70

نیوزی لینڈ میں دہشتگرد حملہ، ملک میں مسلمانوں کی کتنی آبادی ہے اور انہیں وہاں کیا سہولیات حاصل ہیں؟

نیوزی لینڈ (ورلڈ پوائنٹ) نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ میں نماز جمعہ کے وقت سفید فام دہشتگرد نے نہتے نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 49 افراد شہید ہو گئے۔ دنیا بھر میں دہشتگردی کے اس واقعہ کی مذمت کی گئی۔ اس حوالے سے وزیر اعظم وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے رد عمل دیتے ہوئے اسے ملک کی تاریخ کا ”سیاہ ترین” دن قرار دیا۔
مساجد پر اس دہشتگردی کی کارروائی کے بعد نیوزی لینڈ میں بسنے والی مسلمان برادری تاحال سکتے میں ہے تاہم جنوبی بحرالکاہل پر موجود اس ملک میں مسلم برادری اقلیت میں ہے۔ نیوزی لینڈ میں کے آخری مردم شماری 2013ء میں ہوئی تھی جس کے مطابق وہاں 46 ہزار سے زائد مسلمان آباد ہیں جو نیوزی لینڈ کی کُل آبادی کا ایک فیصد ہے۔

نیوزی لینڈ کے ادارہ شماریات (اسٹیٹس این زی) کے مطابق خود کو مسلمان بتانے والے افراد کی تعداد میں 2006ء سے 2013ء کے درمیان 28 فیصد اضافہ ہوا جن میں سے ایک چوتھائی نیوزی لینڈ میں ہی پیدا ہوئے ۔

نیوزی لینڈ میں بسنے والے دیگر مذاہب کے کئی لوگ دائرہ اسلام میں بھی داخل ہوئے۔ ان میں سے کچھ تعداد یورپی نژاد افراد کی بھی ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے کرائسٹ چرچ حملے کے بعد دئے گئے بیان میں کہا کہ ہم 200 ذاتوں اور 160 زبانوں سے زائد پر مشتمل قابل فخر قوم ہیں۔ ہمارے اقدار ایک جیسے ہیں۔ پوری قوم اس سانحے سے متاثرہ برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔
مساجد پر ہوئے اس حملے اور حملے کے نتیجے میں شہادتوں کے بعد نیوزی لینڈ کے اسلامک ایسوسی ایشن کے صدر مصطفیٰ فرخ نے کہا کہ ہم یہاں ہمیشہ سے محفوظ رہے ہیں۔ یہاں کے مسلمانوں کو لگتا ہے کہ ہم دنیا کے سب سے محفوظ ملک میں رہتے ہیں اور ہمیں ایسے کسی واقعہ کی اُمید نہیں تھی۔ نیوزی لینڈ میں مسلمان ایک صدی سے رہ رہے ہیں اور ایسا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا تاہم اس کے باوجود ہمارے اندر نیوزی لینڈ کے لیے جذبات تبدیل نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب مسلم برادری کو نیوزی لینڈ میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سی اے سی آر کا کہنا ہے کہ مسلمان مہاجرین کو نیوزی لینڈ کے مقامی افراد کم ترجیح دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے نیوزی لینڈ ہجرت کرنے والے مہاجرین کو چین اور فلپائن جیسے دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ منفی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔
نیوزی لینڈ کے ہیرالڈ نیوزپیپر کی 2015ء میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک گروہ کی صورت میں مسلمان دیگر مذہبی گروہوں کے مقابلے میں زیادہ اہل تھے تاہم انہیں روزگار تلاش کرنے میں زیادہ مشکلات تھیں۔ حالیہ برسوں میں نیوزی لینڈ کی مسلمان برادری میں کشیدگی اس وقت سامنے آئی تھی جب 2006ء میں نیوزی لینڈ کے اخبار اور ٹی وی اسٹیشنز پر توہین آمیز خاکے شائع اور نشر کیے گئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد مسلمان برادری نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور اس کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔ نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم ہیلن کلارک اس حملے کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے اسے گھٹیا اور گھناؤنا جُرم قرار دیا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی بھی کیا۔ واضح رہے کہ اس حملے کے بعد مسلمان کمیونٹی میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونے لگا جس کو دیکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر TheyAreUs# کا ہیش ٹیگ متعارف کروایا گیا جو کچھ ہی دیر میں کافی مقبول ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے مسلمانوں پر ہونے والے اس حملے کے بعد ان سے اظہار یکجہتی کیا اور اس ہش ٹیگ کے استعمال سے انہیں اپنی حمایت کا یقین بھی دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک شخص کے لیے نیوزی لینڈ سے متعلق اپنے جذبات کو تبدیل نہ کریں ،یہ ملک جتنا ہمارا ہے اُتنا ہی آپ کا بھی ہے اور یہاں آپ کو ہمیشہ ہی خوش آمدید کہا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں