444

پاکستان میرا وطن ہے

 شہزاد اکبر وڑائچ
کچھ اوورسیز پاکستانی جو خود کئی سالوں تک پاکستان آتے نہیں حتی کہ اپنی جائیدادیں تک بیچ کر یورپ اور امریکہ میں اپنی اولادوں سمیت مستقل طور پر منتقل ہو گئے ہیں،وہ ہمیشہ پاکستان اور اسکےسسٹم کودنیا کا غلط ترین سسٹم قرادیتے ہیں،یہ پاکستانی یورپ اور امریکہ میں کانفرنسز اور پروگرامات کاباقاعدہ انعقاد کرتے ہیں اور وہاں کی مقامی اتھارٹیز کو مدعو کر کے انکے سامنے پاکستان کا انتہائی تاریک اور سیاہ چہرہ پیش کر کے اپنے آپکوانقلابی سمجھتے ہیں۔جوکہ انکی خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ایسے پاکستانی ترقی یافتہ ملکوں سے سیکھ کر اپنے ملک میں آکر اس سسٹم کو بہتر کرنے اور بہتری کیلیے کوششیں کرنے اور اپنا کوئی مثبت کردار ادا کرنے کی بجائے ہمیشہ پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کر کے سستی شہرت اور ذاتی مفادات کیلیے سرگرم رہتے ہیں، پاکستان کے تعلیمی نظام تک کو بنیاد پرستانہ قرار دیتے ہیں اور ایسے کئی الزامات ان کا دن رات کا مشغلہ ہوتے ہیں،الحمدللّٰہ اوورسیز پاکستانی ہونے سے اپنے ملک پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے کیلیے ایک طرف تو یورپ کے پارلیمینٹرین کو پاکستان کے دوروں کا انعقاد اپنے دوستوں سفیان یونس اور اوگو کلاچو(ابراہیم ) کیساتھ ملکر کیا۔پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی پر اسپین پارلیمنٹ میں مذمتی قرار دیں بھی پاکستان کا دورہ کرنے والے پارلیمنٹیرین نے پیش کی،تاکہ یورپ کے حکومتی ایوانوں میں بھی پاکستان کے مثبت امیج کو ابھارا جا سکے اور دنیا کو بتایا جائے کہ پاکستان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہے،دہشت گردی کی عالمی جنگ میں پاکستان کے ہزاروں معصوم شہری شہید اور اقتصادی طور پر سب سے زیادہ بڑے پیمانے پر نقصان سے دو چار ہوا ہے۔ دہشت گردی کی عالمی جنگ میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔میری ان تمام اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل ہےکہ وہ ملک جس نے انھیں دنیا بھر میں ایک پہچان دی ہے یہ اپنے ملک پاکستان میں واپس آیا کریں اور ترقی یافتہ ملکوں سے بہتر تجاویز پر عملدرآمد کرکے یہاں کے سسٹم اور ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔اپنے وطن پاکستان سے اوورسیز پاکستانیوں کی محبت کی ایک مثال ضلع گجرات میں میرے آبائی گاوں خوجیانوالی کی ہے،میرا اور میرے بھائیوں کا شمار بھی اوورسیز پاکستانیوں میں ہوتا ہے اور ہماری ایک مسلسل جدوجہد جو اپنے آبائی گاوں خوجیانوالی میں بہتر تعلیم کے فروغ کیلیے گرلز اور بوائز ہائی اسکولوں کی اپ گریڈیشن ،نئی عمارتوں کی تعمیر،نشے ،لڑائی جھگڑوں کو ختم کرنے اور امن کو قائم کرنے کیلیے بھائی علی شیر کے نام پر ‘بلوشیر پولیس چوکی خوجیانوالی،والد مرحوم کے نام پر زیر تعمیر اکبر میموریل ہلال احمر ہسپتال ،تیرہ ہزار آبادی پر مشتمل گاوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی واٹر سپلائی پراجیکٹ کی صورت میں ،مسجد عالمیہ کی تعمیر نو،زمینداروں کیلیے گاوں سے انکے ڈیروں پر جانے کیلیے پکے راستوں اور قبرستانوں کی چاردیواری کی تعمیر،بہتر صحت کے حصول کیلیے صفائی کا بندوبست ،انفراسٹرکچر میں بہتری ،اور مزید بہتری کیلیے ایسی کئی ایک جاری کوششیں اوورسیز پاکستانیوں کا اپنے ملک پاکستان سے محبت اور پیار کا منہ بولتا عملی ثبوت ہے

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں