838

کیا عمران خان کو پاکستان کا مرسی بنا دیا جائے گا….اوریا مقبول جان

وہ کالم نگار، تجزیہ نگار اور دانشور جو آج عالمی اخبارات کے مشاہرے (Payroll) پر ہیں، ان کی دم پر اچانک کیا پاؤں آیا ہے کہ سب کے سب پاکستان کے 2018 کے انتخابات پر انگلی اٹھاتے ہوئے اسے پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کی مداخلت اور چھتری کے سائے تلے ہونے والے انتخابات کا نام دے رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت پاکستانیوں کی ہے جو کل وقتی یا جز وقتی طور پر عالمی اخباروں کے ایجنڈے کے مطابق میرے ملک کی سرزمین پر بیٹھ کر میرے ہی ملک کو عالمی طاقتوں کی عین خواہش کے مطابق رسوا اور بدنام کرتے ہیں۔ جو رہنما اس ایجنڈے کی تکمیل کے راستے کی رکاوٹ ہو گا اس کی کردار کشی سے ان کی تحریروں کا آغاز ہوتا ہے اور پھر انجام اس بات پر جا نکلتا ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک ناکام ریاست ہے جو پہلے دن سے ہی مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھ میں یرغمال رہی ہے اور ان شدت پسندوں کی مدد فوج اور اس کے خفیہ ادارے کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک، یہ مدد کبھی کھل کر کی جاتی ہے اور عموماً خاموشی کے ساتھ۔ یہ سارے تجزیہ نگار، کالم نگار اور دانشور 1999 سے لے کر 2008 تک جنرل پرویز مشرف کی روشن خیال گود میں بیٹھے نوسال کلکاریاں لیتے رہے۔

ان نو سالوں میں اس ملک پر جو کچھ بھی بیتا، اس پر ان کی مجرمانہ خاموشی میرے لیے قطعا حیران کن نہ تھی۔ مشرف عالمی میڈیا کا بھی لاڈلا تھا اور مقامی میڈیا تو اسکی جیب کی گھڑی تھا۔ این جی اوز کے فیشن زدہ ہجوم سے جنم لینے والی سول سوسائٹی کا وہ محبوب رہنما تھا۔ اس کے دور کا کوئی جرم ان لکھنے والوں کو جرم نظر ہی نہیں آتا تھا۔ خواہ وہ ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ افراد ہوں، لال مسجد سانحہ ہو یا اکبر بگٹی کا قتل، انہیں یہ سب ملکی مفاد کیلئے کئے گئے اقدامات نظر آتے تھے۔ مشرف اگر کتاب میں پاکستانیوں کو بیچنے کا اعتراف کرتا، یا ق لیگ بناکر الیکشن کے نتائج اپنی مرضی سے حاصل کرنے کی کوشش بتاتا، تو کسی قسم کا اعتراض نہ کیا جاتا تھا۔ جنہیں آج بلوچستان میں سینٹ الیکشنوں پر تبصرے کرنے سے فرصت نہیں، یہی لوگ تھے کہ جب پیپلزپارٹی سے درجن کے قریب ممبران اسمبلی کو توڑ کر پیٹریاٹ گروپ بنایا گیا تو یہ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ جمہوریت کے “محافظ اول” مولانا فضل الرحمن کی طالبان کے بارے میں مشرف پالیسی، جامعہ حفصہ اور لاپتہ افراد پر مسلسل خاموشی بھی ان دانشوروں کو اچھی لگتی تھی اور وہ مولانا کو جمہوری روایات کے تسلسل کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ اس کے لیے یہ دانشور ایک مغرب زدہ لفظ استعمال کرتے ” “Main streaming یعنی قومی دھارے میں لانا۔

ان تمام لوگوں کو نہ آمریت میں کوئی برائی نظر آتی تھی اور نہ ہی اس کی گود میں پرورش پاتی ہوئی جمہوریت میں۔ یہ سب کچھ جائز اور روا تھا۔ پرویز مشرف نے جاتے جاتے عالمی طاقتوں اور ان کے مشاہرے پر لکھنے والے دانشوروں کی مرضی کی “انجینئرڈ جمہوریت” تحفے میں دی۔ پاکستان کی تاریخ میں ہزاروں مجرموں کو ایک فیصلے سے معاف کرنے کی اتنی بڑی نظیر نہیں ملتی جو کچھ این آر او کے تحت ہوا۔

جمہوریت کے بت کی قربان گاہ پر تمام اصول قربان کردیئے گئے۔ کراچی کے ہزاروں قتل بھی معاف اور پاکستانی خزانے سے اربوں ڈالر کی چوری بھی معاف۔ کوئی نہیں بولا، سب دم سادھے ایک ہی دلیل دیتے رہے کہ یہ قربانی جمہوریت کے لئے دی جارہی ہے۔ عالمی تجزیہ نگاروں کو تو ایسے لگتا تھا کہ سانپ سونگھا ہوا ہے۔ مشرف اور اس کے حواری دانشوروں میں شاید ہی کوئی ہو جو آواز بلند کرتا ہو۔ ڈیلی ٹیلیگراف کے پاکستان میں نمائندے انگبارڈ ولنکسن نے اپنے اخبار میں مشرف کے بارے میں لکھا “He is west’s own SOB”یہ مغرب کی اپنی گالی ہے۔ اسے اگلے دن پاکستان سے نکل جانے کا حکم ملا، کسی کو آزادی اظہار یاد نہ آئی۔ مجھے یاد ہے کہ کتنے ایسے لکھاری تھے جو انگریزی زبان میں کہے جانے والے اس لفظ کو محبت کا لفظ کہتے اور لکھتے تھے۔

اس کے بعد 2008 اور 2013 کے الیکشن آئے، ایک میں زرداری اور دوسرے میں نواز شریف کی حکومت آئی، بنائی یا بنوائی گئی، اس پر بحث نہیں۔ لیکن ان لکھنے والوں کو کسی طور پر فوج اور آئی ایس آئی کی مداخلت نظر نہ آئی۔ اس لئے کہ یہ سب جانتے تھے کہ نواز شریف ہو یا زرداری یہ ایک قدم بھی اپنے عالمی آقاؤں سے پوچھے بغیر نہیں اٹھائیں گے۔ سوات آپریشن سے لے کر وزیرستان تک اور حسین حقانی سے لے کر ڈان لیکس تک دونوں نے اپنے آپ کو عالمی طاقتوں کا وفادار ثابت کیا، اور کیوں نہ کرتے، ان کی زندگی کی تمام کمائی اور مستقبل وہاں پر ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں جائیداد رکھنے، کاروبار کرنے اور زندگی گزارنے والا عالمی طاقتوں کے خلاف چوں بھی نہیں کرسکتا۔ ان دونوں نے مل کر پاکستان کو عالمی طاقتوں کے لیے ایک چراگاہ بنانے کے لیے ایک شاندار راستہ نکالا۔

وہ راستہ یہ تھا کہ دنیا کے کسی ملک کے وسائل پر قبضہ کرنا ہو یا اسے اپنے حکم کا غلام بنانا ہو تو اسے جی ڈی پی سے پچاس فیصد تک مقروض ہونا چاہیے۔ جان پرکنز نے اپنی کتاب “confessions of an economic Hitman”میں لکھا ہے کہ جب ایسا ہوجائے تو پھر پہلے ہم وہاں اپنے “Hawks” عقاب بھیجتے ہیں جو اس قرض کے بدلے میں ملکی وسائل پر قابو پاتے ہیں، کوئی نہ مانے تو پھر اس کے سربراہوں کو قتل کردیتے ہیں، اس نے نکاراگوا سمیت چار مقتول سربراہوں کی مثال دی۔ اگر پھر بھی نہ ہو سکے تو ہم کوئی بھی الزام لگا کر ان ملکوں میں فوج اتار دیتے ہیں۔ 1947 سے لیکر 2007 تک کے ساٹھ سالوں میں تمام حکومتوں نے مل کر چالیس ارب ڈالر قرض لیا لیکن زرداری اور نواز شریف نے ایک ایجنڈے کے تحت صرف دس سالوں میں چالیس ارب ڈالر قرض لے کر پاکستان کا قرض جی ڈی پی کے 75 فیصد تک پہنچا دیا۔ اب یہ ملک عالمی طاقتوں کی چراگاہ بننے والا تھا۔ پاکستان کے پاس دینے کو تو وسائل تھے مگر مطالبہ صرف ایک تھا کہ ایٹمی پروگرام ختم کرو اور عیش سے زندگی گزارو۔لیکن سب کا خواب تلخ ہو گیا۔ اس چراگاہ پر یہ عالمی طاقتیں انہی زر خرید رہنماؤں کے راستے حملہ آور ہو سکتی تھیں، لیکن ان کا پہلا کارتوس ٹھس ہو کر رہ گیا جب الطاف حسین نے پاکستان اور فوج کے خلاف نعرہ بلند کیا تو ان طاقتوں کو یقین تھا کہ کراچی سے انقلاب کا سفر شروع ہو جائے گا، لیکن کارتوس لندن کی رودبار میں غرق ہو گیا۔ اس کے بعد تو بھارتی اور عالمی میڈیا کی جھنجلاہٹ دیکھنے والی تھی۔ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں امریکہ کی ذلت آمیز شکست نے پانسہ پلٹ دیا۔ افغانستان میں عزت سے رہنا تو دور کی بات ہے عزت سے واپسی مشکل ہوگئی۔ اگر پاکستان چراگاہ ہوگا تو پھر ہی حالات بدل سکتے ہیں۔

پاکستان میں ایسی قیادت چاہیے تھی جو عالمی طاقتوں کے اشاروں پر ناچے، ایسے اشارے جو امریکہ، بھارت اور دیگر طاقتیں مل کر دکھائیں۔ لیکن ایسا ان الیکشنوں میں ہوتا نظر نہیں آتا۔ اسی لئے تمام بھارتی اور عالمی اخبارات کا ہدف دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کے انتخابات کو جعلی قرار دے دیا جائے تاکہ اگر پاکستان میں کوئی باغیرت وزیراعظم آ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے تو ہم کہیں کہ یہ تو فوج کا لایا ہوا ہے، اس کا مینڈیٹ جعلی ہے، اس لئے یہ عوام کا نمائندہ نہیں۔ اور دوسرا ہدف عمران خان ہے۔ عمران خان سے ان کی دشمنی کی دو وجوہات ہیں، ایک یہ کہ اس کا کوئی مفاد، جائیداد، کاروبار ملک سے باہر نہیں کہ اسے بلیک میل کیا جاسکے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر عمران خان مغرب کے خلاف آواز بلند کرتا ہے جیسا اس نے مشرف دور میں لندن میں ڈرون کے خلاف مظاہرہ کیا، ایوان ریڈلی کے ساتھ ملکر عافیہ صدیقی کے لیے تحریک چلائی، عالمی پریس کو لے کر وزیرستان جا پہنچا اور نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنا دیا تو اس کے خلاف مغرب میں گفتگو کرنا مشکل ہے۔ کوئی بھی مغرب میں ان دانشوروں کی نہیں سنے گا وہ کیسے کہیں گے کہ یہ ایک مولوی ہے، طالبان ہے، اسامہ کا شاگرد ہے، دہشت گرد ہے۔ اسے تو مغرب نے خود چالیس سال سے پلے بوائے اور مغرب زدہ کے تصور میں پیش کیا ہے۔ یہ وہ ہڈی ہے جو پورے بھارتی اور مغربی پریس کے گلے میں پھنسی ہے۔ ایسے میں مجھے صرف ایک خوف ہے، اگر الیکشن میں ان کی مرضی کے نتائج نہ آسکے تو الیکشن کا دن خوفناک بنایا جا سکتا ہے۔ پھر بھی الیکشن ہوگئے اور عمران خان آگیا تو اسے پاکستان کا “مرسی” بنا دیا جائے گا۔ کیونکہ پاکستان میں کسی بھی وقت عالمی دباؤ کے تحت کچھ بھی کیا جانا ممکن ہے۔ لیکن میرا اللہ ان تمام تدبیر کرنے والوں سے بالا ہے اسے پاکستان کے دشمنوں کا بھی علم ہے اور دوستوں کا بھی۔ اور پاکستان اس کی غیرت کی علامت ہے۔
(بشکریہ نائٹی ٹو )

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں