213

مشترکہ خاندانی نظام: رشتوں کی تباہی کی وجہ؟… ڈاکٹر میشال نذیر

’’ہم شادی کے بعد سے ہی الگ گھر میں رہتے ہیں۔ میرا اور میر ی ساس کا گھر آمنے سامنے ہے۔ میں سسرال میں کم ہی جاتی ہوں کیونکہ ذرا سا فاصلہ اس رشتے میں کٹھاس نہیں آنے دیتا۔ لیکن اپنے شوہر کو کبھی ان کے والدین سے ملنے کو منع نہیں کیا۔ اور نہ میرے شوہر نے مجھے ان کے والدین سے ملنے کےلیے مجبور کیا۔ میرا جب دل کرتا ہے، چلی جاتی ہوں۔ کوئی روک ٹوک یا زبردستی نہیں،‘‘ یہ جواب تھا میری ایک سعودی دوست کا جب میں نے اس سے اُس کی خوشحال ازدواجی زندگی کا راز پوچھا۔

’’میں سینڈوچ کی طرح ہوں، اپنی امی اور بیوی کے درمیان میں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کس طرح توازن قائم کروں۔ امی کو لگتا ہے بیوی کا ہوکر رہ گیا ہوں اور بیوی کو لگتا ہے امی کی باتوں میں آجاتا ہوں۔‘‘ یہ اظہارِ خیال تھا فزیولوجی کے ایک پروفیسر کا، ایک کانفرنس میں جس کا موضوع تھا ’’ویمن اِن ورلڈ نیوروسائنس سمپوزیم۔‘‘ امریکا میں مصر سے آئے ایک دوست نے بتایا کہ وہ سب بھائی، ماں باپ سے الگ رہتے ہیں۔ محلہ ایک ہی ہے، لیکن گھر سب کے الگ الگ ہیں۔

آج بھی اگر آپ عرب ممالک جائیں تو آ پ دیکھیں گے کہ یہ اُن کا رواج ہے، کہ شادی کے بعد الگ ہو جاتے ہیں۔ وہ جتنی بھی شادیاں کرتے ہیں، سب بیویاں الگ الگ رہتی ہیں۔ ماں باپ ساتھ نہیں رہتے لیکن ان کے حقوق برابر ادا کیے جاتے ہیں۔

لیکن بدقسمتی سے برِ صغیر پاک و ہند میں، ہندوؤں کے ساتھ رہتے رہتے، جہاں اور بہت سے رواج ہم نے اپنائے اُن میں سے ایک مشترکہ خاندانی نظام بھی شامل ہے۔ اس کے فائدے تو یقیناً ہیں اور اس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس نظام کے یقیناً نقصانات بھی ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں بڑھتے جارہے ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھ کر موجودہ حالات کے مطابق اس کا حل نکالا جائے۔

میں قطعاً خاندانی نظام کے خلاف نہیں ہوں، لیکن اگر رشتے دور جا رہے ہوں تو اُن رشتوں کو بچائیے، ضد اور انا میں خراب نہ کیجیے۔ ایک لڑکی جو اپنا گھر، ماں باپ، بہن بھائی، سب چھوڑ کر آرہی ہے، جس کا رہن سہن، طور طریقہ آپ سے الگ ہے۔ آپ اس سے کیسے امید لگاتے ہیں کہ وہ راتوں رات آپ جیسے چاہیں، وہ ویسی ہی ہو جائے۔ اُسے ایک ذاتی اسپیس چاہیے، اُسے ایڈجسٹ ہونے کےلیے وقت چاہیے، جو بدقسمتی سے مشترکہ خاندانی نظام میں نہیں ہوپاتا۔

ہمارے ہاں بہو کا مطلب ہے ’’آل ان ون پیکیج‘‘ یعنی کہ کھانا پکانے میں ماہر، گھر کے سارے کاموں میں ہر فن مولا، ہر بار ہر کام میں صرف ہاں ہی جواب دینے والی، بہت کم بولنے والی، بہت کم سونے والی؛ اور اِن سب کے ساتھ ساتھ آج کل نیا ٹرینڈبھی چل نکلا ہے کہ بہو کمانے والی بھی ہو۔ کمانے والی بہو کی تو کیا ہی بات ہے! گویا کہ سونے پہ سہاگہ۔ شادی کا سب سے اہم مقصد تو گویا کہیں بہت پیچھے ہی رہ گیا۔ اور وہ تھا اچھی، نیک سیرت اور شوہر کی فرماں بردار بیوی، جس سے خاندان کا آغاز ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہم نے اس رشتے کی بنیاد ہی کو نظرانداز کر دیا۔ ہم ایک اچھی بہو تو لے آتے ہیں، لیکن افسوس اچھی بیوی نہیں۔

اس کا نتیجہ آج ہمیں طلاق کے بڑھتے ہوئے تناسب کی شکل میں دکھائی دے رہا ہے۔ 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور کی عدالتوں میں طلاق کے (روزانہ بنیاد پر) تقریباً 150 کیسزرپورٹ ہوتے ہیں۔ طلاق ہونے کی ویسے تو بہت ساری وجوہ ہیں۔ اُن میں سے ایک خاندانی جھگڑے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ذہنی اور جسمانی لحاظ وہ لوگ صحت مند ہوتے ہیں جن کے گھروں میں جھگڑے نہیں ہوتے۔ پنجابی زبان کی مشہور کہاوت ہے ’’خالی برتن ٹوکری وچ وی کھڑ کھڑ کردے نے‘‘ (خالی برتن ٹوکری میں ہوں تو وہ بھی بجنے لگتے ہیں)۔ تو گھروں میں جب اتنے سارے لوگ ہوں گے تو اختلاف رائے ہونا تو فطری ہے، اور لڑائی جھگڑے بھی۔ اس کا نتیجہ ذہنی دباؤ، بے سکونی اور بے چینی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ماں باپ کے رشتے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ بہو کے ذمے تو ساس، سسر، نند، جیٹھ، دیور وغیرہ کی خدمت کرنا تو کہیں بھی فرض نہیں۔ یہ بیٹے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی خدمت کرے، ایک اچھا شوہر اور بیٹا بنے۔

علیحدہ ہونے کا مطلب فرائض سے منہ موڑنا ہرگز نہیں۔ ایک محلے میں علیحدہ گھر، ایک ہی بلڈنگ میں الگ فلیٹ، ایک ہی گھر میں الگ حصہ، یا کم از کم باورچی خانے کی علیحدگی، کسی بھی صورت میں تھوڑی سی علیحدگی ان خوبصورت رشتوں کو ٹوٹنے سے بچاسکتی ہے۔ میں نے بہت گھرانوں میں، جو اوپر بیان کی گئی کسی بھی شکل میں الگ رہتے ہیں، ساس سسر کی دیکھ بھال بھی دیکھی، رشتے داروں سے ملنا ملانا بھی، ایک دوسرے کےلیے محبت، عزت اور سسرالی رشتے داروں کےلیے دعوتوں کا اہتمام بھی سب سے زیادہ دیکھا۔ اس کے برعکس مشترکہ خاندانی نظام میں لوگ ساتھ تو رہتے ہیں لیکن دلوں میں ایک دوسرے کےلیے کوئی جگہ نہیں۔

مشترکہ خاندانی نظام میں لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے یا تو ماں بیٹے کا رشتہ خراب ہوتا ہے، جو آباد ہوتے اولڈ ہومز کی شکل میں نظر آتا ہے، یا پھر میاں بیوی کا رشتہ خراب ہوتا ہے جو طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کی صورت میں ہمارے معاشرے میں بڑھتا جارہا ہے۔

ایک کہاوت تو سُنی ہوگی کہ جب ’’میں بہو تھی تو ساس اچھی نہیں مِلی، اور جب میں ساس بنی تو بہو اچھی نہیں مِلی۔‘‘ یہ رشتہ ہی ایسا ہے جس میں اُ میدوں کا سمندر ہوتا ہے۔ جب وہ اُمیدیں ٹوٹتی ہیں تو کنارہ نہیں ملتا، نتیجتاً رشتے ڈوب جاتے ہیں۔ اس لیے تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر ان خوبصورت رشتوں کو بچائیے اور رشتوں کے کنارے کو نفرت کی دیمک سے بچائیے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں