108

افغان طالبان نے اشرف غنی کی پیش کش مسترد کردی

کابل(ورلڈ پوائنٹ نیوز) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کو پیش کش کی ہے کہ وہ جس شہر میں بھی چاہیے اپنا دفتر کھول سکتے ہیں جبکہ طالبان نے افغان صدر کی پیش کش کو مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق افغان صدراشرف غنی نے صوبے ننگرہارمیں میڈیا سے گفتگومیں کہا کہ افغان مسئلے کا دیرپا اورپروقارحل چاہتے ہیں۔ افغان حکومت کابل،قندھاراورننگرہارمیں طالبان کودفترکھولنے کی اجازت دینے پرتیارہے۔

دوسری جانب طالبان نے صدراشرف غنی کی پیشکش مستردکرتے ہوئے عالمی برادری سے دوحہ میں طالبان کے دفترکوتسلیم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

واضح رہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں بھی طالبان نے افغان حکومت کو کٹھ پتلی قرار دے کر مذاکرتی عمل سے باہر کروادیا اور کسی بھی بات چیت سے انکار کردیا تھا۔

طالبان نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکراتی عمل میں افغان نمائندوں کی شمولیت نہیں ہونی چاہیے، اگر امریکا واقعی خطے میں امن کا خواہاں ہے تو کٹھ پتلیوں کو باہر کرے۔

یاد رہے کہ چار روز قبل افغانستان میں امن قائم کرنے سے متعلق روس کے شہر ماسکو میں دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، طالبان نے اس کانفرنس کو کامیاب قرار دیا جبکہ افغان حکومت کے نمائندوں کو اس مٰں شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی۔

کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ افغان تنازع کے حل کے لئے مذاکرات جاری رکھنے ، افغانستان میں غیرملکی مداخلت کے خلاف اور افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے پر اتفاق ہوا۔

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ عباس ستنکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو کانفرنس کامیاب رہی، غیر ملکی افواج کے افغانستان کے مکمل انخلاء سے متعلق فریقین سے بات چیت جاری ہے جس میں اہم پیشرفت ممکن ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں