260

میانمار میں خونریزی، سوا لاکھ روہنگیا مہاجرین بنگلہ دیش منتقل، کھلی فضا میں رہنے پر مجبور

ڈھاکہ (ورلڈ پوائنٹ)اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ گیارہ دنوں کے دوران میانمار میں خونریزی سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلم مہاجرین کی تعداد اب قریب سوا لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کو ایک بحران کا سامنا ہے۔بنگلہ دیش میں کوکس بازار سے منگل پانچ ستمبر کو ملنے والی فرنچ نیوز ایجنسی کی رپورٹوں کے مطابق میانمار میں پچیس اگست سے اس کی ریاست راکھین میں خونریزی کی جو تازہ لہر جاری ہے، اس کے نتیجے میں اب تک ہمسایہ ملک بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مہاجرین کی تعداد کم از کم بھی ایک لاکھ 23 ہزار 600 ہو چکی ہے۔یوں بنگلہ دیش کو، جس کے ضلع کوکس بازار کی سرحدیں میانمار کی ریاست راکھین کے ساتھ ملتی ہیں، ایک ایسے بحران کا سامنا ہے، جو ممکنہ طور پر آئندہ دنوں میں شدید تر بھی ہو سکتا ہے۔عالمی ادارے کے مطابق راکھین میں ہونے والی ماضی کی خونریزیوں کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں پہلے ہی سے چار لاکھ کے قریب روہنگیا مہاجرین مقیم تھے۔ اب صرف گیارہ دنوں میں مہاجرین کے طور پر تقریباََ سوا لاکھ نئے روہنگیا باشندوں کی آمد کے بعد اس جنوبی ایشیائی ملک میں پہلے سے بھرے ہوئے مہاجر کیمپوں میں حالات اور بھی بڑا چیلنج اور صبر آزما ہو گئے ہیں۔بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کے مرکزی کوآرڈینیٹر نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس ملک میں روہنگیا مہاجرین میں سے بہت سے، جو راکھین سے فرار کے بعد بہت کٹھن حالات میں کئی کئی روز تک پیدل چل کر بنگلہ دیش میں داخل ہوئے، ابھی تک کھلی فضا میں شب بسری پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی ایک بڑی تعداد کو تاحال پینے کا صاف پانی اور اشیائے خوراک بھی دستیاب نہیں۔اسی بارے میں اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلق ادارے کی بنگلہ دیش میں خاتون ترجمان ویوین تان نے کہا کہ ان روہنگیا مہاجرین کے لیے ہنگامی بنیادوں پر شیلٹر کی سہولیات کی بھی انتہائی سخت ضرورت ہے۔میڈیا نے لکھا ہے کہ بنگلہ دیش نے پچیس اگست کے فوری بعد کے دنوں میں پہلے تو ان روہنگیا مہاجرین کو اپنے ریاستی علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کی پوری کوشش کی تھی اور ملکی سرحدوں کی نگرانی بھی بڑھا دی تھی۔ کئی واقعات میں تو ان مہاجرین کو بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز نے دوبارہ واپس میانمار بھی بھیج دیا تھا اسی بارے میں اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلق ادارے کی بنگلہ دیش میں خاتون ترجمان ویوین تان نے کہا کہ ان روہنگیا مہاجرین کے لیے ہنگامی بنیادوں پر شیلٹر کی سہولیات کی بھی انتہائی سخت ضرورت ہے۔نیوز ایجنسی نے لکھا ہے کہ بنگلہ دیش نے پچیس اگست کے فوری بعد کے دنوں میں پہلے تو ان روہنگیا مہاجرین کو اپنے ریاستی علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کی پوری کوشش کی تھی اور ملکی سرحدوں کی نگرانی بھی بڑھا دی تھی۔ کئی واقعات میں تو ان مہاجرین کو بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز نے دوبارہ واپس میانمار بھی بھیج دیا تھا۔تاہم گزشتہ چند دنوں کے دوران بنگلہ دیشی حکام نے ان مہاجرین کو روکنے کی اپنی کوششیں بظاہر ختم کر دی تھیں۔ اسی بارے میں بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے انڈونیشی وزیر خارجہ کے ساتھ ڈھاکا میں ایک ملاقات کے دوران منگل کے روز کہا کہ یہ مہاجرین بنگلہ دیش پر بہت بڑا بوجھ ثابت ہو رہے ہیں۔تاہم گزشتہ چند دنوں کے دوران بنگلہ دیشی حکام نے ان مہاجرین کو روکنے کی اپنی کوششیں بظاہر ختم کر دی تھیں۔ اسی بارے میں بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے انڈونیشی وزیر خارجہ کے ساتھ ڈھاکا میں ایک ملاقات کے دوران منگل کے روز کہا کہ یہ مہاجرین بنگلہ دیش پر بہت بڑا بوجھ ثابت ہو رہے ہیں۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں