160

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ترکی کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا

انقرہ (ورلڈ پوائنٹ نیوز) صدر رجب طیب ایردوان کی دعوت پر ترکی کا دو روزہ سر انجام دینے والے وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان سے صدر کی بلمشافہ اور بین الاوفود بات چیت کے بعد پاک۔ ترک مشترکہ اعلامیہ میں ان مذاکرات کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہی کرائی گئی ہے۔

مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ملکوں کی جانب سے دہشت گرد تنظیم فیتو کے خلاف جدوجہد کو پرعزم طریقے سے جاری رکھنے کی تائید کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

مشترکہ اعلامیہ میں اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، اقتصادی تعاون تنظیم اور جی ۔ 8 سمیت کثیر الجہتی فورم اور متعلقہ دیگر فورموں میں دونوں ممالک کے باہمی موجودہ تعاون پر انتہائی اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مختلف شعبوں میں وفود کی سطح پر تعلقات فروغ پا رہے ہیں، جنھیں مزید تقویت دی جائے گی۔ دونوں ملکوں نے کلیدی قومی مفاد سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات پر ایک دوسرے کی ٹھوس حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان و ترکی نے اپنے علاقوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں ملکوں نے ’’مکالمے کےعمل کو جاری رکھنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل کی ضرورت پر زور دیا‘‘۔

اعلامیے میں اس جانب توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ دونوں برادرانہ ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے پر انتہائی اطمینان کا اظہار کیا ہے، جو گذشتہ برسوں کے دوران باہمی مفاد کی نوعیت کے تمام میدانوں میں حکمت عملی کی سودمند ساجھے داری میں بدل چکے ہیں، اور وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ تقویت پاتے جا رہے ہیں۔

پاک۔ ترک اعلی سطحی سٹریٹیجک تعاون کونسل میکانزم کے ما تحت بھاری تعداد میں کام کرنے والے اموری گروہوں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید تقویت دیے جانے کی اہمیت کا ایک بار پھر اعادہ کرنے والے دونوں سربراہان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین دفاع و دفاعی صنعت کے شعبے میں مسلسل فروغ پانے والے تعلقات کافی تسلی بخش ڈگر پر ہیں۔

ترکی نے ’نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی)‘ میں پاکستان کی رکنیت کی حمایت کی ہے۔ اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اس کی بنیاد بغیر کسی امتیازی سلوک پر ہونی چاہیے، اور یہ کہ ’این ایس جی‘ کی شرائط کی پابندی کرتے ہوئے اسلحے کے عدم پھیلاؤ کے عالمی مقاصد کو فروغ دیا جائے

علامیے میں افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے، جو تمام افغان معاشرے کی مفاہمت سے حاصل ہو سکتا ہے، جس کے لیے تمام ملکوں اور بین الاقوامی برادری کی حمایت درکار ہوگی۔

پاکستان و ترکی نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی، تجارتی اور کاروباری تعلقات کو مزید بڑھایا جائے گا۔

مزید یہ کہ یہ تعاون صحت اور زراعت کے شعبہ جات میں بھی فروغ پائے گا، جس کا طریقہٴ کار وضع کیا جائے گا

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں