16

دشت گماں کے مضامین میری زندگی کے بکھرے ہوئے ورق ہیں ۔ڈاکٹر عرفان مجید راجہ

ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کی کتاب ’’دشت ِ گماں ‘‘ کی بارسلونا میں تقریب رونمائی،سول سوسائٹی ،علمی ادبی اور صحافتی حلقوں کی بھر پور شرکت،
صاحب کتاب زندہ رہتا ہے جب تک زبان زندہ ہے۔ لکھاری کا حساس ہونا ہی کتاب کے معرض وجود میں آنے کا باعث بنتا ہے۔ماہر معاشیات ڈاکٹر انعام حسین
وہی قومیں نقطہ عروج پر نظر آئیں جنہوں نے کتاب دوستی اپنائی اور علم و فن کو کمال عروج بخشا،ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کی زیر کتاب “دشت گماں” انسانی سوچوں اور معاشرتی رویوں کی آئینہ دار ہے۔ڈاکٹر قمر فاروق
بارسلونا میں پہلے پاکستانی ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کی کتاب ’’دشت گماں ‘‘ کی گزشتہ روز بارسلونا سنٹر کے خوبصورت ہال میں رونمائی کی تقریب انعقاد پذیر ہوئی، طاہر رفیع نے میزبانی کے فرائض ادا کرتے ہوئے اپنے جذبات کاظہار کیا اور کہا کہ دیار غیر میں یہاں ہمیں بدیسی زبانوں سے واسطہ ہے وہاں اپنی قومی زبان اردو کی ترویج اور نئی نسل کے لئے کتاب لکھنا مشکل اور نہایت صبر آزما کام ہے۔ کتاب کے حوالہ سے ماہر معاشیات ڈاکٹر انعام حسین نے کہا کہ ڈاکٹر عرفان مجید راجہ نے اپنا نام جب تک اردو ہے اور اردو بولنے والے ہیں میں لکھوا لیا ہے۔ صاحب کتاب زندہ رہتا ہے جب تک زبان زندہ ہے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ ’’دشت گماں ‘‘ ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کے مضامین ہیں جو انہو ں نے بارسلونا میں رہتے ہوئے اس ثقافت اور تہذیب سے اخذ کئے ہیں ۔ان مضامین میں ہمیں اپنی ہی زندگی ان گلی محلوں میں گزرتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ لکھاری کا حساس ہونا ہی کتاب کے معرض وجود میں آنے کا باعث بنتا ہے۔
ڈاکٹر قمر فاروق نے ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کی زندگی کے دو پہلووں پر روشنی ڈالی ۔ایک ان کے ساتھ اپنا تعلق اور دوسرا ’’دشت گماں‘‘ کی اشاعت اور نوجوان نسل کے لئے فائدہ مند ہونا تھا انہو ں نے کہا انسانی ترقی کی کہانی کتاب سے ہو کر گزر رہی ہے۔وہی قومیں نقطہ عروج پر نظر آئیں جنہوں نے کتاب دوستی اپنائی اور علم و فن کو کمال عروج بخشا۔مسلمان اس وقت تک دنیا میں اہم رہے جب تک کتاب کو اہمیت دیتے رہے۔آج کے ترقی یافتہ دور میں یہاں سائنس اور ٹیکنالوجی نے ہر طرف اپنے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں ۔ہر چیز کمپیوٹر سکرین پر نظر آ رہی ہے۔پھر بھی کتاب اپنی جدا گانہ حیثیت کو اپنائے ہوئے ہے۔اور یہی کتاب ہی ہے جو آپ کو کمپیوٹر کا علم دیتی ہے۔سائنس جتنا مرضی ترقی کر لے کتاب سے فرار حاصل نہیں کر سکتی۔کتاب نے انسانی شعور کو جلا بخشی ہے۔اور یہ شعور آگے بڑھ کر انسانوں کی تربیت کا موجب بن رہا ہے۔ڈاکٹر عرفان مجید راجہ گو طبی میدان کے شاہ سوار ہیں ۔نت نئی ایجادات اور انسان کی جسمانی تکالیف کو کم کر نے کا ہنر جانتے ہیں لیکن ان کے ہاں انسان کی جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور معاشرتی نظام میں کارآمد انسان بنانا کی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں ۔ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کی زیر نظر کتاب “دشت گماں”بھی انسانی سوچوں اور معاشرتی رویوں کی آئینہ دار ہے۔
صاحب کتاب ڈاکٹر عرفان مجید راجہ نے اپنی کتاب دشت گماں کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دشت گماں میرا بارسلونا ہے۔ جس میں میری زندگی کے شب وروز گزر رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ میرا یہ سفر پاکستان سے امریکہ ،ترکی اور رومانیہ سے ہوتا ہوا بارسلونا میں آ کر رک گیا ہے۔ اور یہی میرا دشت گماں ہے۔ انہو ں نے ہال میں موجود احباب کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لکھاری اپنے مشاہدے اور تجربات کو ہی اپنی قلم کے ذریعے دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اور یہ دشت گماں کے مضامین میری زندگی کے بکھرے ہوئے ورق ہیں ۔
اس موقع پر ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن اسپین کی جانب سے ڈاکٹر عرفان مجید راجہ کو کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی اور فیڈریشن کی جانب سے ستائشی شیلڈ بھی دی گئی۔ ،ہال میں موجود افراد کو قرعہ انداز کے ذریعے مختلف احباب کو کتابیں دی گئیں۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں