101

امریکا نے میزائل کی تنصیب سے متعلق روسی صدر کا بیان ’بھڑک‘ قرار دے دیا

امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے مغربی ممالک کے خلاف نئے میزائل کی تنصیب سے متعلق روسی صدر ولادیمیرپوٹن کے بیان کو واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دے دیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مائیک پومپیو نے روسی صدر کے بیان کو محض ’بھڑکیں‘ کہہ کر مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ولادیمیر پوٹن نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر سرحد جنگ دور کے جوہری معاہدے کو سبوتاژ کیا تو روس اس کا جواب یورپ میں میزائل کی تنصیب سے دے گا جن کا رخ ’فیصلہ ساز ممالک‘ کی جانب ہوگا۔

دوسری جانب مائیک پومپیو نے عالی نشریاتی ادارے سی این این پر اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’ولادیمیر پوٹن کا بیان محض دھکمی ہے اور روسی رہنما بیان کے ذریعے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورس کے معاہدے کے خلاف ورزی سے ماسکو کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’روس معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے اس لیے وقت آگیا کہ آگے بڑھنے کے لیے کچھ ایسا سوچا جائے جس کے تحت ماسکو سے تعلقات قائم کیے جائیں‘۔

مائیک پومپیو نے واضح کیا کہ ’ان کی ڈینگیں صرف دنیا کو آمادہ کرنے کی کوشش ہے تاکہ امریکا اوریورپ کے مابین فاصلے کو بڑھایا جائے لیکن ہم سب ایک صحفے پر ہیں‘۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی مداخلت پر سوویت یونین کے آخری رہنما میخائیل گوباچوف نے1987 میں روسی میزائل کے مسائل پر انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورس کا معاہدہ کیا تھا لیکن دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر طویل عرصے سے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ 500 سے 5500 کے ہدف کے میزائل پر پابندی ہوگی جس میں واضح کیا گیا تھا کہ روسی میزائل مغربی ممالک کے دارالحکومتوں کو ہدف بنا رہے ہیں لیکن چین اور دیگر اہم طاقتوں کے حوالے سے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کا صدر منتخب ہونے کے بعد گزشتہ برس اعلان کیا تھا کہ اگر روس اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کی تو معاہدے سے نکل جائیں گے اور یکم فروری 2019 کو اس کا باقاعدہ اعلان بھی کردیا تھا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ واشنگٹن 6 ماہ کے اندر معاہدے سے دست برداری کے منصوبے پر عمل شروع کررہا ہے۔

امریکا کے دسمبر میں روس کو متنبع کرتے ہوئے 60 روز کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ وہ میزائلوں کو غیر موثر کر دے کیونکہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں