472

حکیم محمد سعید شہید اور بیتے دنوں کی یادیں ،بارسلونا میں دیوالی کا تہوار اور بین المذاہب رواداری

 ڈاکٹر قمر فاروق

زمانہ بیت جاتا ہے۔یادیں دھندلا جاتی ہیں بندہ اپنی زندگی میں ایسے مگن ہوتا ہے کہ گردوپیش کا علم نہیں رہتا۔یاد کرائیں بھی تو کچھ کچھ کے سوا کچھ نہیں آتا ۔2000 کے بعد اور خاص کر سوشل میڈیا کے دور میں حیات کی رفتار ہرنی کی چال جیسی ہو گئی ہے ۔جو چل نہیں چھلانگیں مار رہی ہے۔جب دن اور رات کا احساس ختم ہوتا جارہا ہو اس دور فتن میں بھی اگر کوئی آپ کو یاد رہتا ہے تو یہ اس کے کردار و عمل کی وجہ ہی ہو سکتی ہے۔جو آج بھی زندہ ہے۔
جو لوگ عظیم کہلاتے ہیں وہ کردار و عمل کے عظیم ہوتے ہیں جن کا کردار نسلوں کی تربیت کرتا ہے۔اور پھر نسلیں ان عظیم المرتبت انسانوں کو نا صرف یاد کرتی ہیں بلکہ ان کے دنوں کو مناتی ہیں ۔
ایسی ہی ایک نابغہ روزگار عظیم المرتبت شخصیت شہید پاکستان حکیم محمد سعید ہیں جن سے میرا پہلا تعلق 1996 میں ایک خط کے ذریعے سے ہوا۔یہ وہ زمانہ تھا جب ڈاکیا ہی واحد ذریعہ تھا جو آپ کے خیالات و جذبات کو دوسرے انسان تک پہنچاتا تھا۔خط کا جواب ملا تو خوشی کی انتہا نا رہی۔کئی دوستوں کے سامنے اس بات کا اظہار کیا ۔کچھ نے خوشی اور کچھ نے خاموشی اختیار کی۔خط وکتابت کا سلسلہ چل نکلا ۔جو آپ کی شہادت تک جاری رہا۔بلکہ آپ کا میرے نام آخری خط شہادت سے صرف 3 دن پہلے ملا۔جس میں آپ نے میری کتاب پر گفتگو کی ۔اور لکھا کہ آپ نے میرے متعلق ایسی کتاب لکھی ہے جو اکثر لوگوں کے مرنے کے بعد لکھی جاتی ہیں ۔آپ نے میری زندگی میں ہی لکھ دی۔اللہ ہی جانتا ہے کہ ابھی کتاب پریس میں نہیں گئی ابھی اس پر سوچ بچار کی جارہی تھی۔ابھی ایس ایم ظفر ۔محترمہ بشری رحمان صاحبہ حکیم راحت نسیم سوہدروی کے خیالات جمع کئے جا رہے تھے کہ کتاب کا حصہ بنایا جائے۔کہ 17 اکتوبر کی صبح دل تڑپا دینے والی خبر ملی کہ حکیم محمد سعید کو ان کے مطب کے سامنے گولیاں مار دی گئی ہیں اور وہ موقع پر جام شہادت نوش کرگئے ہیں ۔یہ خبر دل پر بجلی بن کر گری ۔
کئی ماہ اور پھر سال اسی محبت و الفت کے سہارے گزرتے رہے جو حکیم محمد سعید کے ساتھ ملاقاتوں اور خط وکتابت میں گزرے۔کتاب مکمل ہوگئی تھی ۔تمام اہل علم و دانش کے خیالات بھی جمع ہو گئے تھے جو کتاب کی زینت بننے تھے۔جب بھی کتاب کی اشاعت کا ذہن میں خیال آتا آپ کے الفاظ یاد آجاتے کہ ایسی کتابیں تو لوگوں کے مرنے کے بعد چھاپی جاتی ہیں ۔اداس ہو جاتا ۔
ایک دن حکیم راحت نسیم سوہدروی صاحب نے کہا کہ حکیم محمد سعید شہید کی صاحبزادی سعدیہ راشد صاحبہ نے آپ کو یاد کیا کہ قمر نظر نہیں آ رہا کئی ماہ ہو گئے مجلس شوری میں نہیں آیا۔ان کے کہنے کے چند ہی روز بعد محترمہ سعدیہ راشد کا خط موصول ہوا۔جس میں لکھا تھا کہ آپ کی کتاب “جواہر سعید”ہمدرد فاونڈیشن چھاپے گا۔گو ہمارا یہ اصول ہے کہ حکیم محمد سعید شہید کی زندگی کے متعلق کوئی بھی کتاب ہمدرد شائع نہیں کرے گا۔لیکن ہم آپ کی کتاب کے لئے اس اصول کو قربان کر دیں گے۔اس طرح یہ پہلی کتاب تھی جو حکیم محمد سعید شہید کے خیالات و افکار کے متعلق تھی جسے ہمدرد فاونڈیشن نے شائع کیا۔
حکیم محمد سعید شہید کی پہلی برسی کے موقع پر شائع ہو نے والی دیگر کتابوں کے ساتھ ہماری کتاب کی پذیرائی کے لئے ایک بڑی تقریب رونمائی کراچی میں ہوئی۔جس میں شرکت کے لئے مجھے ہمدرد کی جانب سے خصوصی دعوت نامہ دیا گیا۔اس سفر کی روداد کبھی لکھوں گا۔لیکن اس سفر میں جو ساتھ تھے ان میں حکیم عبدالماجد چشتی مرحوم ۔حافظ حکیم طاہر محمود۔حکیم راحت نسیم سوہدروی شامل تھے۔حکیم راحت نسیم سوہدروی نے اس یاد گار تقریب میں شہید حکیم محمد سعید کی طبی خدمات پر ایک جامع مقالہ بھی پڑھا۔
اس دورہ کے دوران ایک دن جامعتہ الحکمت کا دورہ کرایا گیا اور وہاں پر ایک پودا مجھ سے لگوایا گیا جو ہمدرد کی روایت ہے۔
شہید پاکستان حکیم محمد سعید سے وابستہ بہت یادیں ہیں جو ایک نشست میں ممکن نہیں ہیں۔
حکیم محمد سعید شہید کے میرے نام خطوط۔۔۔
حکیم محمد سعید سے ملاقاتیں ۔۔۔۔
حکیم محمد سعید پر میری کتابیں ۔۔
ایک دلچسپ تذکرہ ایک مریض کا آپ سے معائنہ ۔۔۔۔۔
الغرض بہت یادیں اور کمزور حافظہ۔۔۔

بارسلونا میں دیوالی کا تہوار اور بین المذاہب رواداری

دیوالی جو دیپاولی اور عید چراغاں کے ناموں سے بھی معروف ہے ایک قدیم ہندو تہوار ہے، جسے ہر سال موسم بہار میں منایا جاتا ہے۔یہ تہوار یا عید چراغان روحانی اعتبار سے اندھیرے پر روشنی کی، نادانی پر عقل کی، بُرائی پر اچھائی کی اور مایوسی پر اُمید کی فتح و کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس تہوار کی تیاریاں 9 دن پہلے سے شروع ہوجاتی ہوتی ہیں اور دیگر رسومات مزید 5 دن تک جاری رہتے ہیں۔ اصل تہوار اماوس کی رات یا نئے چاند کی رات کو منایا جاتا ہے۔ اصل تہوار شمسی-قمری ہندو تقویم کے مہینہ کارتیک میں اماوس کی رات یا نئے چاند کی رات کو منایا جاتا ہے۔
دیوالی کی رات سے پہلے ہندو اپنے گھروں کی مرمت، تزئین و آرائش اور رنگ و روغن کرتے ہیں،اور دیوالی کی رات کو نئے کپڑے پہنتے ہیں، دیے جلاتے ہیں، کہیں روشن دان، شمع اور کہیں مختلف شکلوں کے چراغ جلائے جاتے ہیں، یہ دیے گھروں کے اندر اور باہر، گلیوں میں بھی رکھے ہوتے ہیں۔ اور دولت و خوشحالی کی دیوی لکشمی کی پوجا کی جاتی ہے، پٹاخے داغے جاتے ہیں، بعد ازاں سارے خاندان والے اجتماعی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں اور خوب مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ دوست احباب کو مدعو کیا جاتا ہے اور تحفے تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں۔ جہاں دیوالی منائی جاتی ہے۔
دیوالی مذہبی طور پر ہندو ۔جین اور سکھ مذہب کے لوگ مناتے ہیں ۔دنیا بھر میں مقیم ہندو اس روشنیوں کے تہوار کو مذہبی عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں۔بارسلونا میں بھی ہر سال کی طرح امسال بھی ایک بڑے ہال میں دیوالی منائی گئی۔جس میں مختلف ممالک جن میں بھارت۔بنگلہ دیش ۔پاکستان۔اسپین ۔لاطین امریکہ کے ہندو ۔سکھ ۔جین۔یہودی ۔مسلمان اور عیسائی مذہب کے کم وبیش 500 افراد نے شرکت کی۔ہندو تہوار میں دیگر مذاہب کے افراد بین المذاہب رواداری کے اظہار کے لئے شامل ہوئے۔
انڈین کلچرل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ہونے والے دیوالی کے تہوار میں مٹھائی رکھی گئی جو مہمانوں کو دی جاری رہی۔اس کے علاوہ ہندو مذہبی گیت گائے گئے۔ٹیگور کی نظمیں سنائی گئیں۔بھارتی پنجاب کے سکھ نوجوانوں نے بھنگڑے ڈال کر ہال کو گرمایا دیا۔یہاں تک کہ مقامی اسپانش لڑکیاں بھی بھنگڑا ڈالتی رہیں۔کلاسیکل موسیقی پیش کی گئی۔الغرض دیوالی کے تہوار میں مذہب کے ساتھ بھارتی کلچر بھی نمایاں تھا ۔خواتین و حضرات اور بچے خوب بن سنور کر آئے ہو ئے تھے۔بچوں نے فیشن شو کے ذریعے خوب داد موصول کی۔وقت پر شروع ہونے والا پروگرام وقت پر اختتام پذیر ہو گیا۔
ماخذ۔۔۔وکی پیڈیا

دشت گماں
انسانی ترقی کی کہانی کتاب سے ہو کر گزر رہی ہے۔وہی قومیں نقطہ عروج پر نظر آئیں جنہوں نے کتاب دوستی اپنائی اور علم و فن کو کمال عروج بخشا۔مسلمان اس وقت تک دنیا میں اہم رہے جب تک کتاب کو اہمیت دیتے رہے۔آج کے ترقی یافتہ دور میں یہاں سائنس اور ٹیکنالوجی نے ہر طرف اپنے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں ۔ہر چیز کمپیوٹر سکرین پر نظر آ رہی ہے۔پھر بھی کتاب اپنی جدا گانہ حیثیت کو اپنائے ہوئے ہے۔اور یہی کتاب ہی ہے جو آپ کو کمپیوٹر کا علم دیتی ہے۔سائنس جتنا مرضی ترقی کر لے کتاب سے فرار حاصل نہیں کر سکتی۔
کتاب نے انسانی شعور کو جلا بخشی ہے۔اور یہ شعور آگے بڑھ کر انسانوں کی تربیت کا موجب بن رہا ہے۔ڈاکٹر عرفان مجید راجہ گو طبی میدان کے شاہ سوار ہیں ۔نت نئی ایجادات اور انسان کی جسمانی تکالیف کو کم کر نے کا ہنر جانتے ہیں لیکن ان کے ہاں انسان کی جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور معاشرتی نظام میں کارآمد انسان بنانا کی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں ۔
ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کی زیر نظر کتاب “دشت گماں”بھی انسانی سوچوں اور معاشرتی رویوں کی آئینہ دار ہے۔گو ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کی یہ پہلی کتاب ہے لیکن کتاب پڑھ کر آپ کو احساس ہوگا کہ ان کا لکھنے کا انداز کس قدر جاندار ہے کہ آپ یہ احساس ہی نہیں کر سکیں گے کہ پہلی بار پڑھ رہے ہیں ۔
ادارہ اردو دوست ہسپانیہ مبارک باد کا سزاوار ہے کہ اس نے اپنی پہلی اشاعت میں ایک فکری اور شعوری کاوش کو ترجیح دی ہے ۔امید ہے کہ یہ کتاب بارسلونا میں منی پاکستان کی ترجیحات اور سوچوں کو تبدیل کرنے کی باعث بنے گی۔
ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کے لئے رب کریم سے دعا ہے کہ جو سوچ اور فکر انہوں نے پاکستان سے محبت اور عالم اسلام کو بلند نظر دیکھنا کی اپنائی یے اے اللہ تو اس میں وسعت عطا فرما آمین

متحد اسپین اور نوجوان نسل
اسپین کے متحد رہنے کا خواب بزرگوں سے نوجوانوں میں منتقل ہو گیا ۔آزادی بڑی نعمت ہے۔اگر اس کو خود داری کے ساتھ برقرار رکھا جائے ۔متحدہ اسپین کی ریلی میں ایک نوجوان لڑکی کی خوبصورت نیلی آنکھوں میں تیرتے آنسو دیکھے جو گفتگو کر رہے تھے۔اور ان سے سوال کر رہے تھے جو اپنے لئے آزادی اور اس کے لئے اس کا وطن توڑ رہے تھے۔ایک آنسو رخسار سے لڑھکتا ہوا نیچے گرا تو اس نے کہا کہ ان وطن توڑنے والوں کو کیا پتہ کہ وطن کیسے بنتے ہیں اور میرے بزرگوں نے اسپین کو اسپین کیسے بنایا۔

خبر کو سوشل میڈیا پر شئیر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں