116

ایک تقریب میں قریبا” ننگے پاؤں….ڈاکٹر مجاہد مرزا

وسعت نظر

رات ہو۔ باہر ہرطرف برف پڑی ہو۔ درجہ حرارت منفی ہو۔ آپ گھر سے باہر کہیں ہوں۔ وہاں سے آپ کو کسی تقریب میں جانا ہو۔ کہ آپ کے پاؤں سے نکالے جوتے گم ہو جائیں تو کیا احساسات ہونگے آپ کے؟ یہی میرے ساتھ ہوا۔

ہوا یوں کہ شاہد گھمن نے مجھے باقی کچھ لوگوں کے ساتھ مدعو کیا تھا۔ پاکستان کے جس ٹی وی چینل کا وہ روس میں نمائندہ ہے، اس چینل کے یو کے ورشن کی پہلی سالگرہ تھی۔ وقت چھ بجے شام طےتھا۔ میں نے پیغام دیا چونکہ میں عشاء کی نماز شہر کے مرکز میں واقع ” تاریخی مسجد ” میں پڑھتا ہوں چنانچہ نماز کے بعد پونے سات بجے پہنچ جاؤں گا۔ تقریب ماسکو میں سیر کے لیے معروف “ستارئے ارباط ” سٹریٹ میں واقع “تاج محل” نام کے ایک پاکستانی ریستوران میں تھی۔

کوئی تین روز پیشتر جب میں مسجد پہنچا تو جماعت کھڑی ہو چکی تھی، جلدی میں میں‌ نے، ٹخنوں سے اوپر تک لمبے فر والے جوتے جنہیں یہاں ” سپاگی ” کہا جاتا ہے، فرش پر ہی پڑے رہنے دیے، ریک میں نہ دھرے اور نماز میں شامل ہو گیا۔
جب مسجد سے نکلنے لگا تو میرے جوتے فرش پر نہیں تھے۔ میں نے ریک میں دیکھا تو اوپر کے ریک پر پڑے تھے۔ میں پہن کر چلا آیا۔ اگلے روز میں نے چلتے ہوئے محسوس کیا کہ جوتے جو سیاہ تھے ان میں بھورے رنگ کی جھلک پڑتی ہے۔ میں سمجھا آج میں نے سبز جیکٹ کی بجائے براؤں جیکٹ پہن رکھی ہے، اسکا عکس پڑتا ہے شاید۔

تیسرے روز میں نے اہلیہ سے کہا کہ جوتوں پر براؤں رنگ کی جھلک کیوں پڑتی ہے۔ اس نے غور سے دیکھا اور بولی کہ مجھے تو نہیں لگتی۔ میں نے کہا چلتے ہوئے پڑتی ہے۔
جب زیر زمین ریل گاڑی بدلنے کو راہداری میں چل رہا تھا اور جوتوں پر پڑتی بھوری جھلک دیکھ رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ جوتے کچھ نئے ہیں اور پنجے کچھ نوکیلے۔ اوہو یہ تو میرے جوتے نہیں۔ یعنی میں غلطی سے کسی اور کے پہن آیا تھا۔ سوچا آج جا کے دے دوں گا، وہی میرے جوتے غلطی سے پہن گیا ہوگا، اس سے لے لوں گا۔

مسجد پہنچا تو ایک طرف کے ریک میں پڑے جوتے مجھے اپنے کھوئے ہوئے جوتے لگے۔ میں نے وہ اٹھا کر سامنے کے ریک میں رکھ دیے اور جو پہنے ہوئے تھے وہ بھی اتار کر اس کے ساتھ رکھ دیے تاکہ جس کے ہوں وہ لے جائے۔

تقریب میں پہنچنے کی جلدی میں میں اجتماعی دعا کیے بنا نکل آیا۔ جو اپنے جوتے سمجھ کر ریک میں رکھے تھے۔ اس میں سے ایک پہنا تو اس میں زپ ایک جانب تھی جبکہ میرے اپنے اور جو کسی کے پہنے ہوئے تھے ان میں دونوں جانب۔ مطلب یہ کہ جس جوتے کو اپنا سمجھا وہ بھی اپنا نہیں۔ انہیں واپس رکھ دیا اور مجبوری سمجھ کے وہی پہننے لگا جو اتارے تھے۔

دوسرا جوتا پہن رہا تھا کہ ایک آدمی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کے کہا، ” ٹھہرو، تم یہ جوتے کیسے پہن رہے ہو جبکہ یہ میرے جوتے ہیں، میں تین روز سے تلاش کر رہا ہوں “۔ میں نے جوتے اتار کے اسے پکڑائے اور پوچھا میرے جوتے کہاں ہیں؟ وہ بولا مجھے کیا معلوم۔ میں نے استفسار کیا تو پھر تین روز پہلے کیا پہن کر نکلے تھے؟ میں گاڑی تک جوتے پہنے بنا گیا تھا، گاڑی میں میرے چپل موجود تھے جو پہن لیے تھے، اس نے جواب میں کہا۔

اس آدمی نے جوتے ہاتھ میں پکڑے پکڑے ایک بار مجھ سے پھر پوچھا کہ کیا واقعی یہ جوتے میرے نہیں تھے۔ پھر مجھے شاید”جوتا چور” جان کر تنبیہہ کی تھی کہ آئندہ ایسا مت کرنا اور یہ کہہ کر وہ جوتے ہاتھ میں پکڑے نکل گیا تھا۔ اب میں نے ہر ریک ڈھونڈنا شروع کیا تھا۔ میرے جوتے جیسا بھی کوئی جوتا کہیں موجود نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ سب نمازیوں کو نکل جانے دوں جو جوتا بچ جائے گا مجبوری میں وہی پہن کر نکل جاؤں گا مگر دیکھا کہ تاخیر سے نماز پڑھنے والے بھی جوتے اتار اتار کر مسجد میں داخل ہوتے جا رہے تھے۔ تب میں نے نائب موذن سے کہا کہ نوجوان مجھے اپنے دفاتر سے پاؤں میں پہننے کی خاطر کچھ لا دو تاکہ میں نکل سکوں۔ اس شریف نوجوان نے پہلے مجھے “گولاش” لا کر دی۔ یہ ربڑ سے بنی جوتا نما چپل ہوتی ہے جس کے اندر بھیڑ کی اون کا نمدہ ہوتا ہے۔ پھر مجھے اس دفتر میں لے گیا جہاں سکرین پر کیمروں کی ریکارڈنگ تھی۔ اس میں میں جوتا پہن رہا تھا، میں نے اسے کہا کہ ابھی دوسرا آدمی مجھ سے یہ جوتے اتروا لے گا۔ ایسا ہی ہوا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم تین روز پہلے کی وڈیو دیکھ کر شاید جوتا پہن کر جانے والے کی شناخت کر لیں مگر کیا گارنٹی ہے کہ وہ پھر بھی آئے گا۔

اب اچھے کپڑوں تلے ایسے گھریلو چپل پہن کر نکلنا اور وہ بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار ہونے کو عجیب سا تھا مگر میں شان بے نیازی سے چلتا رہا۔ دیکھا کہ کسی کو نہیں پڑی کہ دیکھے ، کس نے کیا پہنا ہے۔ مجھے شبہہ تھا کہ کہیں ایسے جوتے کے باعث ریستوران میں داخل ہونے سے روک دیں مگر میں دراتا چلا گیا۔ سب کو جوتا گم ہونے کی داستان سنائی اور میز تلے پاؤں چھپا کر بیٹھ رہا۔

تقریب چینل 92 یوکے کی پہلی سالگرہ منانے کی تھی جس میں روس میں امیرترین پاکستانی چوہدری طارق بھی شریک تھے جو خیر سے اپنی دولت اور اپنے مزاج کے باعث 61 برس کی بجائے پچاس برس کے بھی نہیں لگ رہے تھے۔ پرانی فلموں کے ہیر وحید مراد کے سے بالوں والا، چینل مذکور کا روس میں نمائندہ اور تقریب کا میزبان شاہد گھمن، تصویریں بنانے کے لیے گھومے جا رہا تھا۔ میں نے اسے بھی تصویر بنوانے کی تجویز دی کیونکہ اسے بھی میری طرح فیس بک پراپنی تصویریں پوسٹ کرنے کا بہت شوق ہے اور خاص طور پر سیلفیاں۔
بظاہر شرمیلا مگر انتہائی مستعد یہ نوجوان چار ماہ پیشتر بطور نمائندہ ٹی وی چینل ماسکو وارد ہوا ہے مگر اس نے ہر ایک کے ساتھ نہ صرف اچھے تعلقات استوار کر لیے ہیں بلکہ رپورٹنگ کے لیے شہر شہر گھومتا ہے۔ یاد رہے روس کے شہر دور دور ہیں، طیارہ ہی تیز تر سواری ہے۔ علاوہ ازیں اس نے “ورلڈ پوائنٹ” کے نام سے اپنا ایک ویب ٹی وی چینل بھی ماسکو سے شروع کیا ہے جس کا باقاعدہ سٹوڈیو ہے۔

تقریب خوب رہی۔ سب شرکاء نے چینل مذکور کو سالگرہ کی مبارک باد دی، نیک خواہشوں کا اظہار کیا۔ میں نے وہی گذارش کی جو پاکستان کے باقی چینلوں سے بھی ہے کہ سیاسی ٹاک شوز کو بھول جائیں اور معاشرتی مسائل کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں۔ جب لوگوں کی کسمپرسی اور امراء کی قدرت دکھائیں گے تو لوگوں میں بہتر طور پر شعور اجاگر ہو سکے گا کہ کچھ کے پاس اتنا بہت کچھ کیوں ہے اور کچھ کے پاس کچھ بھی کیوں نہیں؟

ماسکو جیسے شہر میں اگر کسی کو اپنے ازکار رفتہ جوتے چھوڑ کر عبادت گاہ سے کسی کے نسبتا” مناسب اور موسم کے لیے سازگار جوتے پہن کر نکلنا پڑتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ تہی دست ہے۔ اللہ اس کا یہ گناہ، اگر یہ گناہ ہے تو معاف کر دے گا انشاءاللہ مگر حکومت اور معاشرے کو ہمیشہ ہی سوچتے رہنا چاہیے کہ جوتی، کپڑے اور کھانا انسان کو وہ کچھ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے جو وہ شاید ہرگز نہیں کرنا چاہتا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں