370

’نواز شریف کی طیارے میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے‘

پاکستانی صحافی عاصمہ شیرازی اس وقت ملک کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ لندن سے پاکستان کے لیے سفر کر رہی ہیں۔ انہوں نے ورلڈ پوائنٹ نیوز سے اس سفر سے متعلق اور ملکی صورتحال پر گفتگو کی۔

سابق پاکستانی وزیراعظم نوازشریف اپنی صاحب زادی مریم نواز کے ہمراہ پاکستان واپس پہنچ رہے ہیں۔ نواز شریف کو چند روز قبل پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے بدعنوانی کے ایک مقدمے میں دس برس قید کی سزا سنائی تھی۔ اس مقدمے میں مریم نواز کو سات برس قید کا حکم سنایا گیا تھا۔ نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ کی عیادت کے لیے لندن میں تھے، تاہم سزا سنائے جانے کے بعد وہ ممکنہ طور پر مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے لاہور پہنچ رہے ہیں۔ بتایا گیا ہےکہ ممکنہ طور پر نواز شریف کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور کے ہوائی اڈے سے راولپنڈی کی جیل منتقل کیا جائے گا۔

نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ اس سفر میں شریک پاکستانی صحافی عاصمہ شیرانی نے ابوظہبی ایئرپورٹ سے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا،’’میں دیگر صحافیوں کے ساتھ مریم اور نواز شریف کے ساتھ سفر کر رہی ہوں۔ گزشتہ روز میں نے ان کا انٹرویو بھی کیا لیکن وہ انٹرویو نہیں چل سکا۔‘‘ پاکستان میں میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے احکامات کے مطابق اس شخص کا انٹرویو نشر نہیں کیا جاسکتا جسے عدالت کی جانب سے سزا سنائی گئی ہے۔ شیرازی کی رائے میں صحافیوں پر اس کے علاوہ بھی دباؤ ہے لیکن اس کے باوجود وہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ نواز شریف کی وطن واپسی کی کوریج کر سکیں۔

شیرازی کا کہنا ہے کہ وہ اور دیگر صحافی سفر کے دوران براہ راست مریم نواز اور نوز شریف سے ملاقات نہیں کر سکے۔ انہوں نے بتایا کہ،’’ طیارے میں بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں تھی ہمیں ان کی میڈیا ٹیم کی جانب سے کہا گیا کہ ہم ابوظہبی ایئر پورٹ پر ان سے ملاقات کر سکیں گے لیکن وہ یہاں پہنچ کر وی آئی پی لاؤنچ میں موجود ہیں اورمیڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف کو غیر معمولی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔‘‘

پاکستان مسلم لیگ نون کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے عاصمہ شیرازی نے کہا،’’یہ ناسمجھنے والی بات ہے، ان کو جیل جانا ہے ان کو قید بھی کرنا اور آ بھی اس لیے رہے ہیں تاکہ گرفتاری دے سکیں ۔ لیکن اس موقع پر جس طرح مسلم لیگ نون کے کارکنان اور میڈیا پر جو کریک ڈاؤن ہو رہا ہے، یہ قابل مذمت ہے۔ یہ بہت آسان ہوتا کہ نواز شریف پاکستان پہنچتے ان کو بات کرنے دی جاتی اور انہیں جیل لے جایا جاتا۔ اب پاکستان میں جو انتخابات سے قبل سیاسی ماحول بنا تھا اس کو انتخابات سے قبل بہت شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔‘‘

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں