597

غیر منصفانہ اور تشویشناک فیصلہ

ذوالفقار احمد چیمہ 

zulfiqarcheema55@gmail.com
انصاف انسانی نہیں آسمانی تحفہ ہے، خالق ِ کائنات نے ہی انسانوں کو پہلے اس کا تصوّر دیا اور پھر اسے قائم کرنے کا حکم دیا اس کے معیار بھی خالق و مالک نے مقررّ کیے۔ فرمایا انصاف قائم کرو چاہے اس کی زد تمہارے عزیز و اقربا پر، تمہارے والدین پر یا تمہاری اپنی ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو یعنی انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے قریب ترین عزیزوں یا والدین کی محبّت بھی آڑے نہ آنے دو ، انصا ف کا عَلم بلند کرنے کے لیے اپنی ذات کے خلاف بھی فیصلہ دینا پڑے تو دے دو۔
کتاب ِ حق میں ایک اور جگہ فرمایا کہ کسی قوم یا گروہ کی دُشمنی تمہیںانصاف کی راہ سے نہ ہٹا دے ۔ یعنی فریقین میں سے ایک تمہارا سخت ترین دشمن بھی ہے تو اس کے ساتھ اپنا عناد اور نفرت پسِ پشت ڈالکر اس کے معاملے میں بھی انصاف کرو۔ غیر مسلم مؤرخ بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ درسگاہ ِ رسالت ﷺ کے تربیّت یافتہ افراد نے خدائی ہدایات کی روشنی میں انصاف کے اعلیٰ ترین معیار قائم کیے۔ محشر کے یعنی اصل فیصلے کے روز منصفین کی جوابدہی بھی سب سے سخت ہوگی اور انصاف کرنے والوں کا اجر بھی سب سے بڑھ کر ہوگا۔
برطانیہ کے لیَجنڈری جج لارڈ ڈیننگ سے ایک بار لنکننراِن کے سالانہ عشائیے میں نوجوان بیرسٹرز نے پوچھا کہ اچھے جج کے کیا اوصاف ہونے چاہیں۔ تو باکمال جج نے ذرا سے توقف کے بعد جواب دیا “اچھا جج ایماندار اور راست باز ہونا چاہیے اور اسمیں خدا خوفی ہونی چاہیے، ہا ں اگر وہ کچھ قانون بھی جانتا ہو تو یہ اس کی اضافی خوبی ہے”بلاشبہ منصب ِ قضاء کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ایمانداری اور خدا خوفی بنیا دی requirementsہیں، اتنی ہی ضروری جتنی قانون کی ڈگری۔
محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا قتل ملک کی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ تھا۔ مجھے یاد ہے اُن دنوں میں ڈی آئی جی کوہاٹ تھا ، اپنے دوست ارشد خان (سابق ایم ڈی پی ٹی وی) کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے اسلام آباد آرہا تھا، اسلام آباد کے قریب پہنچ کر جب معلوم ہوا کہ محترمہ پرحملہ ہوا ہے جسکے نتیجہ میں وہ انتقال کر گئی ہیں تومجھے اسقدر صدمہ ہوا کہ شادی اٹینڈ کیے بغیر واپس مُڑ گیا اور سارے راستے میں ملک کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگتا رہا۔
اس سانحے کے فورََا بعد ہونے والے الیکشنز میں پیپلز پارٹی بر سرِ اقتدار آگئی۔ پانچ سال تک وزیراعظم اسی پارٹی کا رہا اور خود زرداری صاحب ملک کے صدر رہے مگر محترمہ کے وارثان اور ان کی پارٹی نے ان کے قتل کے کیس کے بارے میں بے نیازی کا رویہ اپنائے رکھا ، نہ کسی نے دلچسپی لی اور نہ پیروی کی۔ حتیٰ کہ فیصلے کے روز وارثان یا پارٹی میں سے کوئی شخص بھی عدالت میں موجود نہ تھا، اس پر ہر شخص محو ِ حیرت ہے۔
اس مقدمّے کا دس سال بعد جو فیصلہ آیا ہے اُس پر ہر خاص و عام حیران و ششدر رہ گیا ہے۔ غالبََا یہ واحد فیصلہ ہے جس کو کسی ایک شخص نے بھی صیحح قرار نہیں دیا۔ فیصلے کے فوراً بعد اور عید کی چھٹیوں میں میری درجنوںریٹائرڈ جج صاحبان ، وکلاء دانشوروں اور عام لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے ، اس فیصلے کو ہر شخص نے غلط اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ تمام قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ “اپنے فعل کا عدالت کے سامنے اقرار کرنے والے ملزموں ( جن پر نہ وارثوں نے اور نہ ہی برطانوی پولیس کے ماہرین نے کبھی شک کا اظہار کیا تھا) کو رہا کر دینا اور پولیس افسروں کو جنہوں نے ان ملزموں کو گرفتار کیا تھا، سزا دینا غیر منصفانہ ہے، یہ فیصلہ شہادتوں کے برعکس اور انصاف کے منافی ہے اور اس سے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے”
ملک بھر سے پولیس افسروں کے فون اور میسج موصول ہوئے ہیں، تمام صوبوں کی پولیس سروسز میںغم و غصّے کے ساتھ ساتھ تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ، سیکیورٹی پر مامور افسران کو سزا دینے کی نہ کہیں ریت ہے نہ روایت۔ دہشت گردی کا عفریت دنیا کے کونے کونے میں پہنچ چکا ہے، ہر جگہ دھماکے ہوئے ہیں ہر جگہ پولیس افسر اپنے فرائض کی بجا آوری کے لیے مامور ہوتے ہیں، جہاں بھی دھماکا ہوتا ہے یا کسی اہم شخصیت پر حملہ ہوتا ہے کہا جا سکتا ہے کہ وہاں سیکیورٹی میں کوئی نہ کوئی سقم (Security Lapse)تھا مگر کہیں بھی اس Lapse کی بنا ء پر متعلقہ پولیس افسروں کو ہلاک ہونے والوں کے قتل میں چالان کر کے سزا نہیں دی جاتی۔ کیونکہ اس سے سیکیورٹی فورسز بد دل ہو جاتی ہیں اور پھر امن و امان پر بڑے خوفناک اثرات مرتّب ہوتے ہیں، اگر کہیں بہت سیریس lapsesہوں توپولیس ڈیپارٹمنٹ خود انکوائری کراتا ہے اور کوتاہی ثابت ہونے پر محکمانہ کارروائی ہوتی ہے۔
قانون کے طالب علم کی حیثیت سے ہم نے Jurisprodence میں پڑھا تھا کہ کسی شخص کو مجرم ثابت کرنے کے لیے سب سے اہم فیکٹر اس کی نیت (Intention) ہے ۔ لہذاء کسی فوجداری مقدمے میں کسی کو سزا دینے کے لیے اس کی Criminal Intention (جسے قانون کی زبان میں Mensreaکہتے ہیں)بنیادی ضرورت یا لازمی Ingredientہے ۔ مجرمانہ نیت کی عدم موجودگی میں سزا دینا قانون اور انصاف دونوں کے منافی ہے۔
جن دو پولیس افسران کو سزا دی گئی ہے ان میں سے ایک خرم شہزاد وقوعے کے روز راولپنڈی میں تعینات تھا اور دیگر کئی افسروں کے ساتھ اس کی بھی لیاقت باغ کے باہر ڈیوٹی تھی۔ اُ س پر الزام یہ ہے کہ اُس نے جائے وقوعہ یا کرائم سین کیوں دھلوا دیا۔حقائق سے لا علم حضرات شاید یہ سمجھتے ہوں کہ اُدھر وقوعہ ہوا اوراُدھر ایس پی خُرمّ نے موقعہ پر پہنچ کر فوراً کرائم سین دھلوا دیاتاکہ وہاں سے کوئی متعلقہ شہادت میسر نہ آسکے۔ ایسی بات ہر گزنہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ پولیس کے تفتیشی افسران اور عسکری اداروں کے ماہرین نے جب وہاں سے متعلقہ شہادتیں اکٹھی کر لیں تو اس کے بعد کرائم سین دھلوایا گیا تھا۔ کرائم سین دھلوانے سے پہلے اُنتیس (29) pieces of evidence اکھٹے کرلیے گئے تھے، اس کے بعد کرائم سین کوصاف کیا گیا۔الزام لگایا گیا کہ ایس پی خرم شہزاد نے کسی اعلیٰ افسر کی ہدایات پر ایسا کیا۔
خرم نے میرے ساتھ بھی کام کیا ہے ، میں اسے بہت اچھی طرح جانتا ہوں وہ انتہائی باکردار اور فرشتہ سیرت انسان ہے اور میں یہ بات پورے و ثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر صوبے کا آئی جی ، وزیر اعلیٰ یا چیف جسٹس آف پاکستان بھی اسے کوئی غیر قانونی کام کہے گا تو وہ انکار کردے گا۔ اس کے وکلاء نے تفتیش کرنے والے ایف آئی اے کے سینئر افسران سے عدالت میں جب سوال کیا کہ “آپ بتا دیں کہ کرائم سین دھونے سے کونسی شہادت ضایع ہوئی؟” اس پر وہ کسی شہادت کی نشاندہی نہ کر سکے۔
سعود عزیز پر الزام ہے کہ ان نے نعش کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا؟ کئی بے خبر لوگ شاید یہ سمجھتے ہوں کہ اُس نے بھی کسی سازش کے تحت پوسٹ مارٹم سے گریز کیاتاکہ اصل حقائق ظاہر نہ ہو جائیں۔ ایسی بات ھرگز نہیں ہے، اصل حقائق یہ ہیں کہ پولیس پیپلز پارٹی کے ہر لیڈر سے پوسٹ مارٹم کی اجازت مانگتی رہی کسی نے بھی اجازت نہ دی ،مخدوم امین فہیم نے انکار کیا، ناہید خان نے کہا اس کا فیصلہ زرداری صاحب کریں گے،سعود عزیز نے زرداری صاحب کے ایئر پورٹ پر اترتے ہی پوسٹ مارٹم کی اجازت مانگی مگر انھوں نے اس کی اجازت نہ دی لہٰذا اُسوقت پولیس کے لیے غصّے میں بپھرے ہوئے ہزاروں ورکروںسے میّت چھین کر پوسٹ مارٹم کرانا ممکن ہی نہیں تھا، ایسا کرنے کی صورت میں بہت خون خرابہ ہو سکتا تھا۔ ایسی ہی صورتِ حال دہلی میں مسز اندرا گاندھی کے قتل کے وقت پیدا ہو گئی تھی۔ اس لیے مسز گاندھی کی نعش کاپوسٹ مارٹم بھی نہیں ہو سکا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب اعجاز چوہدری صاحب نے انھی دونوں پولیس افسران کی ضمانت منظور کرتے ہوئے فیصلے میں لکھا تھا کہ “اصل ملزم اپنے جرم کا اقرار کرچکے ہیں، نیز دونوں پولیس افسران ریمانڈ پر 24 روز ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم کے پاس رہے ہیں اس دوران کوئی ایسی شہادت برآمد نہیں کی جا سکی جس سے اُنکا قتل کے وقوعے کے ساتھ کوئی تعلق ثابت ہوتا ہو” ایف آئی اے کی قائم کردہ جے آئی ٹی کی اپنی رپورٹ میں بھی دونوں پولیس افسروں سے کوئی مجرمانہ رول منسوب نہیں کیا گیا۔ بار بار پوچھنے پر بھی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نہیں بتا سکا کہ کب ، کہاں اورکس کے ساتھ ملکر پولیس افسروں نے سازش کی یا کسی کوجرم کرنے پر اُکسایا ۔ خُرم شہزاد کے بارے میںتو فاضل جج صاحب نے یہاں تک لکھا ہے کہ
” He was not connected with the commission of the offence even remotely” یعنی وقوعے سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
اگرچہ سارا کریمینل جسٹس سسٹم گل سڑ چکا ہے اور اسے بدلنے کی ضرورت ہے مگر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شاہ صاحب اصلاحِ احوال کے لیے اپنے طور پر مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ جوڈیشل اکیڈیمی میں جج صاحبان کو سیکیورٹی امور کے بارے میں بھی آگاہ کرنے کا ضروربندوبست کیا جائے جہاں انھیں سیکیورٹی پر تعینات افسران کے فرائض اور انھیں حاصل قانونی تحفّظ کے بارے میں sensitive کیا جائے، دنیا بھر میں دھماکے بھی ہوتے ہیں اورs VVIPقتل بھی ہوئے ہیں مگر وہاں تعینات سیکیورٹی افسران کو گرفتار نہیں کیا جاتا، ہمارے ملک میں جی ایچ کیو پر بھی حملہ ہو چکا ہے کیا اس پر کسی فوجی افسر کو گرفتار کر کے سزا دی گئی؟ نہیں، ایسا کہیں نہیں ہوتا۔ سزا صرف اس صورت میں ملتی ہے جب سیکیورٹی افسر سازش میں ملوثّ ہوں۔
ملک کے اس اہم ترین مقدمے کے ٹرائل کے لیے ضروری تھا کہ کسی ایسے پریذائیڈنگ آفیسر کو مقرر کیا جاتا جس کو خدا کے ہاں جوابدہی کا احساس ہوتا اور جو بلا خوف و رغبت فیصلہ کرنے کی جر ات رکھتا۔ہمیں پوری توقّع ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اِس زیادتی کا فوری طور پر ازالہ کریگی۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں