121

یہ بندہ اتنا برا نہیں… جاوید چوہدری

میں نے بچپن میں قاتل اور جج کی ایک کہانی پڑھی تھی‘ کہانی کچھ یوں تھی‘ جج قاتل کو سزائے موت سناتا ہے‘ قاتل یہ سزا ہنس کر قبول کر لیتا ہے لیکن ساتھ ہی جج صاحب سے درخواست کرتا ہے فلاں گائوں میں میرے بیوی بچے رہتے ہیں‘ وہ بہت غریب ہیں‘ وہ شہر نہیں آ سکیں گے چنانچہ مجھے جب پھانسی ہو جائے تو میری لاش آپ گائوں پہنچائیں گے‘ جج یہ درخواست منظور کر لیتا ہے‘ قاتل کو چند ماہ بعد پھانسی ہو جاتی ہے۔

جج لاش لے کر گائوں پہنچتا ہے اور یہاں سے اس کی زندگی کا پورا زاویہ تبدیل ہو جاتا ہے‘ وہ گائوں میں غربت اور جہالت دیکھتا ہے‘ وہ جاگیرداروں کے ہاتھوں غریبوں کو پامال ہوتے دیکھتا ہے اور اسے یہ پتہ چلتا ہے وہ جس شخص کو قاتل سمجھتا رہا تھا وہ مکمل بے گناہ تھا‘ اصل قاتل گائوں کا چوہدری تھا‘چوہدری نے پولیس کے ساتھ مل کر مجرم کو بلاوجہ پھنسایا تھا وغیرہ وغیرہ۔

یہ حقائق دیکھ کر جج کا جوڈیشل سسٹم سے یقین اٹھ جاتا ہے‘ وہ استعفیٰ دیتا ہے اور اپنی باقی زندگی قاتل کے بچوں کی پرورش اور گائوں کی بہبود کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ ملک ریاض کی کہانی بھی اس قاتل سے ملتی جلتی ہے‘ میں اس شخص کو 1996ء سے جانتا ہوں‘ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے معمولی پراپرٹی ڈیلر سے پاکستان کا سب سے بڑا رئیل اسٹیٹ ٹائیکون بنتے دیکھا‘ یہ ٹھیکیدار تھا لیکن اس ٹھیکیدار نے پورے ملک کا لیونگ اسٹینڈر تبدیل کر دیا۔

آپ کو آج کراچی سے لے کر خیبر تک جتنی ماڈرن عمارتیں نظر آتی ہیں‘ آپ کو ملک میں ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے جتنے پھول‘ بوٹے اور درخت نظر آتے ہیں اور آپ کو ملک کے مختلف حصوں میں کنسٹرکشن کی جتنی ماڈرن مشینری نظر آتی ہے یہ سب اس ایک شخص کا کمال ہے‘ یہ ملک میں مشینری بھی لے کر آیا‘ کنسٹرکشن کی جدید تکنیکس بھی‘ پل‘ اوور ہیڈ برج‘ انڈر پاس اور ٹنل بنانے کی ٹیکنالوجی بھی اور ملک میں ایلومینیم‘ یو پی وی سی‘ ڈبل گلیزڈ شیشہ اور ماڈرن کھڑکیاں‘ دروازے اور ٹائلز بھی اس شخص نے متعارف کرائیں۔

آپ تعمیرات سے وابستہ 60 انڈسٹریز میں سے کسی انڈسٹری کے کسی مالک سے جا کر مل لیں‘ وہ ملک ریاض کو اپنا محسن بھی کہے گا اور اس کا شکریہ بھی ادا کرے گا‘ لوگ منہ سے کہیں گے یہ نہ ہوتا تو شاید ہم بھی نہ ہوتے‘ آپ لاہور‘ کراچی‘ راولپنڈی اور اسلام آباد کے بحریہ ٹائون میں رہنے والے کسی شخص کو روک کر پوچھ لیں وہ بھی گھنٹہ بھر اس شخص کی تعریف کرے گا۔

آپ بزنس مینوں‘ اوورسیز پاکستانیوں‘ ریٹائرڈ فوجی افسروں‘ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایگزیکٹوز‘ بیورو کریٹس‘ ججز‘ سیاستدانوں اور پرائیویٹ ملازمین کے رہائشی ایڈریسز دیکھ لیجیے‘ آپ کو ملک کا ہر اہم شخص بحریہ ٹائون کا شہری ملے گا‘ آپ ملک ریاض کے اسکولوں‘ کالجوں‘ اسپتالوں‘ مسجدوں اور شاپنگ سینٹروں میں جانے والے لوگوں کا ڈیٹا بھی نکال لیجیے‘ آپ کو ہر شخص اس کی تعریف کرتا ملے گا لیکن آپ اس کے ساتھ ساتھ ملک ریاض کے مخالفین کی فہرست بھی دیکھ لیجیے‘ آپ کو ملک میں اس کے لاکھوں مخالف ملیں گے‘ آپ کو اکثر لوگ ’’کھا گیا‘ لوٹ گیا‘ قبضہ کر گیا‘‘ کہتے بھی ملیں گے۔

میں اکثر سوچتا ہوں پہلے لوگ کون ہیں اور دوسرے لوگ کون ہیں تو مجھے فوراً قاتل اور جج کی کہانی یاد آ جاتی ہے اور میں محسوس کرتا ہوں پہلے لوگ قاتل کے گائوں کے باسی ہیں‘ یہ اس کے قریب یا اس کے آباد کردہ شہروں میں رہتے ہیں جب کہ دوسرے لوگ وہ جج ہیں جو کرسیوں پر بیٹھ کر صرف پرسپشن پر فیصلے کر رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے ملک ریاض کی پوری زندگی ان دوسرے لوگوں سے لڑتے لڑتے ضائع ہو گئی‘ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو وژن اور ڈیلیوری دونوں سے نواز رکھا ہے‘ یہ صرف میٹرک پاس ہے لیکن اس نے انتہائی نامساعد حالات میں کمال کر دیا۔

حکومتیں پورا زور لگا کر پچھلے پچاس برسوں میں ملک کے دس بڑے شہروں میں کوئی ایک نیا سیکٹر ڈویلپ نہیں کر سکیں لیکن اس اکیلے شخص نے چار بڑے شہروں میں پورے پورے شہر آباد کر دیے‘آخر اس میں کوئی تو کمال ہو گا؟ کاش حکومتیں اس سے مدد لیتیں‘ یہ اس سے تعاون کرتیں تو یہ پورے ملک کا حلیہ بدل دیتا‘ آپ آج اسلام آباد اس کے حوالے کر دیں اور اسے پانچ سال دے دیں‘ یہ اگر اس شہر کو پانچ سال میں سنگا پور نہ بنا دے تو آپ اسے پھانسی چڑھا دیجیے گا مگر افسوس کا مقام ہے ہم نے اس شخص کو بھی بستر کے ساتھ لگا دیا ہے‘ ہم اس کو بھی تباہی کی عبرت ناک مثال بنا دینا چاہتے ہیں‘ کیوں؟ آخر اس کا جرم کیا ہے؟۔

ہم پوری دنیا میں سی پیک کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں‘ چین پاکستان میں پندرہ برسوں میں جتنی سرمایہ کاری کرے گا یہ اکیلا شخص اتنی رقم اس ملک میں لگا کر بیٹھا ہے‘ یہ اگر یہ رقم ملک سے باہر لے جاتا تو اسے کون روک سکتا تھا؟ ہم نے ناک رگڑ کر سعودی عرب سے صرف ایک بلین ڈالر لیا‘ ہم آئی ایم ایف کا سات بلین ڈالر کا پیکیج لینے کے لیے ڈالر کی مالیت میں بھی اضافہ کر رہے ہیں‘ ٹیکس‘ بجلی‘ پٹرول اور گیس کی قیمتیں بھی بڑھا رہے ہیں اور عوام کو بھی مہنگائی کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں لیکن اس اکیلے شخص کی ویلیو تین ہزار ارب روپے ہے‘ یہ اپنی ذات میں ایک آئی ایم ایف ہے‘یہ سعودی عرب سے زیادہ پاکستان کا دوست ہے۔

آپ پاکستان میں کام کرنے والی تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور اثاثوں کی مالیت بھی جمع کیجیے اور آپ اس کے بعد بحریہ ٹائون کی کسی ایک کمرشل ڈسٹرکٹ کی مالیت دیکھ لیجیے‘ آپ کو یہ کمرشل ڈسٹرکٹ مالیت میں ملک میں کام کرنے والی تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں سے بڑی ملے گی لیکن اس شخص نے کل مجھے فون کر کے کہا ’’یہ لوگ مجھے مار دینا چاہتے ہیں‘‘آخر کیوں؟آخر اس کاقصور کیا ہے؟

ہم خزانے اور ڈیم کے لیے ڈالر ڈالر کر رہے ہیں‘ ہم ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر دیامر بھاشا ڈیم کے لیے بمشکل 8 ارب 47 کروڑ جمع کر پائے ہیں‘ آپ آج ملک ریاض کے ساتھ بیٹھئے اور اسے اسلام آباد کا کوئی خالی سیکٹر دے دیجیے‘ یہ وہاں اوور سیز سٹی بنائے گا‘ ڈالروں میں بکنگ کرے گا اور آپ کے پاس ڈالر ہی ڈالر آ جائیں گے‘ آج بھی ملک میں اوورسیز پاکستانیوں کی سب سے بڑی سرمایہ کاری بحریہ ٹائون میں ہے اور یہ بھی حقیقت ہے ملک میں اگر کوئی شخص حکومت کے لیے 50 لاکھ گھر بنا سکتا ہے تو وہ شخص ملک ریاض ہے لیکن ہم اس کے پوٹینشل‘ اس کی کریڈیبلٹی اور اس کی مہارت کا فائدہ اٹھانے کے بجائے اسے عبرت ناک مثال بنا دینا چاہتے ہیں‘ آپ آج آزما لیجیے۔

آپ ایک اسکیم حکومت وقت سے انائونس کروائیں اور دوسری ملک ریاض کو انائونس کرنے دیں‘ فرق ثابت کر دے گا کون زیادہ کریڈیبل ہے‘ حکومت یا ملک ریاض! مگر ہم نے اس شخص کی ناک رگڑ کر رکھ دی‘یہ آج ہر شخص سے اپنا جرم پوچھتا پھر رہا ہے اور لوگ ہنس کر منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔ہم کچھ نہ کریں‘ ہم بس ایک فیصلہ کر لیں‘ ہم جج کی طرح اس مجرم کا فیصلہ اس کے آباد کردہ شہر میں عوام کے درمیان کھڑے ہو کر کریں گے‘ یقین کریں مسئلہ ختم ہو جائے گا۔

آپ کراچی کے ایشو کولے لیں‘ ملک ریاض نے 2015ء میں بحریہ ٹائون کراچی لانچ کیا‘ یہ ساڑھے چھ ارب روپے کا منصوبہ تھا‘ دو لاکھ لوگوں نے وہاں پلاٹس‘ ولاز‘ فلیٹس اور گھر خریدے‘ اس شخص نے ساڑھے تین سال میں پورا شہر آباد کر دیا‘ گیارہ ہزار فلیٹس اور گھر بن گئے‘ اٹھارہ سو کلومیٹر سڑکیں بن گئیں‘ ایک کروڑ درخت لگ گئے اور دنیا کی تیسری بڑی مسجد بن گئی۔

ایشیا کا سب سے بڑا گالف کورس اور سائوتھ ایشیا کے سب سے بڑے ڈانسنگ فائونٹین بھی بن گئے او ر لوگ وہاں باقاعدہ رہائش پذیر ہو گئے لیکن ہمیں اچانک معلوم ہوا یہ زمین سرکاری تھی‘ ملک ریاض کا کہنا ہے میں نے تمام قانونی کارروائی مکمل کی‘ اربوں روپے ٹیکس دیا‘ پانی کے کنکشن کے لیے بھی 35 کروڑ روپے جمع کرا دیے‘ہم 16 کروڑ روپے کا ماہانہ بل بھی جمع کرا رہے ہیں۔

ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ زمین کے تبادلے کا قانون 1982ء میں منظور ہوا‘ ڈی ایچ اے سمیت 13 ہائوسنگ اسکیموں نے زمینوں کا تبادلہ کیا‘ سندھ گورنمنٹ اور ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی دونوں معاہدے کو قانونی کہتی ہیں اور ہم شہر بنا چکے ہیں‘ لوگ آباد ہو رہے ہیں لیکن میری جان نہیں چھوٹ رہی‘ مجھے کوئی بتا دے زمین کا تبادلہ اگر غلط تھا تو آپ باقی 13 ہائوسنگ سوسائٹیوں کو بھی ساتھ کھڑا کریں‘آپ صرف میرا احتساب کیوں کر رہے ہیں؟ آپ پورے علاقے کو صاف کر دیں‘ صرف بحریہ ٹائون کیوں؟

اور ملک ریاض یہ بھی کہتا ہے آپ اس کے باوجود یہ سمجھتے ہیں یہ معاہدہ غلط تھا تو آپ جرمانہ عائد کر دیں‘ آپ وزیراعظم کے بنی گالہ کے گھر کی طرح ہمیں بھی ریگولائزیشن کا آپشن دے دیں‘ ہم زمین کی قیمت اور جرمانہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں‘ ملک ریاض کی یہ بات ’’ریزن ایبل‘‘ ہے‘ بحریہ ٹائون غلط ہے تو 1982ء کے قانون کا فائدہ اٹھانے والی دوسری اسکیمیں کیسے ٹھیک ہو گئیں‘ آپ انھیں بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیں‘ دوسرا آپ اگر ریگولائزیشن کی اجازت دے دیں گے یا جرمانہ عائد کر دیں گے تو ملک کو اربوں روپے بھی مل جائیں گے،

لوگوں کی کھربوں روپے کی پراپرٹی بھی بچ جائے گی اور رئیل اسٹیٹ انڈسٹری بھی تباہ نہیں ہو گی لیکن اس کے برعکس اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو آج بحریہ ٹائون کراچی کے 45 ہزار ملازمین بے روزگار ہوئے ہیں‘ اس کی لائٹس بجھ گئی ہیں‘ لوگوں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں اور پوری رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے کڑاکے نکل گئے ہیں تو کل کو رئیل اسٹیٹ سے منسلک 60 صنعتیں بھی تباہ ہو جائیں گی‘ لاکھوں لوگ گھروں اور پلاٹوں سے بھی محر وم ہو جائیں گے اور وہ ملک ریاض جو آج بھی پاکستان کے لیے اپنا تن‘ من اور دھن قربان کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے وہ اسپتال پہنچ جائے گا یا پھر باقی زندگی ملک سے باہر گزارنے پر مجبور ہوجائے گا۔

کیا یہ ملک کے لیے بہتر ہو گا ‘ کیا ہم اس جیسے شخص کو تباہ کر کے‘ اسے ملک سے بھگا کر نیا پاکستان بنا سکیں گے اور کیا غیر ملکی سرمایہ کار ملک ریاض کے انجام کے بعد اس ملک میں سرمایہ کاری کریں گے؟ کیا یہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے یہ نہیں سوچیں گے جس ملک نے اپنے سرمایہ کار کی قدر نہیں کی وہ ہماری اور ہمارے سرمائے کی کیا قدر‘ کیا عزت کرے گا لیکن آپ اگر اس کے باوجود کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں توپھر میری درخواست ہے آپ یہ فیصلہ بحریہ ٹائون میں کھڑے ہو کر کریں‘ عین ممکن ہے آپ دیکھیں اور گرانے ڈھانے کا یہ سلسلہ بند ہو جائے‘ آپ بھی یہ محسوس کریں یہ بندہ اتنا برا نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں