69

گوادر کی شان …بیگم وقارالنساء نون !… علی احمد ڈھلوں

گزشتہ روز16جنوری بیگم وقار النساء نون کی وفات کا دن گزرا ہے ، انھیں ہم سے بچھڑے 19سال ہوگئے، وہ کون تھیں؟ ملک کے لیے کیا کر گئیں؟اُن کی کاوشوں کے ثمرات کیا ہیں ؟ کوئی نہیں جانتا۔ آج ملک کی 22کروڑ آبادی گوادر کے بارے میں ضرور جانتی ہے مگر ان میں سے چند ہزار لوگ بھی بیگم وقارالنساء کے بارے میں نہیں جانتے ہوں گے۔

یہ وہی خاتون ہیں جن کی بدولت آج ’’گوادر‘‘ پاکستان کا حصہ ہے ۔ یہ پاکستان بننے سے پہلے کی بات ہے جب برصغیر پاک و ہند کی ایک نامور شخصیت ملک فیروز خان نون جو کہ برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے جہاں ان کی ملاقات محترمہ وکٹوریہ ریکھی سے ہوئی۔ملک صاحب کی دعوت پر انھوں نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام وکٹوریہ سے وقار النساء نون رکھ لیا اور فیروز خان کی دوسری بیوی بنیں۔ گوادر جو کہ آج ساری دنیا کے لیے سونے کی چڑیا کی حیثیت اختیار کر چکا ہے دراصل وہ ان دو ہستیوں کی وجہ سے پاکستان کی ملکیت ہے، گوادر کا علاقہ اٹھارویں صدی کے خان آف قلات میر نصیر نوری بلوچ کی ملکیت تھا جسکاآدھا ریوینیو خان صاحب کو دیا جاتا تھالیکن انتظام سارا گچکی قبائل کے ہاتھ میں تھا۔

1783 میں جب عمان کے حکمران کو اپنے بھائی کے ہاتھوں شکست ہوئی تو خان آف قلات نے اس کی بہتر گزر بسر کی خاطر یہ علاقہ اس شرط پر اس کے سپرد کیا کہ جب سلطان کو ضرورت نہیں رہے گی تب تمام حقوق خان آف قلات کے پاس واپس چلے جائیں گے لیکن ایسا ممکن نہ ہو پایااور جب معاملہ مزید خرابی کی طرف گیا توثالثی کے بہانے برٹش نے مداخلت کردی لیکن عمان سے کچھ مراعات لے کر قلات خاندان کا دعویٰ ٹھکرا دیا اور بہانہ یہ بنایا کہ مزید گواہیاں سامنے آرہی ہیں حتمی فیصلہ کسی کے حق میں نہیں دیا جاسکتا۔اس خدمت کے بدلے برٹش نے عمان سے گوادر کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنی افواج گوادر میں داخل کر دیں ہاں البتہ عمان کو آدھا ریوینیو جاتا رہا اس طرح ایک عرصہ تک برطانیہ اس علاقہ پر قابض رہا،قیامِ پاکستان کے بعد جب خان آف قلات نے اپنی جائیداد پاکستان میں شامل کرنے کا ارادہ کیا تو گوادر کا معاملہ پھر اٹھایا گیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوسکا اور پھر اسی دور میں ایک امریکی سروے کمپنی نے گوادرکی بندرگاہ کے بہت سارے فوائد بتائے۔

ایران کو جب یہ پتہ لگا تو اس نے اسے چاہ بہار کے ساتھ ملانے کی کوششیں شروع کردیں اس دور میں شاہِ ایران کا طوطی بولتا تھا اور سی آئی اے اس کی پشت پناہی پر تھی امریکی صدر کے ذریعے کافی دباو ڈالا گیا کہ گوادر کو شاہِ ایران کے حوالے کیا جائے۔لیکن کوئی کامیابی نہ حاصل ہوسکی۔1956 میں ملک فیروز خان نون نے وزارتِ خارجہ کا قلمدان اٹھایا تو انھوں نے گوادر کے معاملے کو ہر صورت حل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مشن کو اپنی اہلیہ محترمہ وقار النساء نون کو سونپ دیا۔

جنہوں نے گوادر کے کیس کو برطانیہ کے سامنے رکھا تاکہ ہاؤس آف لارڈز سے منظوری لے کر گوادر کا قبضہ واپس لیا جائے۔اس جنگ کو محترمہ نے دوسال لڑا اور قلم ، دلائل اور گفت و شنید سے اسے جیتا۔عمان کے سلطان سعید بن تیمور نے حامی تو بھر لی لیکن اس کے عوض پیسوں کا مطالبہ رکھا لیکن ملک صاحب اس معاملہ پر ڈٹے رہے اور 6 ماہ کے مذاکرات کے بعد عمان 3 ملین ڈالر کے عوض گوادر کا قبضہ پاکستان کے حوالے کرنے پر راضی ہوگیا، اس رقم کا بڑا حصہ پرنس کریم آغا خان نے بطور ڈونیشن دیا اور باقی رقم حکومت پاکستان نے ادا کی، بعض جگہ یہ ہے کہ ساری رقم ہی پرنس کریم آغا خان نے ہی ادا کی تھی۔یہی وہ شخصیات تھیں جنہوں نے گوادر ہمیں دلوایا وہ بھی اس وقت کے سی آئی اے،برطانوی پارلیمنٹ، ایران اور عمان سے لڑ کر جو کہ معرکہ عظیم کی حیثیت رکھتا ہے اس گراں قدر خدمت کے بدلے محترمہ کو 1959 میں سرکار کا سب سے بڑا سول اعزاز ’’نشان ِامتیاز‘‘ عطا کیاگیا۔لیکن صرف یہی نہیں اس کے علاوہ ان کی اور بھی بہت سی گراں قدر خدمات ہیں۔

نون خاندان آج بھی تحصیل بھلوال کے ایک گاؤں نور پور نون میں مقیم ہیں جن میں سے عدنان حیات نون ایم این اے بھی رہ چکے ہیں اس کے علاوہ ان کی اہلیہ گزشتہ حکومت میں وزیر بھی رہ چکی ہیں۔بیگم نون کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی ، انھوں نے عمرہ کیا اور وصیت کی کہ انھیں ایک کلمہ گو مسلمان کے طورپر دفن کیاجائے۔ ’’وکی نون ایجوکیشنل فاؤنڈیشن‘‘ آج بھی ان کی سماجی خدمات کا چراغ جلائے ہوئے اندھیروں میں روشنی بانٹ رہی ہے اور یہ کارخیر کا مستقبل ذریعہ وقارالنساء نون کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ اُن کے خاندان کے افراد بتاتے ہیں کہ بیگم وقار النِسا نون جیسی مہربان خاتون نہیں دیکھی وہ ’’مادر مہربان‘‘ تھیں ہم سب سے سگی ماں سے بھی بڑھ کر پیار کرتی تھیں انھوں نے گوادر ہمیں دلوایا تھا وہ گوادر جو آج مرکز نگاہ ہے جس پر ساری دنیا کی نگاہیں مر کوز ہیں۔ وکی نون عظیم الشان ادارہ تھیں ۔

جس نے پروقار ادارے تخلیق کیے انھوں نے برطانوی سامراج کے خلاف جنگ لڑی اور فتح پائی وہ شائد واحد گوری خاتون تھیں جنہوں نے اپنے ہم وطنوں کے خلاف ہندوستان کی جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ اس لوٹ مار میں سابقہ حکومت کے کئی اعلیٰ عوامی و سرکاری عہدیدار بھی شامل ہیں اور یقینا گوادر میں سرکاری زمینوں پر قبضے میں ملوث لوگ عام افراد نہیں ہو سکتے۔ اگر سرکاری زمینوں کی اسی طرح تسلسل کے ساتھ غیر قانونی طور پر الاٹمنٹ کا سلسلہ جاری رہا تو سی پیک کے حوالے سے حکومت کو درپیش چیلنجوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔خیر موجودہ حکومت کو اس حوالے سے نوٹس لینا چاہیے اور ذمے داران کو کٹہرے میں لا کر کارروائی کرنی چاہیے اور اگر کسی کو اس حوالے سے جگہ بیچنی بھی ہے تو اسے مالکانہ حقوق کے بجائے ’’لیز‘‘ پر دی جائے تاکہ اس عظیم خطے پر حکومت کی رٹ قائم رہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں