205

غیرقانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش ناکام، کشتی ڈوبنے سے 7 تارکین وطن ہلاک

انقرہ(ورلڈ پوائنٹ) غیرقانونی طور پر یورپ جانے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی، بحیرہ اینجیئن میں کشتی کی غرقابی سے 7 تارکین وطن ہلاک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق بہتر مستقبل اور ترقی کی خواہش لیے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن غیرقانونی طور پر پسماندہ ممالک سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے باعث سینکڑوں تاریکن وطن کشتی ڈوبنے یا پھر بارڈر سیکیورٹی اہلکاروں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بحیرہ ایجیئن میں سات تارکین وطن سمندر میں ڈوب گئے، ڈوبنے والوں میں سے دو خواتین تھیں اور پانچ بچے شامل ہیں۔

ترک کوسٹ گارڈز کی جانب سے بروقت کارروائی کے نتیجے میں پانچ تارکین وطن کو بچا لیا گیا تاہم ان کی حالت غیر ہے، مقامی اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ کشتی ڈوبنے کا واقعہ شمال مغربی ترکی کے ساحلی قصبے ایوالیک کے قریب پیش آیا، کشتی پر کُل سترہ افراد سوار تھے، باقی چار مہاجرین اور انسانوں کے ایک اسمگلر کی تلاش جاری ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی ایک اور کوشش جان لیوا ثابت ہوئی تھی، لیبیا کے ساحل پر کشتی ڈوبنے سے درجنوں تارکین وطن ہلاک ہوگئے تھے۔

قبل ازیں 2015 میں غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں سترہ سو سے زائد تارکین وطن بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے جبکہ اسی سال ہی اٹلی کے کوسٹ گارڈز نے ایک بڑا ریسکیو آپریشن کر کے ہزاروں مہاجرین کو ڈوبنے سے بچایا تھا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں