195

میری پیدائش 1975 میں بھی نہیں ہوئی، کتاب میں غلط معلومات لکھ دی گئی ہیں

لاہور (ورلڈ پوائنٹ) شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ میری پیدائش 1975 میں بھی نہیں ہوئی، کتاب میں غلط معلومات لکھ دی گئی ہیں، میری پیدائش سال 1977 میں ہوئی تھی، جب تیز ترین سینچری کا ریکارڈ بنایا تب عمر 16 نہیں بلکہ 19 سال تھی۔ تفصیلات کے مطابق شاہد آفریدی نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے جھوٹ کا اعتراف کر لیا ہے۔ آل راونڈر نے اعتراف کیا ہے کہ 1996 میں جب بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو کیا، تب میری عمر 16 سال نہیں بلکہ 19 سال تھی۔

شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ ان کی کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ان کی پیدائش 1975 میں ہوئی، تاہم یہ معلومات غلط ہیں۔ شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ ان کی پیدائش 1977 میں ہوئی تھی۔ بوم بوم شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں مزید اہم انکشافات کر دئیے ہیں۔

شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں کرکٹ لیجنڈز سمیت کسی کھلاڑی کو نہیں بخشا۔انہوں نے جاوید میانداد، وقار یونس، شعیب ملک سمیت اہم کھلاڑیوں ہر سخت تنقید کی اور اس کے علاوہ اہم رازوں سے بھی پردہ اٹھایا،میڈیا رپورٹس میں بتایا گیاہے کہ شاہد آفریدی نے اپنی کتاب ” گیم چیننجر” میں لکھا ہے کہ پہلا ون ڈے کھیلا تو عمر 16سال نہیں بلکہ 19 سال تھی۔

جاوید میاںداد کو میرے بیٹنگ اسٹائل سے نفرت تھی۔1999 میں چنئی ٹیسٹ سے پہلے نیٹ پریکٹس نہ کرنے دی گئی۔میاںداد کو بڑا کھلاڑی سمجھا لیکن وہ چھوٹے آدمی ہیں۔پریزنٹیشن تقریب میں مجھ سے زبردستی تعریف کروائی گئی۔جب کہ وقار یونس سے متعلق شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ میرے خلاف لابنگ کرتے تھے۔وقار یونس اوسط درجے کے کپتان اور خوفناک کوچ تھے۔

وقار یونس جب کوچ بنے تو ہر معاملے میں مداخلت کی اس لیے ان سے اختلافات رہے۔۔شعیب ملک سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ کپتانی کے لیے فٹ نہیں تھے لیکن ا سکے باوجود ان کو کپتانی دی گئی۔شعیب ملک کانوں کے کچے تھے اور برے لوگوں سے مشورے لیتے تھے۔سلمان بٹ کو نائب کتپان بنانا بھی غلط تھا۔اعجاز بٹ وقار یونس کی باتوں میں آ گئے تھے،شاہد آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کے آپس کے تعلقات ہمیشہ کشمکش کا شکار رہے۔

،شاہد آفریدی نے ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا پہلے سے ہی علم تھا۔مظہر مجید نے فون مرمت کے لیے ایک دکان پر دیا تھا اور اتفاق سے دکان کا مالک میرے دوست کا دوست نکلا،مظہر مجید دکے فون سے پاکستانی کھلاڑیوں کو کیے گئے پیغامات ملے۔ٹیم مینجمنٹ کو ثبوت دکھائے مگر کوئی ایکشن نہ لیا گیا۔میں نے یہ پیغامات وقار یونس سے بھی شئیر کیے۔میجنمنٹ یا تو خوفزدہ تھی یا پھر اسے ملک کے وقار کا خیال تھا۔یاور سعید نے پیغامات دیکھ کر بے بسی کا اظہار کیا۔یاور سعید نے مجھ سے پیغامات کی کاپی مانگنے کی بھی زحمت نہ کی۔عبدالرزاق نے بھی سلمان بٹ، محمد عامر اور آصف پر شک کا اظہار کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں