282

کل سے روس میں شام سے متعلق سہہ فریقی سربراہی اجلاس شروع

ماسکو (شاہد گھمن سے) روس کے شہر سوچی میں کل سے شروع ہونے والی شام سے متعلق سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں ادلیب، بڑھتے ہوئے تشدد، امریکہ کے شام سے انخلا اور آئین کی تیاری کرنے والے کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں غور کیا جائے گا۔سلسلہ آستانہ کے ضامن ممالک ترکی روس اور یران کے رہنما شام سے متعلق چوتھی بار سربراہ اجلاس میں یکجا ہوں گے۔

روس کے صدر ولادیمر پوتین سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دائرہ کار میں صدر رجب طیب ایردوان سے ون ٹو ون ملاقات بھی کریں گے۔ روس کے صدر ایران کے صدر حسن روحانی سے بھی دو طرفہ مذاکرات کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

سربراہی اجلاس میں تینوں ضامن ممالک، شام کی علاقائی سالمیت، دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف مشترکہ طور پر جدوجہد کرنا ہے اور سلسلہ آستانہ میں طے پانے والی مطابقت کے مطابق تعاون کو جاری رکھنے کا پیغام دیں گے۔

تینوں رہنما اس سربراہی اجلاس سے قبل 7 ستمبر 2018 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں یکجا ہوئے تھے اور اجلاس میں ادلیب میں جاری کشیدگی کو کم کرنے پر غور کیا گیا تھا۔ تہران سربراہی اجلاس میں صدر رجب طیب ایردوان نے بشرالاسد انتظامیہ کے دستوں کی تعداد میں ہونے والے اضافے اور حملوں کی وجہ سے ادلیب میں فائر بندی کی اپیل کی کو بے حد سراہا گیا تھا۔

اس پر صدر رجب طیب ایردوان نے سترہ ستمبر 2018 کو سوچی میں ادلیب فائر بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد کروانے کے لیے ایک مطابقت پر دستخط کیے تھے۔

سوچی مطابقت کے دائرہ کار میں مخالف فوجوں کے پاس موجود بھاری اسلحہ کو واپس کرنے، علاقے میں امن کے قیام اور اپنا گھر بار ترک کرنے والے افراد کو واپس بنانے کا عمل شروع کر دیا گیا تھا تاہم مختصر عرصے کے بعد بشرالاسد انتظامیہ کے دستوں اور ایران نواز غیر ملکی دہشت گرد گروپوں نے علاقے میں سول آبادی پر نئے سرے سے حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔

کل کے سربراہی اجلاس میں ادلیب کی صورتحال خاص طور پر بشرالاسد نظامیہ کے دستوں اور ایران نواز دہشت گرد گروپوں کے حملوں کو روکنے کے معاملے پر غور کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

متعلقہ گروپوں نے کل ادلیب میں توپوں سے 100 سے زائد بار حملے کیے تھے۔ روس، ترکی کو تشدد کے ذمہ دار گروپ “حییت التحریر شام” کی طرح کے گروپوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کی تجویزو پیش کر چکا ہے لیکن ترکی علاقے میں اس سے سویلین آبادی کے متاثر ہونے کی وجہ سے اس فوجی آپریشن کی مخالفت کر رہا ہے۔

سربراہی اجلاس میں امریکہ کے فوجی دستوں کے شام سے انخلا اور اس کے بعد دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر اور منبج میں ترکی کے فوجی آپریشن کہ بارے میں غور کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

روس ترکی کی جانب سے دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر دہشت گرد تنظیم پی کے کے/ وائی پی جی کے خلاف فوجی آپریشن کی اصولی طور پر تو مخالفت نہیں کر رہا ہے لیکن اس سرزمین کے حصے کو بشرالاسد انتظامیہ کے حوالے کرنے کی توقع لگائے بیٹھا ہے۔

ترکی، حیسیکہ میں جس طرح بشر اسد انتظامیہ نے دہشت گرد تنظیم پی کے کے/ وائی پی جی کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر جو ماڈل تشکیل دیا ہے اسی طرح کا ماڈل اس علاقے میں تشکیل دیے جانے پر اپنے خدشات کا اظہار کر رہا ہے۔

اسی وجہ سے ترکی دہشت گرد تنظیم پی کے کے/ وائی پی جی کے بشر الاسد انتظامیہ کے ساتھ مل کر اسی علاقے میں واپس آنے کی راہ کو ابھی ہی سے مسدود کرنا چاہتا ہے۔

روس اس بارے میں ترکی اور بشار اسد انتظامیہ کے درمیان تعلقات بحال کرنے اور تعاون فروغ دینے پراسرار کر رہا ہے۔ 23 جنوری کو صدر پوتین کی ان سے ہونے والی ملاقات میں ادا نہ مطابقت کی یاد دھانی کرواتے ہوئے ترکی کے سیکورٹی خطرات کو اسی دائرہ کار میں رہتے ہوئے دور کرنے کا پیغام دے رہا ہے۔

شام میں نے آئین کو تحریر کرنے سے متعلق کمیٹی کی تشکیل کی کوشش کے دوران پچاس افراد کی فہرست میں بشر الاسد انتظامیہ کی جانب سے بھی متعدد نام دیے جانے کی وجہ سے مشکلات پیدا ہو گئی تھی جسے ابھی تک حل نہیں کیا جاسکا ہے۔

بشرالاسد انتظامیہ نے سویلین اور غیر جانب دار افراد کا نام دینے کی بجائے مختلف محکموں کے اعلی افسران کے نام فہرست میں شامل کرنے پر اصرار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

ترکی ، مخالفین کے ضامن ملک ہونے کے ناتے آئین کو تحریر کرنے والی کمیٹی میں متوازن اور معتبر افراد کے نام شامل کرنے پر اصرار کر رہا ہے ۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں