513

ٹرمپ پیوٹن ملاقات: روس امریکہ میں قربتیں بڑھنے لگیں، آئندہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتقاق

ہیلسنیکی(امتیاز احمد رانا بیوروچیف فن لینڈ )امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادی میر پوٹن کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں ختم ہو گئی ہے۔ یہ ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔

دونوں صدور کے درمیان اس سے قبل بھی مختلف مواقع اور اجلاسوں کے دوران ملاقاتیں ہوچکی ہیں لیکن یہ دونوں رہنمائوں کی پہلی باضابطہ سربراہی ملاقات ہے۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روس کے ساتھ گیس کی فیلڈ میں مقابلہ کریں گے، مستقبل میں بھی دو طرفہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے، باہمی مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہے، اختلافات ختم کرنے کے لیے بھی سفارتکاری کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ روس اور امریکا کے تعلقات اب تبدیل ہوچکے ہیں، بطور صدر امریکا اور امریکی عوام کا مفاد ترجیح ہے، روس کے ساتھ تعمیری مذاکرات نے امن کی نئی راہیں کھولی ہیں۔

روسی صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس نے کبھی امریکی انتخابات میں مداخلت نہیں کی، امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کا الزام احمقانہ ہے، صدر ٹرمپ کی شمولیت سے جزیرہ نما کوریا کے مسئلے پر پیش رفت ہوئی ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جبکہ ایران جوہری معاہدے سے امریکا کے دستبردار ہونے پر تحفظات ہیں، روس امریکا تعلقات پیچیدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ روسی صدرپیوٹن سے ملاقات سے قبل ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس، چین اور یورپی یونین ہمارے دشمن ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ممالک ہمارے دشمن ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ سب برے بھی ہیں بلکہ اس سے مراد ہے کہ وہ ہمارا حریف ہے۔
پیر کو ملاقات کے آغاز سے قبل دونوں رہنمائوں نے صحافیوں سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے ملاقات کو خوش آئند قرار دیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس اور امریکہ دنیا کی دو سب سے بڑی جوہری طاقتیں ہیں جن کا ایک دوسرے سے بات کرنا بہت ضروری ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادی میر پوٹن ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں صرف دونوں کے ترجمان شریک ہوئے۔بعد ازاں اس ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ وفود بھی شامل ہو گئے۔امریکہ اور روس کی اس سربراہی ملاقات میں شام کی صورتِ حال، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کی مداخلت سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور زیرِ غور آئے

روسی صدر کے ساتھ اس ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے برسلز میں ‘نیٹو’ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی جس کے بعد انہوں نے برطانیہ کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ان دونوں دوروں کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ کے دیرینہ یورپی اتحادیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔سربراہی ملاقات کے لیے صدر ٹرمپ اتوار کو برطانیہ سے ہیلسنکی پہنچے تھے جہاں انہوں نے پیر کی صبح ناشتے پر فن لینڈ کے صدر ساولی نینستو سے ملاقات کی تھی۔

برطانیہ سے ہیلسنکی روانہ ہوتے وقت صدر ٹرمپ نے کئی ٹوئٹس بھی کیے جن میں ان کا کہنا تھا کہ سربراہی ملاقات میں ان کی کارکردگی کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، آخرِ کار انہیں تنقید کا نشانہ ہی بنایا جائے گا۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں