131

فالس فلیگ آپریشن، ایجنٹ پرووکیٹیور، بیڈ جیکٹنگ… ڈاکٹر سید انعام حسین

بر صغیر پاک و ہند کے دو بڑے ملک جن کے تعلقات کشیدہ اور اسلحہ خانہ میں نیوکلیئر ہتھیار موجود ہوں تو عالمی دباؤ ان ملکوں کو جنگ کرنے سے روکتا ہے. ایسے میں دونوں ہی ملک اپنی خفیہ اجنسیوں کا بے دریغ استمعال کرتے ہیں. دونوں کا مقصد ایک دوسرے کو نقصان پوھنچانا رہا ہے جس کا خمیازہ دونوں جانب کی عوام کو غربت اور نا خواندگی کی صورت میں بھگنتنا پڑتا رہا ہے. ایسی جنگ کو فورتھ جنریشن وار سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے. اس خفیہ جنگ پر مختص بجٹ کا آڈٹ نا ممکن ہے. لیکن یہ بات قابل ستائش ہے کہ اب پاکستان کی خفیہ اجنسیوں کی پالیسی امن کا فروغ ہو چکا ہے. قارئین، خفیہ حکمت عملیوں کی اصطلاحات کی ایک مکمل فہرست ہے جن میں چند کو اس آرٹیکل میں زیر بحث لایا جا رہا.
.
پاکستان کو اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ پاکستان کا خفیہ ادارہ آئی ایس آئی دنیا کی بہترین انجینسیوں میں سے ایک ہے. یہ دعویٰ ملکی نہیں بلکہ غیر ملکی ادارے کرتے ہیں. پاکستان کو نان نیٹو آلائی کا درجہ اسکی حالیہ امن کے فروغ پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے ملا. مغرب سے عزت اور تکریم اسکی پیشوارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے نصیب ہوئی. گزشتہ بیس برسوں میں پاکستان کی یہ پالیسی کہ دوسروں کی جنگوں میں نہیں جانا بلکہ امن کی خاطر سب اتحادیوں کے ساتھ مل کر رہنے کا بیانیہ بہت سراہا جا رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ اب “ڈو مور” کی جگہ “ویل ڈن” نے لے لی ہے. اس کے برعکس بھارت کی خفیہ اجنسی فالس فلیگ آپریشن، ایجنٹ پرووکیٹیور اور بیڈ جیکٹنگ کی وجہ سے اپنا وقار کھوتی ہوئی نظر آ رہی ہے.
.
قارئین، فالس فلیگ آپریشن ایک ایسا خفیہ ہتھکنڈا ہے جس کے تحت دشمن اپنے فوجی کو مد مقابل کی وردی پہنا کر مقابل فوج میں داخل کر دیتا ہے اور مقابل فوج اسکو اپنا ہی سپاہی سمجھنا شروع ہو جاتی ہے. مقابل کی فوج میں وہ افسران کی ٹوہ میں رہتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کون سی بات سے کس کو بلیک میل کیا جا سکتا ہے. جو کمزور افسر ہوتے ہیں وہ بلیک میل ہونا شروع ہو جاتے ہیں. ایسا عمل کرنے والا ایجنٹ پرووکیٹیور کہلاتا ہے. پھر وہ ان افسران کو اپنے مقصد کے لئے بلیک میل کے زریعہ استمعال کرتا ہے جو بلیک جیکٹنگ کہلاتا ہے. یاد رہے کے اس سارے عمل میں خفیہ اجنسی کا اجنٹ اپنی اصل شناخت خفیہ رکھتا ہے اور مقابل اسکو اپنا ہی ساتھی سمجھتے رہتے ہیں.
.
فالس فلیگ کی دوسری قسم ایسی ہوتی ہے کہ دشمن ملک بعض اوقات اپنا نقصان خود کر کے مقابل کو بدنام کردیتا ہے جس کی حالیہ تاریخ میں دو مثالیں دیکھنے کو آئی ہیں. ایک بمبئی کا حملہ اور دوسرا تازہ ترین پلوامہ کا حملہ. دونوں حملوں کے طریقہ مختلف تھے لیکن مقصد ایک ہی تھا، پاکستان کی بدنامی. اس مقصد میں پہلے والے حملہ میں بھارت نے پاکستان کو بدنام کر کے اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا لیکن دوسرے حملہ میں وہ ناکام رہا تھا اور اس بھارتی ناکامی کی وجہ بر وقت ہماری اجنسیوں کا ہمارے فارن آفس کو مطلع کرنا تھا اور ایک مضبوط خارجہ پالیسی.کی وجہ سے یہ فالس فلیگ آپریشن ناکام ہو گیا.
.
جب کوئی جاسوس کسی مشن پر ہوتا ہے تو وہ اپنی شناخت اپنے ادارہ سے منسلک ہونے کے حوالہ سے کبھی نہیں دیتا. جس دن وہ اپنی شناخت اپنی اجنسی کے حوالہ سے دے گا تو وہ اس جاسوس کا آخری دن ہوگا. ہاں تاریخ میں یہ دیکھنے کو ضرور ملا ہے کہ ایک دشمن کا جاسوس اپنے مد مقابل کی اجنسی سے اپنا تعلق بنتا کر بظاھر مقابل کا ہمدرد لیکن خفیہ طور پر اس کے خلاف کام کرتا ہو. اس کی بڑی مثال جنرل ایروَن رومیل کے انگریز اسٹاف افسر سے ملتی ہے جو اپنے آپ کو گسٹاپو کا اجنٹ ظاہر کر کے سرکاری افسروں کو دھمکایا کرتا تھا.
.
قارئین کرام، فورتھ جنریشن وار میں جاسوسی کی دنیا بہت وسیع ہو چکی ہے. جبکہ ففتھ جنریشن میں سوشل میڈیا ایک انتہائی اہم پیمانہ و اوزار ہے. موجودہ دور میں فورتھ اور ففتھ جنریشن وار کو ایک کومبی نیشن کے تحت استمعال کیا جا رہا ہے. ایسے دور میں خفیہ اجنسیوں میں انتہائی ذہین، ٹھنڈے مزاج اور معملا فہم افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے. فالس فلیگ آپریشن بسٹ کرنا ہو یا ایجنٹ پرووکیٹیور کا کوور رپ آف کرنا ہو تاکہ دشمن کی بلیک جیکٹنگ سے روک تھام ہو سکے؛ پاکستان کی خفیہ اجنسی کی کارکردگی شاندار ہے. ہماری پاکستانی اجنسیوں میں آج کل ایسے ہی باصلاحیت افراد موجود ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کو دنیا بھر سے ستائش ملنا شروع ہو گئی ہے. جو ہمارے لئے انتہائی قابل فخر بات ہے.

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں