96

شام سے انخلا ہوگا مگرعراق سے نہیں کیونکہ ایران پر نظر رکھنی ہے:ٹرمپ

واشنگٹن(ورلڈ پوائنٹ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور شام سے فوجی انخلا کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں موجود رہیں گے تاکہ ایران پر نظر رکھی جاسکے۔

خبر کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ وقت قوم کا سامنا کرنے کا ہے اور ہم دیکھیں گے کہ طالبان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، وہ امن چاہتے ہیں کیونکہ وہ بھی اور ہم بھی آخر تھک چکے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی عہدیداروں اور طالبان کے درمیان قطر میں مذاکرات ہوئے تھے اور طویل مذاکرات کےبعد افغانستان میں جاری 17 سالہ جنگ کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی تھی۔

شام کے حوالے سےبات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہاں موجود 2 ہزار فوجی وقت کے ساتھ ساتھ واپس آئیں گے لیکن اسرائیل کا تحفظ بھی ضروری ہے اور دیگر معاملات پر رفتار ابتدائی اعلان کے بعد سست روی کا شکار ہیں۔

داعش کو شکست دینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت 99 فیصد تک پہنچے ہیں اور یہ 100 فیصد ہوجائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ، عراق میں قائم مراکز کو ختم نہیں کرے گا کیونکہ ان مراکز کی تعمیر کے لیے ہم نے ایک وقت صرف کیا ہے اور ہم ان کو اپنے پاس رکھیں گے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں اس وجہ سے بھی ان کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ ایران پر نظر رکھنی ہے جو ایک حقیقی مسئلہ ہے۔

امریکی صدر نےمزید کہا کہ ہم عراق میں ناقابل یقین اور ایک مہنگا فوجی اڈہ تعمیر کر چکے ہیں جو مشرق وسطیٰ کے تمام مراکز پر نظر رکھنے کے لیے بہتر جگہ پر ہے جہاں سے واپسی نہیں ہونی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں