117

دنیا کی نصف آبادی کی خوشیوں کا قاتل ’بھارت‘… ظفر سجاد

دنیا کی تقریبا ً نصف آبادی پانچ ملکوں پر مشتمل ہے۔ ان ممالک میں چین، پاکستان، بھارت، افغانستان اور روس شامل ہے۔ اگر یہ ممالک آپس میں مربوط ہو جائیں تو ایک ایسا ’’ نیو ورلڈ آرڈر‘‘ معرض وجود میں آئے گا کہ طاقت کا توازن اس خطِے کی جانب جّھک جائے گا۔

اس خطِے میں خوشحالی کا دوَر دورہ ہو گا۔ روس کو سائنس وٹیکنالوجی میں دسترس حاصل ہے۔ وہ سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی میں امریکہ سے بہت آگے نِکل سکتا ہے کیونکہ وہاں سائنسدانوںاور انجنیئرز کی بہت بڑی تعداد اس ٹیکنالوجی پر عبور رکھتی ہے مگر ان کی مالی و معاشی استعداد خاصی مّحدود ہے جبکہ امریکہ ابھی تک دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت ہے۔

اُدھر چین بھی خاموشی سے عالمی منڈی میں جگہ بناتا جا رہا ہے چین کی کاٹیج انڈسٹری نے دنیا میں ایک ایسا تجارتی کلچر پیدا کیا ہے کہ جس کا مقابلہ شائد کوئی اور ملک عرصہ دراز تک نہیں کر سکے گا۔ چین بھی دنیا کی بڑی اقتصادی قوت بننے جا رہا ہے، چین کے سونے کے ذخائر، زرمبادلہ اور اثاثوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، چینی قیادت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انھوں نے اپنی دولت، قوت، وقت اور صلاحیتوں کو جنگوں میں ضا ئع نہیں کیا، کئی مواقع پر چین کو اشتعال بھی دلایا گیا ان کی توجہ بھی بدلنے کی کوشش کی گئی مگر وہ خاموشی سے ہر محاذ پر آگے بڑھ رہے ہیں نہ صرف خود آگے بڑھ رہے ہیں بلکہ کوشش کر رہے ہیں کہ روس کو بھی عالمی تجارت میں اہم حصہ اور مقام دلوایا جائے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسی کوشش ہے کہ امریکہ اور یورپ لرز چکے ہیں، ان کے تھنک ٹینک کو اندازہ ہے کہ اگر روس کو گرم پانیوں تک پہنچنے اور عالمی تجارت کرنے کا موقع مِل جاتا ہے تو اس کا مستقبل میں کیا نتیجہ نِکل سکتا ہے۔ چنانچہ امریکہ اور یورپ اپنے بجٹ کا بڑا حصہ اس کام میں صَرف کر رہے ہیں کہ روس کو گرم پانی تک پہنچنے کا راستہ نہ مِلے، افغانستان اور پاکستان میں ایک بہت بڑی جنگ لڑی جا رہی ہے۔

پاکستان میں عسکری اور خفیہ اداروں کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے ایک اعصاب شکن جنگ لڑی۔ اس میں کامیابی حاصل کی، غیر ملکی سازشوں کا مقابلہ کیا اور ملک کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیا، یہ اللہ کا خصوصی کرم اور افواج پاکستان کی مہارت اور نیک نیتی تھی کہ انھوں نے لاتعداد محاذوں کا مقابلہ کیا، بیرونی قوتوں نے پاکستان میں ہر قسم کا عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی، معاشی واقتصادی ناہمواری پیدا کی، ملک میں طبقاتی تفریق کو بڑھایا گیا، سیاسی عدم استحکام پیدا کیا گیا، طالبان کو درپردہ مدد بھی دی گئی اور انھوں مضبوط بھی کیا گیا ، داعش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، افغانستان کو پاکستان سے لڑوانے کی سازش کی گئی، بھارت سے بار بار جارحیت کا ارتکاب کروایا گیا۔

بھارت نے بغیر کسی وجہ کے ہزاروں مرتبہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی اور بلااشتعال شہری آبادی پر حملے کرکے سینکڑوں پاکستانی شہریوں کو شہید کیا، ان کی جارحیت کے معاملے میں پاکستان نے نہایت صبروتحمل کا مظاہرہ کیا اور کنٹرول لائن کے اُس پار شہری آبادی پر گولہ باری نہیں کی کہ سرحد کے اُس پار بھی ہمارے مسلمان کشمیری بھائی بَستے ہیں، اپنے ہی بھائیوں پر گولہ باری کیسے کی جا سکتی ہے۔ بھارت اپنے جاسوُسوں کے ذریعے پاکستان میں ہر لمحہ عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔کلبھوشن اس کی بڑی مثال ہے۔ آبی جارحیت کے ذریعے پاکستان کو اشتعال بھی دلارہا ہے اور جنگ کیلئے اُکساتا بھی رہا ہے۔

بھارت کی پاکستان دشمنی اور نفرت کا فائدہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک اٹھا رہے ہیں، بھارتی راہنما مکمل طور پر ان عالمی قوتوں کے آلہ کار بن چکے ہیں، بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت کی ایسی فضا قائم کی جا چکی ہے کہ بھارتی عوام اور دانشوروں کے دماغ ہی مفلوج ہو چکے ہیں انھیں اندازہ ہی نہیں ہو رہا کہ ان کے راہنما کیا گیم کھیل رہے ہیں کِس طرح بیرونی قوتوں کا ایجنڈہ مضبوط کر رہے ہیں، بھارتی راہنما اس زعم میں ہیں کہ ان کی کامیاب خارجہ پالیسی کے نتیجے میں بھارت کو امریکہ اور اس کے حلیف ممالک میں اہمیت حاصل ہو رہی ہے، یہ ممالک ہر موقع پر بھارت کی پیٹھ پیچھے کھڑے ہوتے ہیں، انھیں اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ بھارت مکمل طور پر امریکہ اور یورپ کی سازش کا شکار ہو چکا ہے۔

بھارت کی اس عاقبت نا اندیشی کا نقصان خود بھارتی عوام اور اس خطے میں رہنے والی دوسری اقوام کو ہو رہا ہے، سی پیک اور گوادر پورٹ کی کامیابی اس خطے کی خوشحالی اور مضبوطی کی ضامن ہے، روس اور چین کی ٹیکنالوجی میں دسترس کا فائدہ بھارتی، پاکستانی اور افغان عوام کو زیادہ ہوگا، بھارت کو نئے تجارتی کلچر کا مضبوط حصہ بننا چاہیے۔ اس بات سے دنیا کے تمام باشعور افرادآگاہ ہیں کہ امریکہ نیٹو اور ایساف افواج کی افغانستان میں موجودگی کی اصل وجوہات کیا ہیں افغان عوام نے کبھی ان ممالک کے خلاف جارحیت نہیں کی اور نہ ہی ان ممالک کے خلاف کسی سازش میں شریک ہوئے ہیں۔

افغانستان کا اصل قصور یہ ہے کہ یہ خطہ روس اور گرم پانیوں کے درمیان موجود ہے۔روس کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ اس کی رسائی بھی گرم پانیوں تک ہو، ان کے لیڈروں کی یہ خواہش بھی رہی ہے کہ وہ سوشلزم کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کا مقابلہ کریں، ان کے راہنما اور دانشور کپیٹل اِزم (سرمایہ دارانہ نظام)کو عوام کے استحصال کی بڑی وجہ سمجھتے ہیں اور وہ سرمایہ دارانہ نظام کو سیدھے سادے عوام پر ظلم واستحصال سمجھتے ہیں، یہودیوں کو یقین ہے کہ سوشلزم کی پذیرائی ان کی اقتصادی اجارہ داری کے نظام کو ہمیشہ کیلئے پاش پاش کر دے گی۔

پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں ایسی دینی جماعتیں معرض وجود میں لائی گئیں کہ جن کا مقصد ہی سوشِلزم کا مقابلہ کرنا تھا، حتٰی کہ بھٹو کا اسلامی سوشِلزم جو کہ اسلام کا اصل اقتصادی و معاشی نظام ہے کا نظریہ بھی پنپنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔ اسلامی مساوات میں دولت کی منصفانہ تقسیم کا حکم ہے ایک مسلمان کے مال پر اس کے اہل خانہ ،عزیزواقارب، محلہ داروں اور دوسرے مسلمانوں کا حق ہے۔ اللہ تعالٰی نے دولت کے ارتکاز اور جمود کو سختی سے منع فرمایا ہے اور دولت کی تقسیم کا حکم دیا ہے ۔

تقسیم کے بعد جب بعض ترقی پسند دانشوروں اور ادیبوں نے بھی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائی تو ان پر کفر کے فتوے بھی صادر کر دئیے گئے۔ بہر حال روسی دانشوروں اور راہنمائوں کی سوشلِزم کے پھیلاؤ کی خواہش نے ان کے لئے عالمی منڈی اور عالمی برادری تک رسائی خاصی محدود کر دی۔ ایک طویل عرصہ بعد روسی راہنماؤںاور دانشوروں کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ اگر وہ سوشِلزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی جنگ میں الجّھے رہے تو ان کے لئے عالمی منڈی تک رسائی اور بھی مشکل اور محدود ہو جائے گی چنانچہ اب ان کی اصل توجہ عالمی تجارت کی جانب ہے۔

امریکہ اور یورپ کو اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ سوشلسٹ قوتیں سوشِلزم کے پھیلاؤ کے نظّریے سے پیچھے ہٹ چکی ہیں چنانچہ اب ان کی نظروں میں پاکستان، افغانستان اور دوسرے ممالک میں قائم اسلامی اور دینی جماعتوں کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، انھوں نے ان جماعتوں کی سرپرستی سے بھی ہاتھ اٹھا لیا ہے، چنانچہ اب اس خِطے میں دینی جماعتیں موثر قوتیں نہیں رہی ہیں۔ افغان جہاد میں دینی جماعتوں کا بہت بڑا حصہ تھا مگر اب افغانستان میں 52 ممالک کی فورسِز کی موجودگی کے باوجود یہ جماعتیں زیادہ تر غیر فعال ہیں ۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی نظر میں اب پاکستان یا دینی جماعتیں اہم نہیں ہیں بلکہ اس دفعہ بھارت اہم ہے ۔ اب اس خطِے میں روس کو افغانستان کی راہداری استعمال کرنے سے روکنے کیلئے بھارت کو استعمال کیا جا رہا ہے، بھارت جس کے روس کے ساتھ ماضی میں دیرینہ تعلقات قائم رہے ہیں اب اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاٹ بن چُکا ہے ۔افغانستان میں بھارت کا اثرورُسوخ خاصا بڑھ چکا ہے، بھارت کے قونصل خانوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے، امریکہ بھارت کی پیٹھ ٹھونک رہا ہے۔

امریکہ بھارت کو یہ احساس دلانے میں کامیاب رہا ہے کہ اگر سی پیک اور گوادر پورٹ فعال ہوگئے تو پاکستان معاشی مشکلات سے باآسانی نِکل سکتا ہے جس کا کل کلاں بھارت کو نقصان ہوگا اور پاکستان بھارت سے پرانے حساب چُکا سکتا ہے، جبکہ پاکستان کی ایسی خواہش ہے نہ ایسے حالات ۔ پاکستان میں غربت، جہالت، بیماری، پسماندگی، خوراک کی کمی جیسے لاتعداد مسائل کا سامنا ہے۔

اب پاکستانی قیادت کی توجہ ان معاملات کی جانب ہے نہ کہ کسی مہم جوئی کی جانب ۔ مگر بھارت عالمی قوُتوں کاآلہ کار بن کر نہ صرف عالمی امن تباہ کرنے کے درپے ہے بلکہ تین ارب افراد کی خوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے بھارت صرف عالمی ایجنڈ ا پورا کرنے کے درپے ہے۔

بھارت کی جانب سے ایک پراپیگنڈہ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ چین پاکستان کیلئے ,, ایسٹ انڈیا ،، کمپنی بن سکتا ہے، بعض پاکستانی بھی اس پراپیگنڈے کا شکار ہیں، اس ضمن میں یہ بھی حوالہ دیا جاتا ہے کہ چین نے گوادر میں اپنی کرنسی کے استعمال کی خواہش کا اظہار کیا اور سی پیک کی حفاظت کیلئے چینی فوج کی تعیناتی کا عندیہ دیا، جہاں تک چینی کرنسی کے استعمال کی بات کی گئی تھی تو وہ عالمی کرنسی کے طور پر کی گئی تھی نہ کہ پاکستانی کرنسی کی جگہ چینی کرنسی استعمال کرنے کی بات غالباً وہ چینی باشندوں کی آسانی کیلئے ایسا چاہتے تھے۔

چینی کرنسی بالآخر پاکستانی کرنسی سے ہی تبدیل ہونی تھی، پاکستان کو زرمبادلہ ہی حاصل ہونا ہے۔ سی پیک کی حفاظت کیلئے پاکستانی فوج نے ایک ڈویژن فوج تیار کی ہے اور سی پیک کی حفاظت کی ذمہ داری تینوں مسلح افواج نے خود اٹھائی ہے اور چین نے اس بات پر کوئی تعرض نہیں کیا، لیکن اس سوچ وفِکر کا کوئی جواز نہیں ہے کہ چین نے خدانخواستہ پاکستان پر قبضے کی کوئی پلاننگ کی ہے۔اگر بھارتی جنگی جنون کم ہو جائے اور افغانستان میں امن قائم ہو جائے تو یہ سارا خطہ جس میں دنیا کی نصف آبادی بستی ہے ایک مربوط اورترقی یافتہ خطہ بن سکتا ہے۔

روسی ٹیکنالوجی، چین کی اُبھرتی ہوئی معیشت، بھارت اور پاکستان کی افرادی قوت، پاکستان اور افغانستان کا محل وقوع ، ذہین اور محنتی پاکستانی قوم، جفاکش افغان اوراس خطِے میں پائی جانے والی معدنیات اور قدرتی وسائل سے اس خطِے کو جنت بنایا جا سکتا ہے۔برصغیر میں بھوک اور ننگ پر قابّو پایا جا سکتا ہے، عوام کی خوشحالی کیلئے بہت سارے اقدامات کئے جا سکتے ہیں، سی پیک اور گوادر پورٹ کا فائدہ پورے خطِے کو ہے بھارت کو بھی تجارت کے وسیع مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی زمینی اور سمندری حُدود سے تجارت کی جا سکتی ہے، بھارت کو بھی پاکستان، افغانستان اور دوسری عالمی منڈیاں حاصل ہو سکتی ہیں، پاکستانی مصنوعات بھارت میں فروخت ہو سکتی ہیں، سی پیک کی کامیابی اس خطِے کی کامیابی ہے۔

بھارتی عوام بے شعور نہیں ہے انھیں بھی احساس ہے کہ جنگی ماحول کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے اور نہ ہی توانائیاں ضائع کرنے کا کوئی فائدہ ہے اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہونے کا فائدہ اسلحہ بنانے والی قوتوں کو ہے، مگر وہ بھی اپنی لیڈرشِپ کی ھٹ دھرمی کے ہاتھوں مجبور ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ بھارتی عوام اپنی لیڈر شپ کو درست حکمت عملی پر مجبور کرے۔ پانچ ممالک کا متحد ہونا موجودہ عالمی قوتوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہو سکتا ہے۔ نیا تجارتی کلچر معرض وجُود میں آنے سے امریکہ، یورپ اور ان کے تمام اتحادیوں کے معاشی واقتصادی ڈھانچے زمیں بوس ہو سکتے ہیں، مگر افسوس تو یہ ہے کہ بھارت ان قوتوں کا گماشتہ بن چکا ہے اور اپنے ہی عوام کو مزید بدحالی میں دھکیل رہا ہے ۔

آلہ کار بھارت صرف اغیار کو فائدہ پہنچانے کیلئے اس دھرتی کو جہنم بنا رہا ہے جس دھرتی کو وہ ماتا یعنی ماں کا درجہ دیتا ہے، یورپین کے مقابلے میں ان پانچ ممالک کی یونین قائم ہونا وقت کی آواز ہے اور اس آواز کو سنناچاہیے۔

بھارتی لیڈراس زعم میں مبتلا ہیںکہ چونکہ بھارت کثیر آبادی والا ملک ہے، دنیا کی کل آبادی کا 18%حصہ بھارت میں رہتا ہے اور وہ ایک بہت بڑی عالمی منڈی ہے اس لیے کچھ عالمی قوتیں بھارت کو اہمیت دیتی ہیں جبکہ بھارت کی اصل اہمیت یہ ہے کہ بھارتی باشندوں کی شکل و صورت اور زبان پاکستانیوں سے ملتی ہے ، بھارتی جاسُوسوں کو پاکستانیوں میں گھلنے ملنے میں آسانی رہتی ہے، بھارتی جاسوس پورے پاکستان میں با آسانی ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے ہیں یہی ان کی اہمیت ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ بھارتی حکمران اس خطے اور اپنے عوام کے مفادات کی پیروی کے بجائے ہزاروں میل دور کے ممالک کا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں