فوراً مطلب کی بات پر آ گیا۔ وہ آگے جھکا اور بولا: دیکھو روف تم سے ضروری بات کرنی ہے‘ مجھے بتایا گیا ہے کہ تم میری مدد کر سکتے ہو۔ ارشد شریف تمھارا دوست ہے؟

میں نے کہا: جی اٹھارہ برس پرانی دوستی ہے۔

عمران خان نے گہری سانس لی اور کہا: یار وہ کئی دنوں سے میرے اور ریحام کے خلاف مہم چلائے ہوئے ہے۔ عمران نے ارشد کی تعریف کی اور کہا: وہ زبردست جرنلسٹ ہے۔ وہ خود اس کے شوز میں جا چکا ہے۔ انٹرویوز دے چکا ہے۔ اب پتا نہیں اچانک اسے کیا ہو گیا ہے۔

عمران بولا: اس نے ٹی وی پر بھی پروگرام کیا‘ جس میں تم بھی موجود تھے۔ وہ ٹویٹر پر بھی روزانہ ٹویٹس ڈال رہا ہے۔ یہ سب کچھ میرے اور ریحام کے لیے پرابلم کا باعث ہے۔ ارشد سے کہو‘ اس نے جو کچھ لکھنا یا بولنا ہے‘ میرے خلاف کرے لیکن ریحام کو اٹیک نہ کرے۔

لگ رہا تھا ارشد شریف، عمران اور ریحام کے اعصاب پر سوار ہو گیا تھا۔ اسے کوئی سورس بنی گالا میں عمران اور ریحام کے بیڈ روم تک کی باتیں بھی بتا رہا تھا۔ ارشد شریف نے کہیں مذاقاً کہہ دیا تھا کہ اسے بیڈ روم کی خبریں چنیوٹ سے ایک رنگ دار روایتی پلنگ سے مل رہی ہیں‘ جو ایک بندے نے انھیں گفٹ کیا تھا۔ اس پلنگ میں ایسی ڈیوائس لگی ہوئی تھی جس سے سب کچھ رِکارڈ ہو کر باہر جا رہا تھا۔ ارشد کی بات کرنے کی دیر تھی کہ فوراً اس پلنگ کو چیک کیا گیا اور میٹریس تک کو گھر سے باہر پھینک دیا گیا کہ شاید اس میں لگی ڈیوائس ان کی بیڈ روم کی باتیں رِکارڈ کرکے باہر پہنچا رہی تھی۔
اب عمران خان شدید پریشان تھا کہ آخر ارشد کو کون یہ سب کچھ بتا رہا ہے‘ اور وہ باتیں ارشد شریف تک کیسے پہنچ رہی تھیں‘ جو بیڈ روم میں ہوتی تھیں؟ عمران سے زیادہ ریحام پریشان تھی کیونکہ ارشد شریف کے زیادہ تر جملوں یا ٹویٹس کا ٹارگٹ وہ تھی۔

عمران کی یہ بات سن کر میں چند لمحے خاموش رہا۔ ارشد شریف ایک آزاد ذہن کا انسان ہے۔ کم ہی بات مانتا ہے۔ پورے شہر میں کسی کی بات مان لیتا تھا تو وہ میں تھا۔ مجھے امکانات کم ہی لگ رہے تھے کہ ارشد شریف میری بات مانے گا۔ عمران خان کو دباو میں دیکھ کر میں گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ مجھے معذرت کر لینی چاہیے کہ یہ میرے بس سے باہر ہے‘ بہتر ہو گا وہ (عمران) خود بات کر لیں۔ ارشد شریف کو منع کرنا اس لیے بھی مشکل لگ رہا تھا کہ وہ جب ٹویٹس کر رہا تھا تو تحریک انصاف کے میڈیا سیل کے ارکان اور حامی ارشد پر ذاتی حملے کر رہے تھے۔ ارشد بھی جواباً پیچھے ہٹنے کے بجائے روزانہ عمران اور ریحام کی نئی باتیں ٹویٹ کر رہا تھا۔ یوں بات ارشد اور عمران خان کے فینز میں جنگ لڑی جا رہی تھی‘ عمران اور ریحام کو یہ لگ رہا تھا کہ اس ٹویٹر لڑائی میں زیادہ نقصان انھی کا ہو رہا ہے اور اس کو رکوانے کے لیے انھوں نے میرا انتخاب کیا تھا۔

میں نے عمران خان سے پوچھا: آپ نے ارشد شریف سے خود بات کی ہے؟ عمران خان بولا: نہیں‘ میں نے سوچا‘ بہتر ہے تمہارے ذریعے اس کو اپروچ کیا جائے کیوں کہ سب کہتے ہیں‘ وہ آپ کا دوست ہے اور مان جائے گا۔

میں نے کہا: کوشش کر سکتا ہوں‘ کیوں کہ ارشد شریف ایک unpredictable بندہ ہے۔ مان جائے تو پوری دنیا آپ کے حوالے، انکاری ہو جائے تو پھر اسے چاہے لٹکا دیں‘ وہ بات نہیں مانے گا‘ بہرحال آپ کی بات میں وزن ہے‘ اسے آپ کی ذاتی زندگی کو ٹارگٹ نہیں کرنا چاہیے۔

عمران نے ایک گہری سانس لی۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ عمران خان مجھے باہر گاڑی تک چھوڑنے آیا اور شکریہ ادا کیا۔ اچانک مجھے ایک خیال آیا‘ اور میں نے عمران خان سے پوچھ لیا: میں ارشد شریف کو اس ملاقات اور آپ کی ریکوسٹ کے بارے بتا سکتا ہوں؟ عمران نے فوراً کہا: ہاں‘ بتا سکتے ہو۔

میں بنی گالہ سے نکلا تو شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ میں نے ارشد شریف کو فون کیا۔ پوچھا: کہاں ہو۔ وہ بولا: دفتر میں ہوں۔ میں نے کہا: وہیں رکو میں آرہا ہوں۔ جب میں دفتر پہنچا تو عامر متین اور عدیل راجا بھی موجود تھے۔ میں نے بغیر تمہید باندھے ارشد شریف سے پوچھا: بھائی جان تم کیا چاہتے ہو؟

ارشد تھوڑا سا پزل ہو گیا اور بولا: کیا مطلب؟ میں نے کہا: اگر تم اس لیے یہ سب کچھ کر رہے ہو کہ ریحام اور عمران خان میں طلاق ہو جائے تو وہ تمھارے ہاتھ میں ہے۔ ارشد شریف کو جیسے کرنٹ لگا۔ بولا: میں کیوں چاہوں گا‘ میرا اس سے کیا لینا دینا؟ میں نے کہا: ارشد شریف تم بتاو‘ یہ طلاق اگلے تین ماہ میں کرانا چاہتے ہو یا چھے ماہ میں؟

ارشد شریف بولا: لگتا ہے عمران خان سے مل کر آرہے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں۔

میری اور ارشد شریف کی یہ پراسرار گفتگو سن کر عامر متین اور عدیل راجا بھی متوجہ ہو گئے۔ وہ حیران تھے کہ ابھی تو ہنی مون چل رہا ہے‘ اور میں طلاق تک کی خبر لے آیا ہوں۔ کیا عمران خان یا ریحام خان نے مجھے طلاق کی پیشگی خبر دے دی تھی؟

تینوں خاموشی سے مجھے تکنے لگے۔ میں نے دھیمے لہجے میں اپنی اس عجیب و غریب تھیوری یا پیش گوئی کی وضاحت شروع کی۔ کمرے میں واقعی اتنی خاموشی تھی کہ سوئی بھی گرتی تو لگتا بم گرا ہے۔ جب میں نے بات ختم کی تو ارشد شریف‘ عامر متین اور راجا عدیل کے منہ حیرت سے کھلے ہوئے تھے۔ تینوں کو تین سے چھے ماہ میں طلاق کا فرق سمجھ آ گیا تھا‘ اور اس وقت کا فیصلہ کرنے میں ارشد شریف کا کیا کردار تھا‘ اس کا بھی۔

تینوں نے سوچ میں ڈوبے انداز میں سر ہلائے کہ تم درست کہہ رہے ہو‘ اور میں ارشد شریف کے دفتر سے باہر نکل گیا!

عمران خان سے ملاقات کے چھ ماہ بعد ارشد شریف، عامر متین، عدیل راجہ اور میں ٹی وی چینل پر بلدیاتی الیکشن کی لائیو ٹرانسمیشن میں شرکت کرنے کراچی گئے تو ٹی وی پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی: عمران نے ریحام کو طلاق دے دی۔

عامر متین، ارشد شریف اور راجہ عدیل کو یہ خبر سن کر لگا جیسے بم گرا ہو۔ میں نارمل انداز میں چلتا رہا۔ وہ میرے حیران نہ ہونے پر حیران ہوئے۔ ارشد شریف نے چونک کر مجھے دیکھا اور حیران ہوکر بولا: واقعی چھ ماہ بعد طلاق ہوگئی۔ میں نے کہا: یہ طلاق تین ماہ پہلے ہونی تھی، تمہاری ضد کی وجہ سے تین ماہ بعد ہورہی ہے۔ ارشد بولا: میرے اوپر کیوں ڈال رہے ہو۔ میں نے کہا: تمہیں سب پتا ہے‘ عامر متین اور راجہ عدیل گواہ ہیں‘ تم اگر اس دن میری بات مان جاتے تو تین ماہ پہلے کہانی ختم تھی۔

ارشد شریف بولا: لیکن میں نے تمہاری بات مان کر ٹویٹس بند کر دیے تھے اور پروگرام بھی نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا: زیادہ سمارٹ نہ بنو، تم نے صرف پندرہ دن یہ کام بند کیا‘ پھر شروع ہوگئے، اس لیے طلاق میں تاخیر ہوئی۔

تھوڑی دیر میں ہم ہوٹل پہنچ چکے تھے۔ چیک اِن سے پہلے تھکے ہارے صوفوں پر بیٹھے تھے۔ ارشد شریف بولا: اتنا درست اندازہ کیسے لگا لیا تھا؟ میں نے کہا: یہ راکٹ سائنس نہیں۔ اُس شام عمران، ریحام ملاقات میں جو کچھ دیکھا اور سمجھا اس کی بنیاد پرکہا تھا کہ تین ماہ یا چھ ماہ۔ میں نے کہا: یاد ہے تمہیں بتایا تھا کہ جب عمران نے مجھ سے مدد لینے کا فیصلہ کیا تو واضح تھا کہ وہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ عمران خان نے ایک اور غلطی کی کہ پشاور میں ایک سو چالیس بچوں کے قتلِ عام کے دو ہفتے بعد ہی شادی کا اعلان کر دیا اور دلہا بن کر ریحام کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں جو میڈیا کو بھیجی گئیں۔ میڈیا ٹریجڈی بھول کر ریحام عمران شادی پر لگ گیا۔ اس اعلان کو سیاسی، سماجی حلقوں میں اچھا نہیں سمجھا گیا۔ بچوں کے والدین کو بھی برا لگا کہ ابھی بچوں کی قبریں گیلی تھی کہ قوم کے لیڈر نے شادی کا اعلان کر دیا۔ عمران خان کو کسی اہم شخصیت نے شادی کی مبارک نہیں دی۔ عمران کو ’نان سیریس‘ سمجھا گیا۔ شادی پر اعتراض نہیں تھا لیکن شادی کی ٹائمنگ پر سب ناخوش تھے۔ عمران خان کو بھی جلد غلطی کا احساس ہونا شروع ہوگیا۔

عمران خان کا خیال تھا کہ ریحام اس کی ذاتی آزادی اور سیاست میں دخل نہیں دے گی؛ لیکن جب ریحام نے پارٹی اجلاسوں میں بیٹھنا اور باقاعدہ صدارت شروع کردی تو عمران کو شدید جھٹکا لگا۔ عمران کی پارٹی کے ایک مالدار لیڈر نے انہیں شادی کے تحفے میں بینک کارڈ بھی دیا جس کی شاپنگ کی کوئی لمٹ نہیں تھی۔ ریحام کے رویے کی وجہ سے پارٹی لیڈروں کو محسوس ہونا شروع ہوا کہ عمران خان کا سورج ڈوب گیا ہے۔ چڑھدا سورج اب ریحام تھی۔ روز بروز ریحام کی اہمیت بڑھتی گئی۔ ریحام نے عمران کو اجلاسوں میں ٹوکنا شروع کر دیا تھا۔ عمران خان جو ہمیشہ بولتا تھا اور لوگ سنتے، انہیں یوں لگنا شروع ہوگیا کہ عمران کا کرشمہ ختم ہوگیا ہے۔ اب ریحام لیڈر تھی۔ میڈیا ریحام خان کا موازنہ پہلے ہی سونیا گاندھی اور بینظیر بھٹو سے کرنا شروع ہوگیا تھا جسے ریحام خوب انجوائے کررہی تھی۔ ریحام خود میڈیا میں کام کرچکی تھی لہٰذا اسے علم تھا کہ میڈیا کو کیسے اپنے امیج کے لیے استعمال کرنا ہے۔

ارشد شریف خاموشی سے سن رہا تھا۔ میں نے بات جاری رکھی۔
جہاں عمران خان کو غلطی کا احساس ہونا شروع ہوگیا، وہیں ریحام سمجھ گئی کہ موقع اچھا ہے۔ اس نے جلسوں میں شرکت اور خطاب کے پروگرام بنا لیے۔ عمران کی موجودگی میں ریحام کی پارٹی اجلاسوں میں شرکت اور وہاں بحث میں حصہ لینے اور عمران خان کو ٹوکنے پر پارٹی لیڈروں کو پتا چل گیا کہ اب سورج مشرق سے نہیں مغرب سے نکلا کرے گا۔ عمران پارٹی کے لوگوں کے سامنے ریحام کے ساتھ بحث میں نہیں الجھ سکتا تھا۔ عمران نے ہر دفعہ سرنڈر کیا اور ریحام نے اسے عمران کی کمزوری سمجھ لیا۔

عمران خان نے ساری عمر اکیلے اور ہیرو لائف گزاری تھی۔ جمائما سے طلاق ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ ٹین ایج میں لندن گیا اور پھر پوری عمر کرکٹ کھیلی۔ کبھی گھر نہیں رہا۔ چند برس ہی شادی شدہ زندگی کے گزارے۔ ڈسپلن اور گھریلو لائف کا عادی نہیں تھا۔ جو مل گیا کھا لیا، جو ملا پی لیا‘ جہاں جگہ ملی سو گیا۔ جس دوست کی گاڑی ملی اس پر بیٹھ گیا۔ اب پچاس ساٹھ برس جس بندے نے ایک کھلی ڈلی، رات گئے تک دوستوں کے ساتھ محفلیں اور پارٹیاں جمائی ہوں اور دوست اشارے پر سب حاضر کرنے کو تیار ہوں، اسے اچانک ایک دن کہا جائے کہ آج کے بعد سب کھیل تماشے بند۔ آج کے بعد روایتی پاکستانی شوہر جیسی زندگی گزارنی ہے۔ تمام عیاشیاں ختم۔ کوئی خاتون ملنے نہیں آسکتی۔ کوئی محفل پارٹی نہیں ہوگی۔ نہ میسج‘ نہ فون۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس شخص کی حالت کیا ہو گی۔

میں نے کہا: ارشد شریف! میں نے خود کالج سے یونیورسٹی تک دس سال ہوسٹل لائف گزاری۔ جب شادی ہوئی تو مجھے دس سال اپنی گھریلو زندگی کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے اور خود کو سمجھانے میں لگے۔ مجھے اگر دس برس لگے تو عمران خان دس دنوں میں ریحام کے کہنے پر سدھر جاتا؟ اب عمران خان اس عمر میں کیسے تبدیل ہوتا اور تبدیلیوں کو قبول کرتا جو ریحام نے خان پر مسلط کرنے کی کوشش کی۔ ریحام کا خیال تھا‘ اب اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے عمران کو ٹوک دے، چاہے میرے جیسا صحافی بیٹھا ہو‘ پھر پارٹی لیڈرز یا اجلاس چل رہا ہو۔

عمران خان کو اب غلامی ٹائپ گھریلو زندگی اور عمر بھر عیاشی اور بغیر روک ٹوک گزاری گئی زندگی میں سے ایک کو چننا تھا۔ ریحام، عمران کے اندر ابلتے طوفان اور جاری جنگ کو نہ سمجھ سکی کہ عمران کی آزادی اور عیاشی چھن گئی تھی۔ وہ کرکٹ ہیرو اور ملک کے متوقع وزیر اعظم سے یکدم بزدل شوہر کے رول میں آگیا تھا۔ اگر عمران خان نے مؤدب شوہر اور گھریلو زندگی گزارنی تھی تو پھر جمائما میں کیا برائی تھی؟ اس لیے جب عمران نے مجھے بنی گالہ بلایا کہ تمہیں منع کروں تو وہ ریحام سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔

ارشد شریف کرسی سے اچھل پڑا اور پوچھا: وہ کیسے؟
میں نے کہا: چھ ماہ پہلے بنی گالہ سے واپسی پر ہی بتا دیا تھا کہ عمران خان ریحام سے جان چھڑانے پر تل گیا ہے، تم اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہو۔ ارشد شریف نے کہا: خدا کا خوف کرو۔

میں نے کہا: تم ان دنوں ٹی وی شوز اور ٹویٹر پر مسلسل عمران اور ریحام کے درمیان جاری کشمکش اور متنازع ایشوز پر لکھ اور بول رہے تھے۔ باقی میڈیا نے اسے ذاتی مسئلہ قرار دے کر نظرانداز کیا، تم نے نہیں۔ اگر اس وقت عمران خان ریحام خان کو طلاق دے دیتا تو پھر یہ لگتا‘ ارشد شریف کے مسلسل ٹویٹس کی وجہ سے عمران نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ یہ عمران کا کمزور فیصلہ ہوتا کہ جب ریحام پر میڈیا اٹیک کر رہا تھا تواس نے اپنی بیوی کا دفاع کرنے کی بجائے اسے طلاق دے دی۔ عمران کی مردانہ انا یہ قبول نہ کرتی۔
عمران خان کو کچھ وقت چاہیے تھا جس سے سب کو لگتا کہ وہ فیصلہ اس کا اپنا تھا کسی صحافی کے پروگرام یا ٹویٹر پر جاری جارحانہ حملوں کی وجہ سے نہیں۔ اس دوران کچھ اور سنگین ایشوز بھی جنم لے چکے تھے۔ ریحام کے ہاتھ بلیک بیری لگ گیا تھا۔ عمران فون تکیے کے اندر رکھ کر سوتا تھا جو ریحام نے عمران کے سوتے وقت نکال کر چرا لیا۔ عمران خان کے دوست کے بقول عمران نے ریحام سے لڑ کر وہ بلیک بیری چھین تو لیا لیکن ریحام فون کا ڈیٹا پہلے ہی ٹرانسفر کرچکی تھی۔

اب عمران خان کو بھی ریحام کے خلاف ایسے ’ثبوتوں‘‘کی ضرورت تھی جیسے عمران کے ریحام کے پاس تھے۔ عمران خان کو بتایا گیا کہ ریحام کے خلاف ’ثبوت‘‘ عمران کے ایک شدید دشمن کے فون میں موجود ہیں۔ سوال یہ تھا اس سیاسی مخالف نے کیسے سکرین شاٹس لیں؟

ریحام کو کاؤنٹر کرنے کے لیے عمران خان کو ہر صورت وہ ’ثبوت‘‘ چاہیے تھے۔ عمران خان کشتیاں جلانے پر تل گیا تھا۔ ان ثبوتوں پر اس کا انحصار تھا کہ ریحام رہے گی یا طلاق ہوگی۔ لیکن سوال وہی کہ ثبوت کون لائے گا؟
ایک رات عمران خان کے ذہن میں وہ نام ابھرا جو وہ سکرین شاٹس لانے میں مدد کر سکتا تھا۔ (جاری ہے)۔

بشکریہ روزنامہ دنیا۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں