165

بالاکوٹ جارحیت، ایف 16 کا استعمال: غیر ملکی صحافیوں نے بھارتی بیانیے کو مزید کمزور کردیا

اسلام آباد(ورلڈ پوائنٹ نیوز) پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر نئی دہلی کا بیانیہ اس وقت مزید کمزور ہوگیا جب غیر ملکی صحافی گزشتہ ہفتے کے واقعات پر مزید تفصیلات سامنے لے آئے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی صحافی ماریہ ابی حبیب نے انکشاف کیا کہ بھارت کے اصرار کے برعکس پاکستان کی جانب سے امریکا کے ساتھ ایف 16 کی فروخت کے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی یہاں تک کہ اگر وہ گزشتہ ہفتے بھارتی طیارے کو گرانے میں امریکی ساختہ لڑاکا طیاروں کا استعمال کرتا۔

خیال رہے کہ 27 فروری کو پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں اپنی صلاحیت منوانے کے لیے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں بھارتی اہداف کو لاک کیا اور کچھ فاصلے پر انہیں نشانہ بنایا جبکہ بعد ازاں پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے 2 بھارتی طیاروں کو مار گرایا۔

بھارتی حکام کی جانب سے اس بات کو تسلیم کیا گیا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے بھارتی فوجی اہداف کے ساتھ انگیج کیا جبکہ ساتھ ہی یہ شکایت کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کے لیے استعمال ہونے والے پاکستانی طیاروں میں ایف 16 بھی شامل تھا۔

بھارتی ایئرفورس کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایف 16 کو گرایا اور اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اے آئی ایم-120 میزائل کی باقیات پیش کیں۔

نئی دہلی اس بات پر زور دے رہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف ایف 16 استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد نے امریکا کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی، جو مبینہ طور پر لڑاکا طیاروں کو صرف انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کرنے تک محدود کرتا ہے۔

تاہم نیویارک ٹائمز کی جنوبی ایشائی نمائندہ ماریہ ابی حبیب نے مختلف ٹوئٹس میں واضح کیا کہ پاکستان کسی طرح امریکا کے ساتھ فروخت کے معاہدے کی خلاف ورزی کا مجاز نہیں ہوسکتا، یہاں تک کہ اگر اس نے بھارتی طیاروں کو گرانے کے لیے ایف 16 کا استعمال بھی کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اس نے ایف 16 طیارے کا استعمال نہیں کیا۔

ماریہ ابی حبیب نے ٹوئٹ کی کہ ‘امریکا کہتا ہے کہ اگر بھارتی مگ کو گرانے کے لیے پاکستان ایف 16 کا استعمال کرتا تو یہ فروخت معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا’۔

‘وہ کہتے ہیں کہ اگر بھارت دوسرے روز پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف وزری کرتے ہوئے داخل ہوا اور پاکستان نے اپنے دفاع میں طیاروں کو استعمال کیا تو معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوئی لیکن اگر پاکستان نے حملے کے لیے پہلے ایف 16 کا استعمال کیا تو معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی’

اسی طرح ماریہ ابی حبیب نے اسلحہ ماہرین اور حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی ایئرفورس کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھائے جس میں انہوں نے نئی دہلی میں بطور ثبوت اے آئی ایم-120 میزائل کو دکھایا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان نے اسے ایف 16 سے استعمال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام کے پاس ابھی تک بھارتی ایئرفورس کے اس دعوے پر یقین کرنے کے لیے کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ بھارت نے ایف 16 کو گرایا تھا۔

ماریہ ابی حبیب نے اس بات کو بھی سامنے رکھا کہ ‘مغرب خاص طور پر امریکا واقعی میں بھارت کے ساتھ اپنے اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے لیے نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا بہت ضروری ہے، یہاں تک کہ اس نے ‘ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے’ بھارت میں ایف 16 طیارے بنانے کی پیش کش کی۔

خاتون صحافی نے مزید لکھا کہ امریکا کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے بھارتی مؤقف کے ساتھ محتاط رہنے کے باوجود بھارت کے ساتھ نیا لگاؤ ‘کافی دلچسپ ہے’

سیٹلائٹ تصاویر میں حملے کے مقام پر کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی
دوسری جانب بھارت کی جانب سے بالاکوٹ میں حملے میں ہلاکتوں کے دعوے کی ایک مرتبہ پھر قلعی کھل گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں اعلیٰ کوالٹی کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی گئیں جس میں بالاکوٹ میں اس مقام کو دکھایا گیا، جہاں بھارت نے حملے اور مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

ان سیٹلائٹ تصاویر میں عمارت اور انفرااسٹرکچر کا واضح طور پر نظر آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کی جانب سے کیا جانے والا دعویٰ درست نہیں۔

سین فرانسسکو سے تعلق رکھنے والے ایک نجی سیٹلائٹ آپریٹر پلانیٹ لیبس کی جانب سے تیار کی گئی ان نئی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ‘ بھارتی فضائیہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے جیش محمد کا سب سے بڑا تربیتی کیمپ تباہ کرنے کے دعوے ‘ کے باجود ‘وہ عمارت وہاں کھڑی ہے’، جو مقامی لوگوں کے مطابق بچوں کا مدرسہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ادارے کے پاس موجود حالیہ تصاویر کا جب اپریل 2018 میں اسی علاقے کی سیٹلائٹ تصاویر سے موازنہ کیا گیا تو انفرااسٹرکچر میں ‘عملی طور پر کوئی تبدیلی’ نہیں تھی۔

ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ بھارتی وزارت خارجہ اور دفاع کی جانب سے اس معاملے پر جواب نہ دینا بھارتی وزیر اعلیٰ کے اس دعوے پر مزید شک و شبہ پیدا کرتا ہے کہ بھارتی ایئرفورس نے کامیابی سے مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں