344

تاجدار بریلی امام احمد رضا خاں رحمة اللہ علیہ کے فضائل و مناقب

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال پنجاب پاکستان
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم: ان اللّٰہ یبعث لھٰذہ الامة علی راس کل مائة سنة من یجد دلھا دینھا۔ترجمہ : ”بے شک ہر صدی کے آخر پر اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ایک مجدد بھیجے گا امت کے لئے اس کا دین تازہ کر دے ۔ (ابو دائود شریف)
مجدد کی نشانی :گذشتہ صدی کے آخر میں اُس کی شہرت ہو چکی ہو اور موجودہ صدی میں بھی وہ مرکز علوم سمجھا جاتا ہو یعنی علماء کے درمیان اُس کے احیائے سنت اور ازالۂ بد عت اور دیگر دینی خدمات کا چرچا ہو ۔اس لحاظ سے علماء عرب و عجم کے فیصلے کے مطابق چودہویں صدی ہجری کے مجدد برحق امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمة اللہ علیہ ہیں ۔چودہویں صدی ہجری کے نصف اول میں حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمة اللہ علیہ ہی ایسی واحد شخصیت کے مالک تھے جس کا ہر پہلو بحر بے کراں معلوم ہوتا ہے ۔ان کی وسعت علم کو دیکھتے ہوئے ان بندگان خدا پر تعجب ہوتا ہے جو حضور اکرم ۖ کے علم میں کلام کرتے ہیں ذرا غور کریں کہ جب ان کے غلاموں کی وسعت علم کا یہ عالم ہے تو آقائے دو عالم ۖ کے علم کا کیا عالم ہوگا سچ تو ہے کہ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمة اللہ علیہ حضور نبی اکرم ۖ کی وسعت علم کے لئے دلیل و برہان اور ایک کھلا معجزہ ہیں ۔ (مرقات السعود و شرح ابو دائود)
حضرات محترم :ذرا غور کرو کہ وہ تمام خصوصیات جو ایک مجدد دین و ملت ، امام اہلسنت حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی میں موجود تھیں ۔اس عظیم المرتبت ذات مبارکہ کی سیرت و عظمت اور زندگی کے معمولات جاننے کی کوشش کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہو گا تاجدار بریلی رحمة اللہ علیہ کتنی عظیم شان کے حامل ہیں: چنانچہ
نام مبارک اور مقامِ ولادت مبارک:آپ کا نام محمدہے ۔تاریخی نام المختار ہے ۔آپ کے دادا نے احمد رضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے ۔بعد میں اعلیٰ حضرت نے اس نام کے ساتھ عبد المصطفےٰ کا اضافہ فرما لیا ۔ہندو ستان کے شہر بریلی محلہ جسولی میں آپ کی ولادت با سعادت 10شوال المکرم شریف 1272ھ بمطابق 14جون 1856ء بروز ہفتہ بوقت ظہر کو ہوئی ۔ (ملفوظات رضا)
تاجدار بریلی کے والد اور دادا کے اسمائے گرامی:امام اہل سنت حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمة اللہ علیہ کے والد گرامی کا اسم گرامی مولانا نقی علی خاں رحمة اللہ علیہ جو کہ بلند پایہ عالم دین اور ولی کامل تھے ۔حضرت امام اہلسنت رحمة اللہ علیہ کے دادا جان کا اسم گرامی حضرت مولانا رضا علی خاں رحمة اللہ علیہ بہت بڑے عالم دین ،زاہد ،متقی اور صاحب تصنیف بزرگ تھے ۔(حیات اعلیٰ حضرت جلد اول)
اعلیٰ حضرت کا مقام و مرتبہ:حضرت امام اہلسنت اپنے والد ماجد کے ساتھ حرمین شریفین کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے اُس وقت آپ کی عمر مبارک 22برس تھی ۔وہاں کے اکابر علماء سے حدیث ،فقہ ،اصول تفسیر اور دوسرے علوم کی سند حاصل کی ایک دن نماز مغرب مقام ابراہیم علیہ السلام میں ادا کی ،نماز کے بعد امام شافعیہ شیخ حسین بن صالح نے بغیر کسی سابقہ تعارف کے ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو اپنے گھر لے گئے اور دیر تک ان کی پیشانی کو تھامے رہے اور فرمایا انی لاجد نور اللّٰہ من ھٰذا الجبین۔یعنی بے شک میں اس پیشانی سے اللہ تعالیٰ کا نور پاتا ہوں ۔
اس کے بعد انہوں نے صحاح ستہ کی سند اور سلسلہ قادریہ کی اجازت اپنے دستخط خاص سے مرحمت فرمائی ۔(تذکریہ علماء ہند )
عاشقِ غوث الوریٰ کے خصائص :آپ اپنی کنگھی اور شیشہ الگ رکھتے مسواک ضرور کرتے تھے ۔دکاندار آپ کو مفت سودا دینے کی خواہش کرتے یا کم قیمت لینا چاہتے مگر آپ ہمیشہ بازار کی قیمت ادا کرتے تھے اور لوگوں کا دل رکھنا بہر ضروری سمجھتے تھے ۔ چلتے وقت بہت آہستہ قدم اٹھاتے اور نگاہیں عام طور پر نیچی رکھتے ۔ زیادہ وقت تالیف و تصنیف میں گزارتے تھے ۔نماز بہت آہستہ اور سکون سے پڑھتے ۔ہر شخص کے ساتھ اخلاق سے پیش آتے ۔ سادات کی بڑی عزت اور خاطر مدارت کرتے ۔(سوانح اعلیٰ حضرت )
تاجدار بریلی کی وصیتیں:حضرت تاجدار بریلی رحمة اللہ علیہ نے اپنے بارے میں چند وصیتیں فرمائی جن کا تذکرہ متعدد کتب میں ہے جو درج ذیل ہیں ۔
سورة یٰسین ،سورة الرعد سینہ میں دم آنے تک پڑھی جائے۔ درود شریف متواتر پڑھا جائے ۔رونے والے بچوں کو دور رکھا جائے ۔قبض روح کے بعد آنکھیں بند کر دی جائیں اور ہاتھ پائوں سیدھے کر دئیے جائیں ۔بسم اللّٰہ علی ملتہ رسول اللّٰہ کہہ کر نزع میں ٹھنڈا پانی پلایا جائے ۔جنازے میں بلا وجہ تاخیر نہ کی جائے ۔جنازے کے آگے آگے تم پر کروڑوں درود یہ نعت پڑھی جائے ۔قبر میں آہستہ اتاریں ۔نیچے نرم مٹی کا ڈھیر لگائیں ۔قبر تیار ہونے تک یہ دعا پڑھیں۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولاالہ الاللہ واللہ اکبر بعد تیاری قبر سرہانے کی طرف الم تا مفلحون پڑھی جائے پائنتی کی طرف اٰمن الرسول تا اخیر پڑھی جائیں ۔ڈیڑھ گھنٹہ تک قبر پر درود شریف بآواز بلند پڑھا جائے اور ممکن ہو سکے تو تین شب و روز تک بآواز بلند قرآن کریم اور درود پڑھوائے جائیں تاکہ اِس نئے مکان میں دل لگ جائے ۔کفن خلاف سنت نہ ہو میری فاتحہ کا کھانا صرف غرباء کو کھلا یا جائے ۔(الوظیفہ الکریمہ 15)
سیدی اعلیٰ حضرت کی ذہانت کا عالم:ایک روز مولوی صاحب آپ کو قرآن حکیم پڑھا رہے تھے کہ ایک آیت کریمہ میں ایک لفظ بار بار انہیں بتاتے تھے مگر اِن کی زبان سے نکلتا تھا ۔وہ زیر بتاتے مگر اعلیٰ حضرت زبر پڑھتے ۔یہ کیفیت دیکھ کر اِن کے جدا مجد نے انہیں اپنے پاس بلایا اور قرآن حکیم کا نسخہ منگوا کر دیکھا تو اس میں کاتب سے اعراب کی غلطی ہو گئی تھی ۔جسکی تصحیح نہ ہو سکتی تھی ۔جدا مجد نے نسخے میں تصحیح کر دی اور محبت سے پوتے سے پوچھا بیٹا جس طرح مولوی صاحب پڑھاتے تھے کیوں نہیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا میں ارادہ کرتا تھا لیکن کوئی زبان پکڑا تھا ۔ (انوار رضا)
شہنشاہ بریلی بحیثیت مبلغ اعظم اور سادات کا ادب:ایک بار بہت بڑ اافسر جو داڑھی منڈا اور انگریزی لباس میں ملبوس تھا ۔ آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ آپ کے شہزادے حضرت حسنین رضا خان رحمة اللہ علیہ نے اُس کا تعارف کرانا شروع کر دیا کہ یہ کوتوال صاحب ہیں ان کا یہ نام ہے ۔ پھر حسنین میاں نے جب یہ کہا کہ اور یہ سید صاحب بھی ہیں ۔اعلیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ نے جب لفط سید صاحب سنا تو چونک پڑے اور فوراً متوجہ ہو گئے اور پھرنہایت ادب سے گفتگو یوں فرمائی ۔سرکار! آپ کے محکمہ پولیس میں آپ کے اوپر بھی ضرور کچھ افسران ہو نگے ۔ تو یہ ارشاد فرمائیے کہ اُن افسران کی طرف سے جب کوئی ڈاکیا آپ کو اُن کا کوئی پیغام پہنچاتا ہے تو آپ اُسے قبول فرماتے ہیں یا نہیں ؟ اُس نے عرض کیا ۔عالی جاہ کیوں نہیں بڑے افسر جو ہوئے ۔اُن کی حکم عدولی ہم کر ہی نہیں سکتے ۔شہنشاہ بریلی نے پھر نہایت ہی عاجزی اور نرمی کے ساتھ ارشاد فرمایا ۔سرکار ! آپ کے نانا جان حضرت محمد مصطفےٰۖ کو جو تمام انبیاء کے بھی آفسر ہیں ۔اُن کے دربار اقدس کے ایک انتہائی ادنیٰ ڈاکیا کی حیثیت سے میں تمام کائنات کے آفسر اور اللہ عزوجل کی تمام مخلوق کے سرور ۖ کا پیغام آپ کی خدمت میں پہنچا نے کی جسارت کر رہا ہوں ۔حضور والا ! آپ کے نانا جان کا پیغام یہ ہے کہ مونچھیں پست کرو داڑھی بڑھائو اور آتش پرستوں کی مخالفت کرو ۔
پولیس افسر کی آنکھوں سے ٹب ٹب آنسو گر رہے تھے اور مبلغ اعظم امام اہلسنت اسی طرح لباس وغیرہ کی سنتیں بھی بیان فرماتے رہے ۔اُس واقعہ کے چند ماہ بعد وہ پولیس افسر پھر جب امام اہلسنت کی خدمت با برکت میں حاضر ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ اُس کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا اور اب ماشاء اللہ اُس کا پورا چہرا پیارے مصطفےٰۖ کی پیاری پیاری سنت سے جگمگ جگمگ کر رہا تھا ۔ (فیضان سنت )
امام احمد رضا خاں بریلوی رحمة اللّٰہ علیہ کی خصوصی عادات:آپ ہمیشہ بشکل نام اقدس محمد ۖ اس طرح سو یا کرتے تھے کہ دونوں ہاتھ ملا کر سر کے نیچے رکھتے اور پائوں سمیٹ لیتے جس سے سر ”میم” کہنیاں ”ح” کمر ”میم” پائوں ”د” بن کر گویا نام محمد ۖ کا نقشہ بن جاتا۔کتب احادیث پر دوسری کتاب نہ رکھتے اگر کسی حدیث شریف کی ترجمانی فرما رہے ہوتے اور درمیان میں کوئی شخص بات کاٹتا تو سخت کبیدہ اور ناراض ہوتے مجلس میلاد میں ذکر ولادت کے وقت صلوٰة و سلام پڑھنے کے لئے کھڑا ہو جاتے ۔باقی شروع سے آخر تک ادباً دوزانو بیٹھے رہتے ۔ہنسنے میں کبھی ٹھٹھا نہ لگاتے ۔ جماعی آنے پر دانتوں میں انگلی دبا لیتے تاکہ آواز پیدا نہ ہو قبلہ کی طرف منہ کر کے کبھی نہ تھوکتے ۔نہ قبلہ کی طرف پائوں پھیلا تے ۔(سوانح امام احمد رضا)
بارگاہ رسالت میں مقبولیت:25صفر المظفر کو بیت المقدس میں ایک شامی بزرگ نے خواب میں اپنے آپ کو دربار رسالت میں پایا ۔تمام صحابہ کرام اور اولیاء عظام دربارِ اقدس میں حاضر تھے ۔لیکن مجلس میں سکوت طاری تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی آنے والے کا انتظار ہے ۔شامی بزرگ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی حضور میرے ماں باپ آپ پر قربان ۔کس کا انتظار ہے ؟ فرمان رسول ۖ ہوا ۔ہمیں احمد رضا کا انتظار ہے ۔
شامی بزرگ نے عرض کیا حضور احمد رضا کون ہیں ؟ ارشاد ہوا ۔ہندوستان میں بریلی کے باشندے ہیں ۔بیداری کے بعد وہ شامی بزرگ مولانا احمد رضا رحمة اللہ علیہ کی تلاش میں ہندوستان کی طرف چل پڑے اور جب وہ بریلی شریف آئے تو اُنہیں معلوم ہوا کہ اِس عاشق رسول کا اس روز یعنی 25صفر المظفر شریف کو وصال ہو چکا ہے ۔جس روز خواب میں انہوں نے سرکار کائنات کو یہ فرماتے سنا تھا کہ ہمیں احمد رضا کا انتظار ہے ۔(حیات اعلیٰ حضرت)
تاجدار بریلی کا وصال شریف اور مزار شریف:حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمة اللہ علیہ نے اپنی وفات سے چار ماہ بائیس دن پہلے خود اپنے وصال کی خبر دے کر اس آیت قرآن سے سال وفات نکالا۔ ویطاف علیھم باٰنیة من فضة واکواب ۔ترجمہ ۔”اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہو گا۔
25صفر المظفر شریف ۔1340ھ بمطابق نومبر1921ء بروز جمعة المبارک ہندوستان کے وقت کے مطابق دو بجکر اڑتیس منٹ پر عین اذان کے وقت اُدھر مؤذن نے حی علی الفلاح کہا ۔اِدھر روح پر فتوح نے داعی اجل کو لبیک کہا آپ کا مزار شریف بریلی شریف محلہ سوداگراں میں دار العلوم منظر اسلام کے شمالی جانب زیارت گاہ خاص و عام ہے ۔(احکام شریعت صفحہ نمبر8)
ذی وقار حضرات :سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمہ اللہ عنہ واحد وہ شخصیت تھے کہ اگر شرم و حیاء دیکھیں تو اعلیٰ حضرت تاجدار بریلی رحمة اللہ علیہ کی نظروں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔اگر علم وفن کی طرف دیکھیں تو امام اہلسنت کو بفضل الہٰی اور بنگاہِ مصطفےٰ اسی علوم پر بیک وقت دسترس حاصل تھی۔ اگر قوت حافظہ کی طرف نظر دوڑائیں تو مغرب اور عشاء کے درمیان تھوڑے سے وقت میں قرآن ناظرہ پڑھ کر مصلےٰ پر کھڑے ہو کر سیدی احمد رضا خان تراویح پڑھارہے ہیں ۔اگر بحیثیت مبلغ دیکھیں تو حکیمانہ تبلیغ سے بکھڑے ہوئے راہ راست پر آجاتے ہیں ۔اگر ادب کی دنیا میں دیکھیں تو شہنشاہ بریلی سادات کرام کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ادب کرتے ہیں ۔دنیائے اسلام کا ہر فرد بارگاہ الہٰی اور بارگاہ رسالت میں مقبولیت کے خواہاں ہیں لیکن امام اہلسنت وہ شخصیت ہیں کہ حضور تاجدار مدینہ خود حضور تاجدار بریلی کا انتظار کر رہے الغرض عاشق رسول ،مقبول بارگاہِ رسول سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمة اللہ علیہ کی شخصیت ہر لحاظ سے صفِ اول میں ہے آخر میں بارگاہِ ایزدی میں دُعا ہے کہ ہم سب کو حضور تاجدار بریلی رحمة اللہ علیہ جیسے عظیم اعمال کر کے دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کی توفیق سرمدی عطا فرمائے ۔(آمین ثم آمین )

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تاجدار بریلی امام احمد رضا خاں رحمة اللہ علیہ کے فضائل و مناقب” ایک تبصرہ

  1. امام اہلسنت عصر حاضر کے علما ٕ میں سب سے ممتاز عالم دین اور کہنہ مشق فقیہ تھے ، موجودہ زمانے جملہ علما ٕ اہلسنت فتویٰ نویسی کے کام میں آپ کی ہی کتاب سے رجوع لاتے ہیں اور دلیل میں فتویٰ رضویہ جو علم فقہ کا انسایکلو پیڈیا ہے اسی سے مستفید ہوتے ہیں { فقیر محمد علاٶ الدین قادری رضوی میراروڈ ، ممبٸی ، محکمہ شرعیہ سنی دارالافتا ٕ والقضا ٕ

اپنا تبصرہ بھیجیں